Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ترکستانِ شرقی: تاریخ اور حقائق|محمد سہیل

ترکستانِ شرقی
عنوان: ترکستانِ شرقی
تحریر: محمد سہیل
پیش کش: نازیہ ظفر بنت محمد شہاب الدین
منجانب: لباب اکیڈمی

جب ہم اسلامی تاریخ کے پڑاؤ پر نظر ڈالتے ہیں تو ترکستانِ شرقی (East Turkestan) ایک ایسی سرزمین کے طور پر سامنے آتی ہے جو نہ صرف جغرافیائی طور پر وسیع ہے، بلکہ اپنی تہذیب، ایمان اور جدوجہد کے اعتبار سے بھی بے مثال ہے۔ آج جس علاقے کو چین “سنکیانگ” کہتا ہے، وہ کبھی عظیم ترک اسلامی سلطنتوں کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

یہ خطہ تقریباً 17 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یعنی آج کے پاکستان سے دوگنا بڑا، اور چین کے رقبے کا پانچواں حصہ!

اسلام کا آغاز

اسلام یہاں پہلی صدی ہجری میں اس وقت پہنچا جب اموی سپہ سالار قتیبہ بن مسلم الباہلی نے مشرقی فتوحات کا سلسلہ وسیع کیا۔ اسلام کا پیغام جب ان وادیوں میں پہنچا تو مقامی آبادی نے نہ صرف اسے قبول کیا بلکہ اسے اپنی تہذیب کا مرکز بنا لیا۔ چوتھی صدی ہجری میں ستوق بغراخان کا اسلام قبول کرنا اس خطے کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ یہ وہی دور تھا جب قراخانی ترکوں نے اسلام کو بطور ریاستی مذہب اختیار کیا، اور ترکستانِ شرقی ایک طاقتور اسلامی سلطنت بن کر ابھرا۔ یہ خطہ تقریباً ایک ہزار برس تک مختلف اسلامی ریاستوں کے زیر نگین رہا، جن میں: قراخانی سلطنت، چغتائی ریاست، یعقوب بیگ کی ریاست، ایغور خانیت شامل ہیں۔

قراخانی سلطنت (840–1212ء)

قراخانی ترک پہلی مسلم ترک سلطنت تھے جنہوں نے وسطی ایشیا میں اسلام کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا۔ یہی سلطنت ہے جس کے حکمران ستوق بغراخان نے اسلام قبول کر کے پورے خطے میں اسلامی قانون نافذ کیا۔ قراخانی دور میں مدارس، مساجد، کارواں سرائیں، اور تجارت کے بڑے راستے تعمیر ہوئے، جنہوں نے ترک تہذیب کو عروج دیا۔ یہی دور تھا جب کاشغر علم وفن کی عظیم بستی بن کر ابھرا۔ قراخانیوں نے تقریباً چار صدیوں تک ترکستان کو اسلامی دنیا سے جوڑے رکھا۔

چغتائی ریاست (1227–1680ء)

چغتائی ریاست منگول سردار چغتائی خان کی اولاد نے قائم کی، مگر چند نسلوں بعد یہ ریاست اسلام کے سب سے مضبوط قلعوں میں تبدیل ہو گئی۔ چغتائی حکمرانوں نے منگولی قانون کی جگہ اسلامی شریعت نافذ کی، جس سے پورے خطے میں عدل اور امن قائم ہوا۔ ان کے دور میں تجارت، دست کاری، گھڑسواری، اور اسلامی فنِ تعمیر کو عروج حاصل ہوا۔ مشہور شہر یارقند (Yarkand) اسی دور میں ثقافتی مرکز بنا۔ چغتائی ریاست نے تقریباً 450 برس ترکستان کی سرحدوں کی حفاظت کی۔

یعقوب بیگ کی اسلامی ریاست (1865–1877ء)

چینی ظلم و جبر کے مقابلے میں جب سب راستے بند ہونے لگے، تب ایغور مسلمانوں نے ایک نئے رہنما کی تلاش کی، یہی وہ وقت تھا جب یعقوب بیگ نے ایک منظم اور طاقتور اسلامی ریاست قائم کی۔ انہوں نے یارکند، کاشغر، ختن، اور آق سو کو متحد کر کے شریعتِ محمدی کے مطابق حکومت چلائی۔ ان کے دور میں پہلی بار ترکستان کے مسلمانوں نے بیرونی دنیا خاص طور پر عثمانی خلافت سے براہ راست تعلقات قائم کیے۔ اگرچہ یہ ریاست صرف 12 سال قائم رہی، مگر اس نے ثابت کیا کہ ترک مسلمان آزادی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔

دوسری ایغور–اسلامی تحریک (1933–1944ء)

پہلی چینی قبضے کے بعد ترک مسلمانوں نے 1933ء میں اسلامی جمہوریہ ترکستانِ شرقی کا اعلان کیا جو جدید دور کی پہلی ترک–مسلم جمہوریت تھی۔ یہ حکومت مختصر عرصے کے لیے قائم رہی مگر اس نے ثابت کر دیا کہ ترکستان کے عوام اپنے دین اور شناخت کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔

