Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

گناہوں سے نفرت|محمد حبیب اللہ بیگ ازہری

گناہوں سے نفرت
عنوان: گناہوں سے نفرت
تحریر: محمد حبیب اللہ بیگ ازہری
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

اللہ رب العزت سورۃ یوسف کی آیت نمبر: 23-24 میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَيْتَ لَكَ ۚ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿۲۳﴾ وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ ﴿۲۴﴾ [سورۃ یوسف: 23-24]

یوسف جس گھر میں تھے اس گھر کی عورت نے یوسف کو اپنی طرف راغب کرنا چاہا، اور دروازے بند کر کے کہا کہ آجاؤ، یوسف نے کہا: اللہ کی پناہ، میرے مالک نے مجھے اچھی طرح رکھا، بے شک ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔ اس عورت نے ارادہ کر لیا، اور اگر یوسف اپنے رب کی دلیل نہ دیکھتے تو وہ بھی ارادہ کر لیتے، ہم اسی طرح اس سے برائی اور بے حیائی کو پھیر دیتے ہیں، بے شک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے ہے۔

ان آیاتِ مبارکہ میں حضرت یوسف علیہ الصلاۃ والسلام کے طویل ترین قصے کے ایک اہم گوشے کو بیان کیا گیا ہے، ہم اس کی قدرے تفصیل کریں گے، پھر اس سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کریں گے۔

حضرت یوسف علیہ السلام بڑے جلیل القدر پیغمبر ہیں، اور ایک ایسے پیغمبر ہیں جو خود بھی نبی ہیں، جن کے والد بھی نبی ہیں، دادا بھی نبی ہیں اور پردادا بھی نبی ہیں، آپ بڑے خوب صورت اور نیک سیرت تھے۔ اللہ رب العزت نے آپ کو ایسا حسین و جمیل بنایا تھا کہ جب زنانِ مصر نے آپ کو دیکھا تو انگلیاں کاٹ لیں، لیکن انھیں احساس تک نہیں ہوا، اور سب نے بیک زبان کہا:

مَا هٰذَا بَشَرًا ؕ اِنْ هٰذَا اِلَّا مَلَكٌ كَرِيْمٌ [سورۃ یوسف: 31]

یہ بشر نہیں ہو سکتا، یہ تو معزز فرشتہ ہے۔

بچپن ہی سے آپ کی پیشانی پر نورِ نبوت روشن تھا، آپ کے اخلاق و آداب بھی خوب تھے، اسی لیے آپ کے والد گرامی حضرت یعقوب علیہ السلام آپ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتے تھے، لیکن آپ کی یہ محبوبیت آپ کے بھائیوں کو راس نہیں آئی، تو انھوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے دل سے آپ کی محبت ختم کرنے کے لیے ایک سازش رچی، ایک دن آپ کو گھمانے کے بہانے بن میں لے گئے، اور حضرت یوسف علیہ السلام کو کھاری کنویں میں پھینک دیا۔ بعض نامعلوم راہ گیروں نے آپ کو کنویں سے نکالا، اور بازارِ مصر میں فروخت کر دیا۔ بازارِ مصر سے عزیزِ مصر نے آپ کو مہنگے دام پر خریدا، اور شاہی اعزاز کے ساتھ اپنے محل میں رکھا۔ جب آپ عنفوانِ شباب میں پہنچے تو عزیزِ مصر کی زوجہ آپ پر فریفتہ ہو گئی، ایک دن آپ کو تنہائی میں بلایا، محل کے سارے دروازے بند کر دیے، آپ کو اپنی طرف راغب کیا، اور کہا کہ میرے قریب ہو جاؤ، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی پناہ، میں اپنے محسن عزیزِ مصر کے ساتھ خیانت نہیں کر سکتا، بے شک ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔

واضح رہے کہ انبیائے کرام قبلِ نبوت اور بعدِ نبوت ارتکابِ کبائر اور تعمدِ صغائر سے پاک ہوتے ہیں، اسی لیے ان سے گناہ کا تصور بھی محال ہے، لیکن آپ جس سے ہم کلام تھے وہ آپ کی پیغمبرانہ شان سے ناواقف تھی، اسی لیے اس نے آپ کو اپنی طرف راغب کرنا چاہا۔ اس سلسلے میں قرآنِ کریم نے جو تفصیل بیان کی اس کے مطابق عزیزِ مصر کی زوجہ کی طرف سے تین کوششیں ہوئیں، جواب میں حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی تین باتیں کہیں۔

