| عنوان: | ملائکہ کے متعلق عقیدہ (قسط: پندرہویں) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری / طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مہر تاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
ملائکہ کے متعلق عقیدہ
ملائکہ (فرشتوں) پر ایمان لانا اسلام کے بنیادی ایمانیات میں سے ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے اپنے عقائدی رسالے ”اعتقاد الاحباب“ (مطبوعہ فتاویٰ رضویہ، جلد 29) میں ملائکہ مقربین کی عظمت، ان کے مراتب اور ان کے متعلق شرعی احکام کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔
ملائکہ مقربین کا بلند مرتبہ اور حکمِ گستاخی
اعلیٰ حضرت کے بیان کردہ عقائد کے مطابق، کائنات میں انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے بعد سب سے اعلیٰ اور برگزیدہ طبقہ ملائکہ مقربین کا ہے:
- ملائکہ مقربین کی مقتدر ہستیاں: ان مقرب فرشتوں میں حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، حضرت اسرافیل، حضرت عزرائیل علیہم السلام اور حملہ عرش (عرشِ الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے) شامل ہیں۔
- اولیاء سے موازنہ: ان ملائکہ مقربین کی شان و رفعت اور علوِ مکان اتنی بلند ہے کہ امت کا کوئی بھی بڑے سے بڑا ولی (خواہ وہ کسی بھی مرتبۂ ولایت پر فائز ہو) ان کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔
- توہین کا شرعی حکم: فرشتوں کی تعظیم واجب ہے؛ چنانچہ جس طرح انبیاءِ کرام علیہم السلام کی ادنیٰ توہین کفرِ قطعی ہے، بالکل اسی طرح ملائکہ مقربین کی ادنیٰ توہین و گستاخی کرنا بھی کفرِ قطعی ہے۔
سیدنا جبرائیل علیہ السلام کا خاص مقام
حضرت جبرائیل علیہ السلام کے متعلق اعلیٰ حضرت ایک خاص علمی و کلامی نکتہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
سیدنا جبرائیل علیہ السلام 'من وجہ' (ایک اعتبار سے یعنی وحی الٰہی پہنچانے کے واسطے سے) رسول اللہ ﷺ کے استاد ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا: ﴿عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوى﴾ (اسے سکھایا سخت قوتوں والے نے)۔ لیکن حضور پرنور ﷺ کی ذاتِ گرامی کے سوا، وہ کائنات کی دیگر تمام مخلوقات، اولیاء اور صالحین کے خادم ہیں۔