1934ء میں اس ریاست کو ختم کر دیا گیا، مگر 1944ء میں مسلمانوں نے دوبارہ “الی ریاست” کے نام سے آزادی حاصل کی۔ یہ دوسری آزاد ریاست 1949ء تک قائم رہی، جب چین کی کمیونسٹ فوجوں نے پورے خطے پر قبضہ کر لیا۔ یہ وہ دور تھا جب ترکستان کی آزادی صرف چند قدم کے فاصلے پر تھی۔

ترکستان کی اسلامی تہذیبی وراثت

یہ خطہ شاہراہ ریشم (Silk Road) کا مرکز تھا، یہاں سے تجارت، ہنر، زبان اور اسلامی علوم پوری دنیا تک پہنچے۔ کاشغر، یارکند اور تورفان جیسے شہر علم و ہنر کے مراکز سمجھے جاتے تھے۔ علّامہ محمود کاشغری (مصنف: دیوان لغات الترک) اور یوسف خاص حاجب (مصنف: قوتادغو بیلیگ) اسی سرزمین کے روشن ستارے تھے۔ ترکستان نے دنیا کو صدیوں تک سپاہ گری، تیر اندازی، گھڑ سواری اور اسلامی فنِ حرب کی بہترین مثالیں دیں۔ یہی وہ ورثہ ہے جسے آج بھی ایغور مسلمان اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔

قبضوں کی تاریخ

1759ء میں چنگ خاندان نے پہلی بار ترکستانِ شرقی پر قبضہ کیا، مگر مسلم آبادی نے مسلسل مزاحمت جاری رکھی۔ پھر 1881ء میں دوسری بار چینی افواج نے ظلم و جبر کے ساتھ خطے کو اپنے قبضے میں لیا۔ 1933ء میں کاشغر میں پہلی بار “اسلامی جمہوریہ ترکستانِ شرقی” قائم ہوا۔ لیکن عالمی خاموشی اور پڑوسی طاقتوں کی بے حسی کے باعث یہ خواب زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ 1944ء میں ایغور مسلمانوں نے ایک بار پھر ہمت کی اور دوسری مرتبہ آزاد ریاست قائم کی، جسے “الی ریاست” بھی کہا جاتا ہے۔ مگر 1949ء میں چین کے کمیونسٹ انقلاب کے بعد یہ ریاست بھی ختم کر دی گئی۔

1949ء کے بعد، تہذیبی شناخت پر حملہ

کمیونسٹ حکومت کے بعد ترکستانِ شرقی میں ایسی پالیسیاں نافذ کیں جن کا مقصد تھا: مذہبی شعائر ختم ہوں، اسلامی تعلیمات مٹیں۔ داڑھی، حجاب اور مذہبی شناخت کو جرم بنا دیا جائے۔ قرآن مجید کو ضبط کیا جائے، علماء کو قید و قتل کیا جائے۔ 65 ہزار سے زائد مساجد بند کی جائیں یا توڑی جائیں، اسلامی ناموں “محمد”، “عائشہ”، “خالد” وغیرہ پر پابندی لگے۔ یہ سب اس لیے کہ مسلمان اپنی شناخت، ایمان اور زبان سے جدا ہو جائیں۔

آخر یہ ظلم کیوں؟

ترکستانِ شرقی چین کے سب سے بڑے وسائل کا مرکز ہے: جہاں تیل کا 25% اور گیس کا 28%، یورینیم، کوئلہ، سونا، نمک اور دنیا کے نایاب معدنیات کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں۔ چین کے معاشی مفاد اس قدر وسیع ہیں کہ اس خطے کی آزادی سے چینی معیشت کا آدھا حصہ لرز جائے۔ اسی لیے عالمی طاقتیں بھی خاموش ہیں۔

سنہ 1949ء میں یہاں مسلمانوں کی آبادی 97% تھی۔ آج یہ شرح کم ہو کر 40% سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ وہ حکمت عملی ہے جسے چین ڈیموگرافک انجینئرنگ (Demographic Engineering) کہتا ہے، جس کے تحت: لاکھوں “ہان” چینی یہاں لاکر بسائے گئے۔ مسلمانوں کو ان کے شہروں اور گھروں سے نکالا گیا۔ چین نے ایک نئی پالیسی شروع کی، جس کے تحت ایغور گھروں میں سرکاری ملازمین زبردستی رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، مذہبی زندگی ختم، ذاتی آزادی ختم، خاندانوں کی حرمت پامال۔ یہ پالیسی دنیا بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنی، مگر کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا۔

عالمی نظام کی شرمناک خاموشی

اقوام متحدہ کی درجنوں رپورٹس کے باوجود ترکستانِ شرقی کو کوئی عالمی تحفظ نہیں ملا، چین پر کوئی ٹھوس پابندی نہیں لگی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں صرف بیانات تک محدود ہوئیں۔

اللہ تعالی مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے، انہیں آزادی اور امن نصیب کرے، اور ہمیں ان کی آواز بننے کی توفیق دے۔ (آمین)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!