اس عورت کا پہلا عمل تھا: رَاوَدَتْہُ۔ اس نے لبھایا، اور گناہ پر آمادہ کیا۔

دوسرا عمل تھا: غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ۔ یعنی خواہشِ نفس کی تکمیل کے لیے جس تنہائی کی ضرورت تھی اس کا مکمل بندوبست کر لیا۔

تیسرا عمل تھا: قَالَتْ ہَیْتَ لَکَ۔ محض ترغیب یا محفوظ گوشے کے انتظام پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ زبان کھول کر کہا کہ قریب آجاؤ۔

ان سب کوششوں کا ظاہری تقاضا یہ تھا کہ گناہ کا دروازہ کھل جاتا، اور شیطانی تدبیر کامیاب ہو جاتی، لیکن اللہ رب العزت کی نصرت و حمایت اور حضرت یوسف علیہ السلام کی عفت و کرامت کا کمال تھا کہ شیطان خائب و خاسر ہوا، گناہ کی تدبیر ناکام ہوئی، اور صبحِ قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ درسِ عزیمت ملا کہ بندہ اگر گناہ سے بچنا چاہے تو اللہ رب العزت رات کی تاریکی میں اور بند کمروں میں بھی اسے گناہ سے بچا لیتا ہے، اسی لیے بندے کو چاہیے کہ ہمیشہ اندر گناہ سے بچنے کا جذبہ فراواں رکھے، اور اس سلسلے میں اللہ کی طرف رجوع کرتا رہے۔

پیشِ نظر واقعہ میں دیکھیں کہ جب زلیخا نے عملی، حفاظتی اور زبانی کوشش کر لی تو حضرت یوسف علیہ السلام نے بھی تین جوابات دیے۔

آپ کا پہلا جواب تھا: مَعَاذَ اللّٰہِ۔ اللہ کی پناہ۔ یعنی جب اس عورت نے لبھایا تو کہا کہ میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں، اور کسی بھی مومن بندے کے لیے روا نہیں کہ وہ مخلوق کی طاعت میں خالق کی نافرمانی کرے، اسی لیے میں اللہ کی نافرمانی کر کے اسے ناراض نہیں کر سکتا۔

آپ کا دوسرا جواب تھا: اِنَّہٗ رَبِّیْٓ اَحْسَنَ مَثْوَایَ۔ یعنی جب اس عورت نے دروازے بند کر کے تنہائی کا ماحول بنا دیا تو آپ نے فرمایا کہ میرے مالک نے میرے ساتھ بڑی خیر خواہی کی ہے، اور میرا بھرپور خیال رکھا ہے، جس نے میرے ساتھ اتنی ہم دردی کی ہو اس کے ساتھ میری وفاداری کا تقاضا یہی ہے کہ میں اسے اذیت نہ دوں، اور جس طرح اس کے سامنے وفا شعار بن کر رہتا ہوں ویسے ہی پیٹھ پیچھے بھی رہوں، اور اس کی عدم موجودگی میں اس کے اہل کے ساتھ خیانت کر کے اسے تکلیف نہ پہنچاؤں۔

آپ کا تیسرا جواب تھا: اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ۔ بے شک ظالم کامیاب نہیں ہوتے۔ یعنی جب اس عورت نے کہا کہ قریب آجاؤ تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنی عزت و کرامت کو پامال کر کے اپنے اوپر ظلم نہیں کر سکتا، کیوں کہ کوئی بھی ظالم کامیاب نہیں ہوتا۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے جس وقت یہ جوابات عطا فرمائے وہ بڑا ہی نازک وقت تھا، قرآنِ کریم کے مطابق اس خاتون کا جو حال تھا وہ یہ تھا کہ: وَ لَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ۔ یعنی اس نے گناہ کا عزمِ مصمم کر لیا تھا، قرآن نے اس عزم کو تاکیدی انداز میں بیان کیا کہ وہ عورت پورے طور پر آمادہ ہو چکی تھی، جس کا فوری اور لازمی اثر یہ ہوا کہ لگتا تھا کہ دوسرا فریق بھی تیار ہو جائے گا، لیکن تائیدِ الٰہی اور نصرتِ غیبی نے بچا لیا، یہ سب من جانبِ اللہ تھا، لیکن اس کا ایک ظاہری سبب بھی تھا، وہ یہ کہ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ۔ وہ بڑا مخلص بندہ تھا۔

