Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

فضائل حسنین کریمین|عمران رضا عطاری مدنی

فضائل حسنین کریمین
عنوان: فضائل حسنین کریمین
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی
پیش کش: مجمع التصانیف

فضائل حسنین کریمین

نواسے تو دنیا میں بے شمار لوگوں کے ہوئے ہیں، مگر کائنات میں جو عظمت، رفعت اور شرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں کو حاصل ہے، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہیں خاتم النبیین، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش تربیت نصیب ہوئی، جن کے لبوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسے دیے، جن کے لیے دعائیں فرمائیں اور جن سے اپنی بے پایاں محبت کا بارہا اظہار فرمایا۔

ان پاکیزہ نفوس کا نام آتے ہی اہلِ ایمان کے سر ادب و عقیدت سے جھک جاتے ہیں، دل محبت سے لبریز ہوجاتا ہے اور زبان بے اختیار “رضی اللہ عنہما” کے مبارک کلمات سے تر ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں حضرات نہ صرف اہلِ بیت اطہار کے درخشاں ستارے ہیں بلکہ امت مسلمہ کے لیے ہدایت، تقویٰ، صبر، ایثار اور قربانی کا روشن نمونہ بھی ہیں۔ آئیے ان کے فضائل پر مشتمل چند احادیث پڑھتے ہیں۔

[1] اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ.

ترجمہ: حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔

[2] هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِي، اَللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا.

یہ دونوں میرے بیٹے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما، اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما۔

[3] إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا.

بے شک حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دنیا میں میرے دو خوشبودار پھول ہیں۔

امام اہل سنت امام احمد رضا قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک شعر میں اس بات کو بڑے خوب صورت انداز میں ذکر کرتے ہوئے دعا کی ہے، نظر فرمائیں!

ان دو کا صدقہ جن کو کہا میرے پھول ہیں
کیجے رضا کو حشر میں خنداں مثال گل

یعنی یا اللہ! اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان دو نواسوں، امام حسن اور امام حسین کے صدقے، جنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے “پھول” فرمایا۔ قیامت کے دن اپنے فضل و کرم سے رضا (احمد رضا) کو اس طرح خوش و خرم، مسرور اور شاداں رکھنا جیسے تازہ کھلا ہوا پھول شگفتہ ہوتا ہے۔

[4] سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ: ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ، فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: آپ کو اپنے اہلِ بیت میں سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن اور حسین۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کرتے تھے: “میرے دونوں بیٹوں کو میرے پاس لاؤ۔” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سونگھتے، پیار کرتے اور اپنے سینے سے لگا لیتے تھے۔ [سنن ترمذی، ج: 5، ص: 113 تا 116]

مولانا ارشد علی مدنی نے اشعار کی صورت میں امام حسین کی منقبت بڑے اچھوتے انداز میں بیان کی:

دن رات جگمگاتی ہے طلعت حسین کی
سرکار کو پسند ہے صورت حسین کی

محبوب مصطفیٰ کا محب حسین ہے
دل میں خدا بڑھائے محبت حسین کی

قارئین محترم! جن مقدس ہستیوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم محبت فرمائیں، ان سے محبت کرنا درحقیقت اللہ و رسول کی محبت کا تقاضا ہے۔ بالخصوص حضرات سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما، جن سے محبت کرنے والوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کی بشارت آئی ہے، ان سے سچی اور بے لوث محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی محبت کو اپنے دلوں میں راسخ کریں، ان کے فضائل و مناقب کو عام کریں اور خصوصاً ماہِ محرم الحرام میں ان کے ذکر و سیرت کی محافل منعقد کریں۔ نیز ان کے ایصال ثواب کی نیت سے لوگوں میں کھانے پینے کی اشیاء تقسیم کریں، لنگر کا اہتمام کریں، پیاسوں کو پانی اور شربت پلائیں، اور ہر طرف حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے پاکیزہ تذکرے کو عام کرنے کی کوشش کریں، تاکہ ان کی محبت ہمارے دلوں میں بھی تازہ رہے اور آنے والی نسلوں تک بھی منتقل ہوتی رہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!