| عنوان: | شہادت حضرت قاسم رضی اللہ عنہ |
|---|---|
| تحریر: | فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار، نیپال گنج |
ہاشمی خاندان کے ایک مہکتے ہوئے پھول حضرت قاسم رضی اللہ عنہ جو حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے فرزند ہیں، ان کی عمر انیس سال ہے اور ان کی شادی کا رشتہ امام عالی مقام کی صاحبزادی سکینہ سے طے ہو چکا ہے۔ وہ حضرت کی خدمت میں دستِ بستہ کھڑے ہیں اور راہِ حق میں اپنی جان قربان کرنے کے لیے اجازت طلب کر رہے ہیں، امام نے فرمایا: “بیٹا! تم میرے بھائی حسن مجتبیٰ کی یادگار ہو میں کس طرح تمہیں تیروں سے چھلنی ہونے اور تلواروں سے کٹنے کی اجازت دوں؟” عرض کیا: “چچا جان! مجھے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت ضرور دیجیے اور مجھے اپنے اوپر قربان ہونے کی سعادت سے محروم نہ کیجیے۔” جب حضرت قاسم نے بہت اصرار کیا تو امام پاک نے روتے ہوئے انہیں اپنے سینے سے لگایا اور رخصت کر دیا۔
دشمن کے ایک سپاہی کا بیان ہے کہ جب آپ میدانِ جنگ میں آئے تو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے چاند کا ایک ٹکڑا سامنے نمودار ہو گیا، ان کے جسم پر زرہ بھی نہ تھی بلکہ صرف ایک پیراہن پہنے ہوئے شوقِ شہادت کے جوش سے میدان میں آ گئے۔ اور یزیدی لشکر سے فرمایا: “اے دین کے دشمنو! میں قاسم بن حسن بن علی ہوں، جسے میرے مقابلے میں بھیجنا ہو بھیجو۔” عمرو بن سعد نے ملکِ شام کے ایک نامی گرامی پہلوان ارزق سے کہا: “تم اس کے مقابلے میں جاؤ۔” اس نے کہا: “میں ہرگز نہیں جا سکتا کہ بچے کے مقابلے میں جانا ہماری توہین ہے۔” ابن سعد نے کہا: “تم اسے بچہ نہ جانو، یہ حسن کا بیٹا اور فاتحِ خیبر کا پوتا ہے۔ اس کا مقابلہ آسان نہیں ہے۔” اس نے کہا: “کچھ بھی ہو، میں ایسے بچے کے مقابلے میں نہیں جا سکتا، البتہ میرے چار بیٹے یہاں موجود ہیں ان میں سے ایک کو بھیج دیتا ہوں ابھی ایک منٹ میں اس کا سر کاٹ کر لے آئے گا۔”
ارزق کا بڑا بیٹا زہر میں بجھی ہوئی قیمتی تلوار چمکاتا ہوا اور بادل کی طرح گرجتا ہوا میدان میں آیا اور پہنچتے ہی حضرت قاسم پر وار کیا۔ آپ نے اس کے وار سے بچ کر ایسی تلوار ماری کہ وہ ایک ہی تلوار میں ڈھیر ہو گیا۔ آپ نے لپک کر اس کی تلوار اٹھا لی۔ اب ارزق کا دوسرا بیٹا اپنے بھائی کو خاک و خون میں تڑپتا دیکھ کر غصے میں بھرا ہوا سامنے آیا۔ آپ نے پہلے ہی وار میں نیزہ مار کر اسے بھی جہنم میں پہنچا دیا۔ اب تیسرا بھائی غیظ و غضب میں بھرا ہوا آگے بڑھا اور گالیاں بکنے لگا۔ آپ نے فرمایا: “ہم گالیوں کا جواب گالیوں سے نہیں دیتے کہ یہ اہلِ بیتِ نبوت کی شان کے خلاف ہے، البتہ ہم تجھے تیرے بھائیوں کے پاس ابھی جہنم میں پہنچا دیتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے آپ نے اسے بھی کھیرے کی طرح کاٹ کر دو ٹکڑے کر دیا۔ اب ارزق کا چوتھا بیٹا شیر کی طرح گرجتا ہوا حضرت قاسم پر حملہ آور ہوا، آپ نے اس کے وار کو بیکار کر دیا اور اس کے کندھے پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ منہ کے بل زمین پر آ گیا اور پھر پوری طاقت کے ساتھ اٹھنا ہی چاہتا تھا کہ آپ نے اس کے سر کو جسم سے الگ کر دیا۔
