| عنوان: | یوم عرفہ کا روزہ آپ بھی رکھیں! |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
اللہ تعالیٰ کا کرم لا محدود، رب رحیم کا رحم بھی بے شمار، خداوند متعال کی شان عطا بھی شمار سے باہر۔ قربان جائیے! اس رب لم یزل کی شان عطا پر کہ اس نے ہمیں اپنے گناہوں کو بخشوانے کے بے شمار اسباب و ذرائع عطا فرمائے، خواہ مکمل گناہوں کی بخشش ہو یا سال و مہینے کے گناہوں کی۔ انہی میں سے ایک سبب یوم عرفہ کا روزہ بھی ہے۔ یاد رکھیں! جہاں ہم فرض روزوں کی پابندی کی کوشش کرتے ہیں، وہیں ہمیں چاہیے کہ نفل روزے بھی وقتاً فوقتاً رکھ لیا کریں۔ کتب حدیث میں بے شمار نفل روزے بیان کیے گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک نفل روزہ یوم عرفہ کا روزہ بھی ہے۔
کون نہیں جو یہ چاہے کہ اس کے ایک سال قبل و بعد کے گناہ معاف ہو جائیں۔ اس کا ایک ذریعہ یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ شریف کا روزہ رکھنا بھی ہے۔
ایک سال قبل و بعد کے گناہ معاف
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہم گناہگار امتیوں کے نام:
“مجھے اللہ پاک پر گمان ہے کہ عرفہ (یعنی 9 ذوالحجہ شریف) کا روزہ ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دیتا ہے۔” [صحیح مسلم، ص: 590، رقم الحدیث: 196]
یوم عرفہ دو سال جبکہ یوم عاشوراء ایک سال
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَوْمُ عَرَفَةَ كَفَّارَةُ سَنَتَيْنِ، سَنَةٍ قَبْلَهُ، وَسَنَةٍ بَعْدَهُ، وَصَوْمُ عَاشُورَاءَ كَفَّارَةُ سَنَةٍ. [السنن الكبرى للبيهقي]
ترجمہ: حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “یوم عرفہ کا روزہ دو سال یعنی ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ ہے، اور یوم عاشوراء کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔”
محترم قارئین کرام!
اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک مہینہ عطا فرمایا ہے، اس کی قدر کرتے ہوئے کم از کم ایک روزہ یوم عرفہ کا ہی رکھ لیں اور اپنے ایک سال قبل و بعد کے گناہوں کو مٹانے میں کامیاب ہو جائیں! ویسے ہمیں کیا خبر کہ اگلے سال یہ مبارک دن نصیب ہو! لہٰذا اس مبارک موقع کو غنیمت جانیں اور کل کا دن چونکہ یوم عرفہ ہے تو اس کا روزہ بھی رکھیں۔ اس دن میں جہاں روزے رکھیں، وہیں یہ بھی کوشش کریں کہ اس دن کو خوب خوب عبادت کے ساتھ، نوافل اور ذکر و اذکار، تسبیح و تحلیل کے ساتھ گزاریں۔ خوب خوب پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھی پڑھیں۔ اپنے گناہوں سے صحیح معنوں میں توبہ بھی کر لیں۔ ہو سکے تو دس ذوالحجہ کو شب بیداری کرتے ہوئے گزاریں اور اپنے لیے نجات اخروی کا سامان بننے والی چیزوں کا خوب اہتمام کریں، جیسا کہ تلاوت قرآن کرنا، نوافل کی کثرت وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