اس سے معلوم ہوا کہ جب بندہ اپنے ایمان و عمل میں مخلص ہوتا ہے تو ہر حال میں اپنے رب کو حاضر و ناظر جانتا ہے، اور سفر و حضر، صحت و مرض، فقر و غنا، خلوت و جلوت میں گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، کیوں کہ اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اس کا رب اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گناہ کرنے والے افراد دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جن کے پاس گناہ کے اسباب نہیں ہوتے، اسی لیے وہ پورے شد و مد کے ساتھ گناہ نہیں کر سکتے۔ دوسرے وہ جن کے پاس گناہ کے اسباب ہوتے ہیں، اسی لیے وہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں، اور پورے شد و مد کے ساتھ کرتے ہیں۔ اسی طرح گناہ سے بچنے والے بھی دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جن کے لیے گناہ کے دروازے بند ہوتے ہیں تو وہ بآسانی گناہ سے بچ جاتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کے پاس سوائے گناہ کے کوئی چارہ کار نہیں ہوتا، تو ان کے لیے گناہ سے بچنا دشوار ہوتا ہے۔

پیشِ نظر واقعہ پر غور کریں کہ خاتون کے پاس گناہ کے اسباب موجود تھے اسی لیے اس نے پورے زور و شور سے دعوت دی، جب کہ اس کے بالمقابل حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے بچ نکلنے کے راستے مسدود تھے، پھر بھی آپ سلامت باکرامت رہے، یہ آپ کی عفت و پاک دامنی، اللہ کی رضا جوئی، گناہ سے بیزاری، اور آزمائش میں ثابت قدمی کی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔

گناہ پر قدرت کے باوجود گناہ سے بچنا بہت عظیم عبادت ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ چناں چہ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سات افراد عرشِ الٰہی کے سائے میں ہوں گے، ان میں ایک شخص وہ بھی ہو گا جسے کسی خوب صورت اور صاحبِ منصب عورت نے گناہ کی دعوت دی تو اس نے یہ کہہ کر اس کی پیش کش ٹھکرا دی کہ میں اللہ رب العزت سے ڈرتا ہوں۔

اسی طرح صحیح بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ قدیم زمانے میں تین افراد سفر پر نکلے، راستے میں سخت بارش ہوئی، تو وہ ایک غار میں روپوش ہو گئے، تھوڑی دیر بعد چٹان پھسلی، اور غار کا منھ بند ہو گیا، سب نے اپنے اپنے عمل کا وسیلہ دے کر اللہ کی بارگاہ میں دعا کی، جس سے چٹان کا منھ کھل گیا، وہ صحیح و سالم باہر نکل آئے، لیکن ان تینوں میں ایک بندہ وہ بھی تھا جس نے یہ دعا کی کہ اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی، جس سے میں بے پناہ محبت کرتا تھا، ایک دن وہ میرے پاس کچھ پیسوں کے لیے آئی تو میں نے کہا کہ تم مجھے خلوت کا موقع دو تو میں تمھیں تمھاری مطلوبہ رقم دے دوں گا، اس نے چار و ناچار میری بات مان لی، لیکن میں جب اس کے قریب گیا تو اس نے کہا کہ اللہ سے ڈرو، اور اس کی کسی باندی کی حرمت پامال نہ کرو، تو اے اللہ! میں نے تیری رضا کے لیے گناہ کا ارادہ ترک کر دیا، اور اس سے پیسے بھی نہیں لیے، اے اللہ! اگر میں نے تیری خشیت کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو چٹان ہٹا دے، تو اللہ نے دعا سن لی، اور چٹان ہٹا دی۔

ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ گناہ پر قدرت کے باوجود گناہ سے دور و نفور رہنا ایک ایسا عمل ہے جس سے دنیا میں بلائیں ٹلتی ہیں، اور دعائیں قبول ہوتی ہیں، اور جو بندہ باوجودِ قدرت کے گناہ سے اجتناب کرتا ہے وہ قیامت کے دن عرشِ الٰہی کے سائے میں رہے گا، اسی لیے ضروری ہے کہ ہر حال میں گناہ سے اجتناب کریں، اور اس سلسلے میں اللہ کی طرف رجوع کرتے رہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!