Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

سماعِ موتی کی بحث اور احکامِ ارواح (قسط: سولہویں) مصنف اعظم نمبر

سماعِ موتی کی بحث اور احکامِ ارواح (قسط: سولہویں)
عنوان: سماعِ موتی کی بحث اور احکامِ ارواح (قسط: سولہویں)
تحریر: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ
پیش کش: مہرتاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

سماعِ موتی کی بحث اور احکامِ ارواح

غزوہ بدر کے اختتام پر جب مشرکینِ مکہ کی لاشیں بدر کے کنویں میں ڈال دی گئیں، تو حضور اقدس ﷺ نے کنویں کی منڈیر پر تشریف لا کر ایک ایک کا نام لے کر خطاب فرمایا: "فإنا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقاً فهل وجدتم ما وعد ربكم حقاً" (بیشک ہم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا، تو کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟)۔ اس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ مردوں سے خطاب فرما رہے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ما أنتم بأسمع لما أقول منهم" یعنی تم میری بات کو ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو۔

عقیدہ اہلِ سنت اور اعلیٰ حضرت کی تحقیق

اسی مقام سے 'سماعِ موتی' (مردوں کے سننے) کی علمی بحث کا آغاز ہوتا ہے۔ اہلِ سنت کے نزدیک سماعِ موتی ایک مسلمہ حقیقت ہے، جبکہ معتزلہ اور وہابیہ جیسے منکرین قرآنی آیت ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾ سے غلط استدلال کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے اس مسئلے پر مایہ ناز تحقیقات پیش کیں اور عقیدہ اہلِ سنت کو یوں واضح فرمایا:

”عام اموات احیا کو دیکھتے، ان کا کلام سنتے سمجھتے ہیں، سماع موتی حق ہے، پھر اولیا کی شان تو ارفع و اعلیٰ ہے۔“

اعلیٰ حضرت نے 1305ھ میں اس موضوع پر ایک مستقل اور جامع رسالہ ”حياة الموات في بيان سماع الأموات“ تصنیف فرمایا، جس میں انہوں نے منکرین کے تمام شکوک و شبہات کا تفصیلی اور مسکت جواب دیا۔

منکرین کے استدلال کے تین اصولی جوابات

آیتِ کریمہ ”إنك لا تسمع الموتى“ سے منکرین کے استدلال کو رد کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت نے تین بنیادی جوابات دیے:

  • پہلا جواب (نفیِ اسماع): آیت میں 'اسماع' (سنانے) کی نفی ہے، 'سماع' (سننے) کی نفی نہیں ہے۔ یعنی مردوں کا سننا تمہاری قدرت سے نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی عطا سے ہے، جیسا کہ فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ﴾۔
  • دوسرا جواب (سماعِ قبول کی نفی): یہاں سماع سے مراد 'سماعِ قبول و انتفاع' (بات ماننا اور فائدہ اٹھانا) ہے۔ جیسے کوئی باپ اپنے نافرمان بیٹے کے لیے کہے کہ وہ میری نہیں سنتا، تو مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ بات مانتا نہیں، نہ یہ کہ اس کے کان کام نہیں کرتے۔
  • تیسراجواب (ابدان سے نفی): اگر نفی مراد بھی ہو تو یہ صرف قبر میں موجود ابدان (جسموں) سے ہے، کیونکہ روح کبھی نہیں مرتی۔ مومنین کی روحیں علیین یا جنت میں اور کفار کی روحیں سجین یا وادیِ برہوت میں ہوتی ہیں۔

اس رسالے میں اعلیٰ حضرت نے 60 احادیثِ طیبہ، 175 جلیل القدر علمائے کرام کے نام، 200 سے زائد علمائے امت کی عبارات، اور وہابیہ کے اسکات کے لیے خاندانِ ولی اللہی کے بزرگوں کے 105 اقوال پیش کیے۔ اسی موضوع پر آپ نے 1316ھ میں ”الوفاق المتين بين سماع الدفين وجواب اليمين“ بھی تحریر فرمایا۔

ارواح کا زندہ رہنا اور گھروں پر آنا

سماعِ موتی کا اصل مدار روح کے باقی رہنے پر ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ موت فنائے روح کا نام نہیں بلکہ جسم سے روح کی جدائی ہے اور روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے: "إنما خلقتم للأبد"۔

کفار کی ارواح سجین میں مقید ہوتی ہیں جبکہ مومنین کی ارواح آزاد ہوتی ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے: "إذا مات المؤمن يخلى سربه حيث شاء" (مومن جب مرتا ہے تو اس کی راہ کھول دی جاتی ہے، جہاں چاہے جائے)۔ اسی موضوع پر اعلیٰ حضرت نے 1321ھ میں رسالہ ”اتيان الأرواح لديارهم بعد الرواح“ تحریر فرمایا، جس میں ثابت کیا کہ ارواحِ مومنین عید، جمعہ، عاشورہ اور شبِ برات جیسے ایام میں اپنے گھروں کو آتی ہیں اور دعا و ایصالِ ثواب کی طلب گار ہوتی ہیں۔

خلیل احمد انبیٹھوی (مصنفِ براہینِ قاطعہ) کے اس اعتراض پر کہ یہ عقائد کا مسئلہ ہے اور اس کے لیے صحاح و متواتر روایات کی ضرورت ہے، اعلیٰ حضرت نے زبردست رد کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مسئلہ نہ بابِ عقائد سے ہے اور نہ بابِ حلال و حرام سے (بلکہ فضائل و اخبار سے ہے)۔ اگر کوئی اس پر جزم و یقین نہ رکھے تو خیر ہے، لیکن اگر کوئی قطعی نفی کا دعویٰ کرے کہ روحیں بالکل نہیں آتیں، تو وہ جھوٹا کذاب ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!