| عنوان: | زکوۃ: روح کی طہارت اور مال کی برکت |
|---|---|
| تحریر: | سید مبارک امجدی ضیائی |
| پیش کش: | سیدہ آمنہ جیلانی ونقشبندی |
| منجانب: | جامعہ فاطمۃ الزہراء، گجرات |
زکوۃ اسلام کے ان بنیادی ارکان میں سے ہے جن پر پوری عمارت دین قائم ہے، ایمان کے بعد نماز اور نماز کے بعد زکوۃ کا ذکر قرآن کریم میں بار بار اس لیے آیا ہے کہ یہ محض مال کا ٹیکس نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، معاشرے کی اصلاح اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے، زکوۃ کی فرضیت انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ مال حقیقی معنوں میں کسی کا اپنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور وہی مالک حقیقی ہے، انسان صرف اس کا امین ہے۔
جب اللہ نے مال عطا فرمایا تو اس میں ایک حصہ غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بے سہارا لوگوں اور معاشرے کے کمزور طبقوں کے نام رکھا، تا کہ ایک مسلمان کبھی اپنے مال کو صرف اپنا نہ سمجھے، بلکہ اس کی تقسیم میں اللہ کے مقرر کردہ حقوق کا خیال رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے زکوۃ کو ایمان کی علامت قرار دیا اور اس کے ادا نہ کرنے پر سخت وعیدیں بھی سنائیں، کیونکہ یہ فریضہ ادا نہ کرنے والا صرف غریبوں کا حق نہیں کھاتا بلکہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے اور اپنے مال کو وبال اور بد نصیبی کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔
زکوۃ کا فلسفہ یہ ہے کہ معاشرہ ایک جسم کی مانند ہے۔ اگر ایک عضو کمزور ہو تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے۔ جب مالدار لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، تو یہ صرف ضرورت مندوں کی مدد نہیں ہوتی بلکہ اس سے خود صاحب مال کے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے۔ وہ مال جو اللہ کی راہ میں نکالا جائے وہ کبھی کم نہیں ہوتا، بلکہ صدقہ وخیرات انسان کی زندگی میں وسعت، سکون اور قلبی اطمینان کا باعث بنتا ہے۔
زکوۃ کے مصارف قرآن نے خود متعین کیے: فقرا، مساکین، بے روزگار، قرض دار، مسافر، وہ لوگ جن کے پاس گزر بسر کا سامان نہ ہو۔
تقسیم اس لیے ہے تا کہ نفع صرف ایک طبقے تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے کے ہر اس فرد تک پہنچے جو واقعی محتاج ہو۔
یہ اصول بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زکوۃ کو کسی فرد واحد یا تنظیم کے حوالے کرتے وقت اس بات کا اطمینان ضروری ہے کہ اس کے ذریعے مستحقین تک حق صحیح طور پر پہنچے؛ کیونکہ زکوۃ اللہ تعالیٰ کا مقدس حکم ہے، اسے لا پرواہی سے یا غلط جگہ صرف کرنا اپنی ذمہ داری کو ضائع کرنا ہے۔ رمضان کے مہینے میں زکوۃ دینے کا رواج اس لیے بڑھ جاتا ہے کہ یہ مہینہ اللہ کی رحمتوں، برکتوں اور اجر کے کئی گنا بڑھنے کا مہینہ ہے۔
دلوں کی نرمی، عبادت کا شوق، خیر و برکت کا نزول سب کچھ رمضان میں زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ مہینہ گناہوں سے نجات، نفس کے تزکیے، روح کی پاکیزگی اور اللہ کی قربت کا مہینہ ہے، جب بندے کے اندر نیکی کا شوق بڑھتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام معاملات اللہ کی خوشنودی کے مطابق ہو جائیں، اسی لیے لوگ اسی ماہ میں زکوۃ ادا کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔
اس کا ایک عملی فائدہ یہ بھی ہے کہ رمضان میں غربت اور ضرورت کے احساسات زیادہ نمایاں ہوتے ہیں اور لوگ افطار، سحر، کپڑوں اور گھریلو ضروریات کے لیے زیادہ پریشان ہوتے ہیں؛ اس وقت دی گئی زکوۃ کسی ایک گھر کی نہیں ہزاروں گھروں کی خوشیوں کا سبب بنتی ہے، لیکن یہ خیال بھی ضروری ہے کہ اگر کسی کا نصاب پہلے مکمل ہو چکا ہو تو زکوۃ رمضان کا انتظار کیے بغیر بھی ادا کرنا لازم ہے؛ ہاں حساب رمضان میں کرنا سہولت کی وجہ سے مستحسن ہے۔
افسوس کہ آج بہت سے مسلمان زکوۃ میں کوتاہی کرتے ہیں، کچھ لوگ اسے چندہ سمجھ لیتے ہیں، کچھ لوگ اس کا حساب غلط لگاتے ہیں، کچھ اس کی ادائیگی کو ٹالتے رہتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے مال میں اللہ کا مقرر کردہ حق نکالنے پر تنگ دل ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ زکوۃ نہ دینے والا صرف غریب کا دشمن نہیں بلکہ اپنے مال اور اپنی آخرت کا بھی دشمن ہوتا ہے۔ زکوۃ میں سستی برکتیں سلب کردیتی ہے، رزق میں تنگی پیدا کرتی ہے، دل کو سخت کر دیتی ہے اور انسان کو بے حسی کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے، وہ مال جس میں غریب کا حق دبایا جائے وہ کبھی خوشی کا ذریعہ نہیں بنتا، نہ دنیا میں سکون دیتا ہے اور نہ آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زکوۃ ادا کرنے والا اپنے مال کو کم نہیں کرتا بلکہ اللہ کے وعدے کے مطابق اسے بڑھاتا ہے، کیونکہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اسے کئی گنا زیادہ عطا فرماتا ہے، اے اہلِ ایمان! سوچو کہ اللہ نے تمہیں کس حال سے نکالا تھا اور کہاں پہنچایا، کیا یہ سب کچھ صرف تمہاری محنت کا نتیجہ ہے؟ اگر اللہ نہ چاہتا تو ایک لمحے میں ساری نعمتیں واپس لے لیتا، آج تمہیں جو کچھ عطا ہے وہ اللہ کی امانت ہے اور اس امانت کو صحیح جگہ پہنچانا تمہاری ذمہ داری ہے۔
غریبوں، یتیموں، بیواؤں، مسکینوں، بے روزگاروں اور قرض کی دلدل میں پھنسے لوگوں کی آنکھوں میں اپنے لیے اللہ کی رحمت کا رزق تلاش کرو، ان کی فریادیں تمہیں اپنی ذمہ داری یاد دلاتی ہیں۔ ان کے دکھ تمہیں اللہ کے حکم کی طرف متوجہ کرتے ہیں، اگر تم اپنی زکوۃ صحیح جگہ نہیں پہنچاتے تو یہ صرف ان کا نقصان نہیں بلکہ تمہاری روحانی زندگی کا نقصان ہے، آخر میں اہل ایمان کے لیے یہی نصیحت کافی ہے کہ زکوۃ کو معمولی نہ سمجھیں۔ یہ فریضہ امت کے اتحاد، معاشرتی توازن، روحانی پاکیزگی اور اخوت و محبت کے فروغ کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے، خوش دلی سے ادا کریں، صحیح مصرف ڈھونڈیں، غریبوں کے دکھ سمیٹیں، ان کا حق ان تک پہنچائیں اور اللہ کے نزدیک محبوب بندوں میں شامل ہو جائیں۔ یہ چند روپے شاید آپ کے لیے معمولی ہوں، مگر کسی غریب کے لیے عزت نفس کی حفاظت، گھر کی خوشی، بچوں کے چہرے کی مسکراہٹ اور دل کی امید بن سکتے ہیں۔
اپنے دل کو نرم رکھیں، اللہ کے حکم کو یاد رکھیں اور وہ بنیں جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ اللہ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہے۔ یہی زکوۃ کا حقیقی پیغام ہے محبت، خیر خواہی اور انسانیت کی روشنی سے دنیا کو جگمگانا ہے، حق تعالیٰ ہمیں ادائے زکوۃ و اتباع رسول اعظم کی توفیق عطا فرمائے اور مستحقین کا حق ان تک پہنچانے کی توفیق دے، آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
