| عنوان: | یقین محکم اور عمل پیہم کی ضرورت (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | خطیب اعظم علامہ قمر الزماں خان اعظمی |
| پیش کش: | آفرین فاطمہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
آج ایسی تحریکوں کو بعض ایسی قوتیں بھی سہارا دے رہی ہیں جن کو یقین ہے کہ یہ کوشش تبلیغ کے نام پر کی جا رہی ہے، مگر جیسے جیسے ان مبلغین کا حلقہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے مسلم عوام کے ذہن سے تبلیغ اور مفہوم دونوں نکلتے جائیں گے، دوسرے لفظوں میں تبلیغ ہوتی رہے گی، اور روحِ تبلیغ مرتی رہے گی، یہ گلی کوچوں میں تبلیغ کرتے رہیں گے اور حقیقی اسلام ان کی ناعاقبت اندیشیوں پر ماتم کرتا رہے گا، پھر ایک دور ایسا بھی آئے گا کہ بیمار مصلحین اور مفلوج معالجین کی ایک جماعت تیار ہو جائے گی جو بنامِ تبلیغ زندگی کو موت کے گھاٹ اتارتی رہے گی۔ آج بنامِ تبلیغ ایک ایسی بیمار جماعت پیدا ہو رہی ہے جو زندگی کے تقاضوں سے آنکھیں بند کر کے اپنی خیالی جنت میں مصروفِ ناؤ نوش رہے اور پھر کوئی طاقت ابھر کر اس کو غلامی کی زنجیر پہنا دے۔
ظاہر ہے کہ دنیا میں طاقت کا جواب طاقت سے اور علم کا جواب علم سے دیا جا سکتا ہے، یہ تو ممکن ہی نہیں کہ کوئی قوم مادی قوتوں سے مسلح اور تمام علمی اسلحوں سے آراستہ ہو اور اس کے مقابلے میں ایک بیمار، پست ہمت، حالات سے نا آشنا، غیر مسلح، جاہل اور پسماندہ قوم ہو تو کامیابی مؤخر الذکر قوم کو ملے۔ اگر حالات سے بے نیاز ہو کر اسباب و وسائل سے کنارہ کش ہو کر محض دعاؤں کے ذریعے سارے مسائل حل ہو جاتے تو قرآنِ عظیم بار بار باطل کے مقابلے کے لیے ہر طرح کی تیاری کا حکم نہ دیتا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر و حنین و خیبر و احد کے بجائے کعبۃ اللہ کے نیچے صرف تمنا فرماتے اور تمام قومیں ان کے قدموں میں جھک جاتیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبرانہ تمناؤں میں یہ اثر تھا کہ کونین کو ان کے قدموں میں جھکا دیا جاتا، اس لیے کہ جس کی محض ایک نظر اٹھ جانے سے قبلہ بدل جائے اگر وہ لبِ اعجاز کھولتے تو کائنات کی تقدیریں کیوں نہ بدلتیں؟
لیکن اگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا فرماتے تو ان کے معجزات میں ایک اور معجزہ کا اضافہ ہو جاتا، لیکن ان کے دین کی بقا و تحفظ کے لیے امتِ مسلمہ کو “جہاد فی سبیل اللہ” کا عظیم قانون نہ ملتا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنانِ دین کے لیے ہر طرح کی تیاریوں کا حکم دیا اور غزوۂ بدر میں جب اپنی کل متاعِ جہاد لے کر اترے تو خدائے برتر و بالا کی بارگاہ میں دعا فرمائی۔ کیا ان کا یہ اسوۂ پاک ہمیں اس طرف متوجہ نہیں کرتا کہ پہلے ہم ہر طرح کے اسباب و وسائل سے خود کو آراستہ کر لیں اور خود کو شہادت گہِ الفت میں اتارنے کے لیے ہمیشہ تیار رکھیں اور جب بھی باطل ہم کو چیلنج کرے تو ہم حق و عدل کو سر بلند کرنے کے لیے سر سے کفن باندھ کر میدانِ عمل میں کود پڑیں؟
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان اسباب پر نہیں خالقِ اسباب پر بھروسہ کرتا ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ مسلمان بے سر و سامانی کے عالم میں نکلے ہیں، اور بے سر و سامانی کے عالم میں پروردگارِ عالم نے انہیں فتحِ کامل عطا فرمائی ہے۔ ہاں یہ صحیح ہے لیکن کب؟ جب مسلمان مجبور کر دیے گئے، وہ اسباب و وسائل مہیا کرنا چاہتے تھے لیکن نہ کر سکے اور ان پر اضطرارِ کامل طاری ہو گیا تو:
أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ [سورۃ النمل: 62]