جب ہاشمی بہادر نے چند منٹوں میں ارزق کے چاروں بیٹوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اس کے سارے غرور کو خاک میں ملا دیا تو وہ غصے سے کانپنے لگا اور جن کے مقابلے میں آنا پہلے وہ اپنی توہین سمجھتا تھا اب ان سے لڑنے کے لیے بے قرار ہو گیا۔ ہاتھی کی طرح چنگھاڑتا اور شیر کی طرح دھاڑتا ہوا میدان میں آ کر حضرت قاسم کو للکارا کہ: “لڑکے تیار ہو جاؤ، موت تمہارے سر پر آ گئی۔” آپ نے فرمایا: “ارزق! ہوش کی دوا کر۔ تو اوروں کے لیے طاقت کا پہاڑ ہو گا، ابھی تو نے ہاشمی بہادروں کو نہیں دیکھا ہے۔ ہماری رگوں میں شیرِ خدا کا خون ہے، تو ہمارے نزدیک مکھی اور مچھر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔” ارزق یہ طعنہ سن کر اور بھی آگ بگولہ ہو گیا اور حضرت قاسم پر نیزے سے حملہ کر دیا۔ آپ نے اس کے وار کو بیکار کر دیا، پھر آپ نے بھی نیزے سے وار کیا جو خالی گیا۔ اس طرح دونوں طرف سے کچھ دیر نیزہ بازی ہوئی، اس کے بعد ارزق نے تلوار کھینچی تو آپ نے بھی تلوار نکال لی۔ اس نے جب آپ کے ہاتھ میں اپنے بیٹے کی تلوار دیکھی تو کہا: “یہ تلوار تو ہمارے لڑکے کی ہے، تمہارے پاس کہاں سے آ گئی؟” آپ نے ہنس کر فرمایا: “تیرا بیٹا مجھے یادگار کے طور پر یہ تلوار اس لیے دے گیا ہے تاکہ میں تجھے اسی سے موت کے گھاٹ اتار کر تیرے بیٹوں کے پاس پہنچا دوں۔” یہ سن کر ارزق غصے سے بھر گیا اور حضرت قاسم پر حملہ کرنا ہی چاہتا تھا کہ آپ نے الْحَرْبُ خُدْعَةٌ کے پیشِ نظر فرمایا کہ: “ارزق! ہم تو تجھے نہایت تجربه کار بہادر سمجھتے تھے لیکن تو نہایت اناڑی ہے کہ گھوڑے کی زین کسنے کا بھی سلیقہ نہیں رکھتا۔” آپ کے اس طرح فرمانے پر جب وہ جھک کر اپنے گھوڑے کی زین دیکھنے لگا تو اسی وقت آپ نے تلوار کا ایسا بھرپور وار کیا کہ وہ دو ٹکڑے ہو کر زمین پر آ گیا۔
گرا فولاد کا ٹکڑا زمیں پر سرنگوں ہو کر
تکبر بہ گیا زخموں کے رستے موجِ خوں ہو کر
حضرت قاسم رضی اللہ عنہ ارزق کے گھوڑے پر سوار ہو گئے اور خیمے کی طرف آ کر حضرت امام کی خدمت میں عرض کیا: “يَا عَمَّاهُ الْعَطَشُ الْعَطَشُ۔ اے چچا جان! پیاس، پیاس۔ چچا جان! اگر ہمیں تھوڑا سا پانی پینے کو مل جائے تو ابھی ہم ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دیں۔” امام عالی مقام نے فرمایا: “بیٹا! تھوڑی دیر اور صبر کرو، عنقریب تم نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے جامِ کوثر پی کر سیراب ہو جاؤ گے اس کے بعد تمہیں کبھی پیاس نہیں ستائے گی۔” حضرت قاسم پھر میدان کی طرف پلٹ پڑے۔ ابن سعد نے کہا: “اس نوجوان نے ہمارے کئی نامی گرامی جوانوں کو قتل کر دیا ہے لہٰذا اب اس کے مقابلے میں تنہا نہ جاؤ، اسے چاروں طرف سے گھیر کر قتل کر دو۔” دشمنوں نے آپ کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا اور گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔ آپ کے جسم پر 27 زخم آئے۔ آخر میں شیث بن سعد نے آپ کے سینے پر ایسا نیزہ مارا کہ آپ گھوڑے سے گر پڑے اور “يَا عَمَّاهُ أَدْرِكْنِي” پکارا، یعنی اے چچا جان! میری خبر گیری فرمائیے۔ امام اپنے بھتیجے کی دردناک آواز سن کر دوڑ پڑے۔ دیکھا کہ جسمِ نازنین زخموں سے چور ہے، آپ نے ان کے سر کو گود میں لے لیا اور چہرۂ انور سے گرد و غبار صاف کرنے لگے۔ اتنے میں حضرت قاسم نے آنکھیں کھول دیں اور اپنا سر امام پاک کی گود میں پا کر مسکرائے پھر آپ کی روح پرواز کر گئی۔ رضی اللہ عنہ [خطبات محرم، ص: 410]
