| عنوان: | وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا |
|---|---|
| تحریر: | محمد علی رضا قادری |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ، شاہجہاں پور |
موجودہ زمانے میں اخلاق و عادات کا ایسا بگاڑ پیدا ہو چکا ہے کہ اس کو روکنا بہت دشوار ہے، اور ان میں سے ایک والدین کا ادب و احترام ہے۔ والدین کی نافرمانی اور ان کے ساتھ بدسلوکی عام ہوتی جا رہی ہے۔ آہ افسوس! والدین کو سنانا، مارنا، گالیاں دینا ہمارے معاشرے میں عام ہوتا چلا جا رہا ہے۔ تعلیم یافتہ لوگ خواہ وہ اسکول کے ہوں یا کالج کے، اپنے والدین کے ساتھ نامناسب سلوک کرتے ہیں، بلکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں والدین کی نافرمانی کرنے پر کوئی برائی یا ندامت کا احساس تک نہیں ہوتا۔
اللہ اکبر! ایک زمانہ وہ تھا کہ جب ایک باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان گاہ کی طرف لے کر چلا تو بیٹا خوشی خوشی ساتھ ہو گیا۔ جب باپ نے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹانا چاہا تو بیٹا بغیر کسی چوں چرا کے زمین پر لیٹ گیا۔ اللہ اکبر! والد نے اپنے بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی، اس وقت بھی بیٹے نے اف تک نہ کہا۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات میں ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دنیا میں والدین سب سے زیادہ اعزاز و تکریم، ادب و احترام اور حسنِ سلوک کے حقدار ہیں۔
قرآن کی روشنی میں والدین کا مقام
قرآنِ حکیم نے تقریباً پندرہ مقامات پر مختلف جہتوں سے بڑے ہی حکیمانہ انداز میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا درس دیا ہے اور اسے توحیدِ باری تعالیٰ کے درس کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔ خدائے پاک کی اطاعت کے ساتھ ہی ان کی اطاعت کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا [سورۃ البقرۃ: 83]
ترجمہ: اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا [سورۃ النساء: 36]
ترجمہ: اور اللہ کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
کفار کو جن حرام کاموں سے روکا گیا ان میں شرک باللہ کے بعد والدین کی نافرمانی کو شمار کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں بڑے گناہ ہیں۔
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا [سورۃ بنی اسرائیل: 23]
ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
مذکورہ آیات میں جس اہتمام، ادب اور محبت کے ساتھ والدین کی خدمت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرک کی ممانعت کے فوراً بعد والدین سے حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ دوسری جانب ارشاد فرمایا:
فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا [سورۃ بنی اسرائیل: 23]
ترجمہ: تو ان سے اف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا۔
خدا کے بعد بھیجو شکر تم ماں باپ کا لوگوں
زبان سے اف نہ کرنا نوجوانو! ہے گلہ لوگوں
مطیع اپنے ماں باپ کا ہمیشہ رہو
ہر حکم ان کا بجا لاؤ یا الہی
احادیث کی روشنی میں والدین کا مقام و مرتبہ
أَلْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَاحْفَظْ عَلَى الْبَابِ أَوِ ضَيّع [جامع الترمذی، رقم الحديث: 1900]
ترجمہ: باپ جنت کے دروازوں میں سب سے بیچ کا دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس دروازے کی حفاظت کرو یا اسے ضائع کر دو۔
هُمَا جَنَّتُكَ وَنَارُكَ [سنن ابن ماجہ، رقم الحديث: 2741]
ترجمہ: وہ دونوں یعنی تمہارے ماں باپ تمہاری جنت بھی ہیں اور تمہاری دوزخ بھی۔
مَنْ أَصْبَحَ مُطِيعًا لِلَّهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهُ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا [شعب الإیمان، رقم الحديث: 7856]
ترجمہ: جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کا حق ادا کرنے کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار رہا، تو اس کے لیے صبح ہی جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر والدین میں سے کوئی ایک ہو تو ایک دروازہ کھلتا ہے۔
طَاعَةُ اللهِ طَاعَةُ الْوَالِدِ وَمَعْصِيَةُ اللهِ مَعْصِيَةُ الْوَالِدِ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، ص: 360]
ترجمہ: باپ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور باپ کی نافرمانی خدائے پاک کی نافرمانی ہے۔
رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ وَسُخْطُ الرَّبِّ فِي سُخْطِ الْوَالِدِ [جامع الترمذی، رقم الحديث: 1899]
ترجمہ: پروردگار کی خوشنودی والد کی خوشنودی میں ہے، اور پروردگار کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔
دل دکھانا چھوڑ دیں ماں باپ کا
ورنہ ہے اس میں خسارہ آپ کا
مذکورہ بالا قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ حسنِ سلوک سے پیش آئیں اور ان کے فرامین اور احکامات کو خوش دلی سے بجا لائیں۔ مولیٰ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو مذکورہ قرآن کے احکامات پر عمل کرنے اور والدین کی کماحقہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین۔