کے ضابطے کے پیشِ نظر پروردگارِ عالم نے فتح و نصرت عطا فرمائی۔ مگر آج قومِ مسلم اسباب و وسائل فراہم کر سکتی ہے، لیکن نہیں کر رہی ہے، تو یہ سہل کوشی ہے، کسل ہے، زندگی سے فرار ہے، یہ وہ اضطرار نہیں ہے جس کے نتیجے میں کامیابی مومن کا مقدر ہے، اہلِ عزیمت کا حصہ ہے۔ ایسی قوم میدانِ کارزار میں اپنی غفلتوں اور لاپروائی کی سزا ضرور بھگتے گی، اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر دی جائے، اسلام تو ہمیشہ زندہ رہے گا اور زندہ ہی رہنے آیا ہے، مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ مسلمان بھی ہمیشہ باقی رہیں۔ اگر موجودہ مسلمانوں پر یہ کسل اور ناعاقبت اندیشی مسلط ہے، تو اس کا امکان ہے کہ پروردگارِ عالم ان مسلمانوں کو جرمِ غفلت کوشی کی سزا میں کسی ظالم قوم کے ہاتھوں فنا کر دے اور ان کی جگہ دوسرے مسلمان لے لیں جو قوتِ عمل سے سرشار اور یقین محکم اور عمل پیہم کی دولت سے آسودہ ہوں، تاریخ میں ایسا ہوا بھی ہے، بغداد کی ناعاقبت اندیش، عیش پسند، اور سہل کوش قوم کو چنگیزیوں کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا، اسلام کی بقا کے لیے انہی لوگوں کو مسلمان بنا دیا گیا۔
ہے عیاں فتنۂ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
آج جو جماعتیں مسلمانوں کو صرف دعا گو بنانا چاہتی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی قوتِ فکر و عمل کے خلاف ایک خطرناک سازش ہیں، جن کی سرپرستی اسلام کے ذہین ترین حریف کر رہے ہیں، جنگوں کے پر خطر موقع پر دشمن کے ٹینکوں میں کیڑے پڑ جانے کی دعائیں! عجیب ہیں یہ دعا گویانِ زمانہ اور خیر خواہانِ اسلام!
آج ایک طرف تو مستشرقینِ یورپ اپنے پر فریب لٹریچر سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف ہزاروں غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، دوسری طرف کمیونزم اور سوشلزم جیسی تحریکوں نے اسلام کے متعلق ہزاروں شکوک و شبہات کھڑے کر دیے ہیں، تیسری طرف الحاد و نیچریت دماغوں کو مذہب کی گرفت سے آزاد کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، چوتھی طرف مغربی تہذیب اسلامی تہذیب پر مسلسل ضربِ کاری لگا رہی ہے۔ ان حالات میں ایسے مصلحین کی ضرورت تھی جو اسلام کو اس طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے کہ دنیا کا ہر صاحبِ ہوش اس کی معقولیت کا قائل ہو جاتا، شکوک و اوہام کے بادل چھٹتے اور لوگ اسلام کی حقیقی عظمتوں سے آشنا ہو سکتے۔ آج کسل و گوشہ نشینی کی بجائے اس ہوشمندانہ و جرأت مندانہ تبلیغ کی ضرورت ہے، جس میں عصرِ حاضر کے تمام حملوں کا جواب دیا جا سکے، خواہ وہ حملے کسی طرح کے ہوں۔۔۔۔۔۔
جب ہماری سرحدوں پر کفر توپوں اور ٹینکوں کی گھن گرج کے ساتھ حملہ آور ہو تو ہمیں انہی اسلحوں سے دشمن کا دفاع کرنا ہوگا، لیکن آج باطل مادی اسلحوں کے ساتھ نہیں بلکہ علم و تحقیق کے مقابلے کے نام پر ہماری نسلِ جدید کو گمراہ کر رہا ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ علم و تحقیق کے مقابلے میں علم و تحقیق پیش کیا جائے۔ جس زمانے میں فلسفۂ یونان اپنی تمام تر فتنہ سامانیوں کے ساتھ اسلامی فکر پر حملہ آور ہوا تھا تو امام غزالی و رازی جیسے مفکرین نے نہ صرف یہ کہ فلسفۂ یونان کے مضر اثرات سے امتِ مسلمہ کو بچایا، بلکہ انھیں مسلمان بنا لیا اور ان کے ذریعے سے دین کی خدمت فرمائی۔ آج اگر فلسفۂ جدید حملہ آور ہے تو مسلمانوں کے ہوشمند طبقے کو انتہائی بصیرت کے ساتھ اس کا مطالعہ کرنا ہوگا اور انتہائی جرأت و استقلال اور کمالِ پامردی کے ساتھ ان کا دفاع کرنا ہوگا۔
آج ایک خاموش ارتداد ہے جو ہمارے معاشرے میں گھستا چلا آ رہا ہے، ہماری نوجوان نسل کے قلب و دماغ سے خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور نکلتا جا رہا ہے لیکن ذمہ دارانِ معاشرہ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ کاش یہ احساس عام ہو جائے کہ آج امتِ مسلمہ کو ایک ہوشمندانہ قیادت کی ضرورت ہے جو؛ یقینِ محکم اور عملِ پیہم کی طاقتوں سے آراستہ ہو اور باطل کا ہر محاذ پر مقابلہ کر سکے۔
(ماہنامہ مقالاتِ خطیب الامام)
