Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عید الاضحی پر عند اللہ قربانی ہی محبوب ترین عمل ہے (قسط: دوم)|محمد ارقم رضا ازہری

عید الاضحی پر عند اللہ قربانی ہی محبوب ترین عمل ہے (قسط: دوم)
عنوان: عید الاضحی پر عند اللہ قربانی ہی محبوب ترین عمل ہے (قسط: دوم)
تحریر: محمد ارقم رضا ازہری
پیش کش: مدحت فاطمہ ضیائی

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔

قربانی کرنے کے اخروی فائدے

مذکورہ تمام گفتگو سے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ عید الاضحیٰ پر قربانی کرنے کے بہت سے دنیوی فوائد ہیں، اب قربانی کرنے کے دینی و اخروی فوائد ملاحظہ فرمائیں:

  1. حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے”۔ [ترمذی: 1498]

  2. حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جس نے خوش دلی سے طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے آڑ ہو جائے گی”۔ [المعجم الکبیر: 2736]

  3. پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اپنی قربانی کے پاس موجود رہو، کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرے گا، تمہارے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے”۔ [السنن الکبری للبیہقی: 19161]

  4. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: “انسان بقرہ عید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جو اللہ تعالیٰ کو خون بہانے سے زیادہ پیاری ہو”۔ [ترمذی شریف: 1498]

  5. شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: “قربانی، اپنے کرنے والے کی نیکیوں کے پلے میں رکھی جائے گی، جس سے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوگا”۔ [اشعۃ اللمعات، ج: 1، ص: 654]

  6. حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: “قربانی، اس (قربانی کرنے والے) کے لیے سواری بنے گی جس کے ذریعے یہ شخص بآسانی پل صراط سے گزرے گا، اور اس (جانور) کا ہر عضو، مالک (قربانی کرنے والے) کے ہر عضو (کے لیے جہنم سے آزادی) کا فدیہ بنے گا”۔ [مرقاۃ المفاتیح، ج: 3، ص: 574]

قارئینِ کرام! مذکورہ احادیثِ نبویہ میں آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ قربانی کرنے کے کس قدر عظیم اخروی فوائد و منافع ہیں، اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک اور بالکل واضح فرمان ہے کہ بقرہ عید کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھی عمل خون بہانے یعنی جانوروں کی قربانی کرنے سے بہتر نہیں ہے۔ یوں تو صرف اسی حدیث سے ہمارا مدعا ثابت ہو گیا، مگر ہم نے بہت سے دنیوی و اخروی فوائد و منافع اس لیے ذکر کیے تاکہ منکرینِ قربانی جان لیں اور ان کے بہکاوے میں آنے والے بھولے بھالے مسلمان اچھے طریقے سے سمجھ لیں کہ عید الاضحیٰ پر قربانی کرنا قرآن و سنت کی روشنی میں بھی سب سے بہترین عمل ہے اور عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ قربانی بہترین عمل ہے، عید الاضحیٰ کے دن کوئی دوسرا کام اس کی جگہ ہرگز نہیں لے سکتا ورنہ مذکورہ بالا تمام دنیوی و اخروی فوائد فوت ہو جائیں گے اور ہزاروں لاکھوں لوگ روزگار کے سنہرے مواقع سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

جو لوگ قربانی کو جانوروں کی نسل کشی قرار دیتے ہیں، وہ سراسر غلط ہیں، اس لیے کہ جانوروں کا خالق اللہ تبارک و تعالیٰ ہے، اور جانوروں کی بہتری خالق سے زیادہ کوئی نہیں جانتا، تو جس خالق نے جانوروں کو پیدا کیا ہے وہی انہیں ذبح کرنے کا حکم دے رہا ہے تو یقیناً یہ جانوروں کی نسل کشی نہیں ہے بلکہ خدائے وحدہ لا شریک کے حکم کی پیروی ہے، جو کہ ہر بندۂ صادق کے لیے لازم و ضروری ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ [سورۃ الکوثر: 2]

تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔

لہٰذا جب خالق کا حکم ہے کہ قربانی کرو تو بلاشبہ قربانی کرنے میں بہت فوائد ہوں گے، کیونکہ یہ بات بالکل ظاہر و باہر ہے کہ اللہ رب العزت کا کوئی بھی حکم یا فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا ہے، اور جب پیدا کرنے والے نے حکم دیا ہے اور اس کے سب سے افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ عید الاضحیٰ پر قربانی ہی عند اللہ سب سے بہترین عمل ہے، تو یقیناً بقرہ عید پر قربانی ہی سب سے اچھا، لائقِ تحسین اور ثواب والا عمل ہوگا۔ اب اس کے مقابلے میں جو اپنی عقل کو ترجیح دیتا ہے وہ ضرور اللہ و رسول کا نافرمان اور دینِ اسلام کا دشمن ہو گا، ایسے شخص سے مسلمانوں کو دور رہنا چاہیے اور اس کے فاسد افکار و نظریات کو جوتوں تلے رکھ کر خدائے تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنا چاہیے۔ اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔ [سہ ماہی القلم، شمارہ نمبر: 12، ذی الحجہ 1446ھ تا صفر المظفر 1447ھ، ص: 8 تا 10]

قسطیں تمام ہوئیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!