Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: ہفتم)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی

ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: ہفتم)
عنوان: ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: ہفتم)
تحریر: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ
پیش کش: مہرتاج
منجانب: اقراء القرآن اکیڈمی

فلاسفہ کی گمراہیوں کا علمی محاسبہ (قسط: ہفتم)

یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد پر گہرے اثرات مرتب کیے، جن میں سے اکثر نظریات توحید اور صفاتِ الٰہیہ کے منافی تھے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے ان گمراہ کن نظریات کا قلع قمع کرنے کے لیے ”الكلمة الملهمة في الحكمة المحكمة لوهاء الفلسفة المسلمة“ جیسا عظیم الشان رسالہ تصنیف فرمایا۔ اس قسط میں اسی رسالے اور دیگر علمی ابحاث کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔

فلاسفہ کے نظریات کا رد

اعلیٰ حضرت نے فلاسفہ کے رد کو اکتیس (31) حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ چند اہم ابحاث درج ذیل ہیں:

  • فاعلِ مختار کا عقیدہ: فلاسفہ اللہ تعالیٰ کو فاعلِ مختار ماننے کے بجائے ’موجب بالذات‘ (یعنی ایسا خالق جو مجبور ہے) قرار دیتے تھے۔ اعلیٰ حضرت نے دلائلِ عقلیہ سے ثابت کیا کہ اللہ تعالیٰ فاعلِ مختار ہے، نہ کہ کوئی بے بس موجد۔
  • خالقیت کا جھوٹا نظریہ: فلاسفہ کا دعویٰ تھا کہ اللہ نے صرف ’عقلِ اول‘ کو پیدا کیا، پھر ’عقلِ اول‘ سے عقول اور افلاک کا ایک سلسلہ چل پڑا، اور ساری کائنات ان عقول نے بنائی۔ اعلیٰ حضرت نے اسے صریح کفر قرار دیا اور قرآن کی آیت هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ سے استدلال کر کے ثابت کیا کہ پوری کائنات کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے۔
  • اصولِ ’الواحد لا یصدر عنہ الا الواحد‘ کا ابطال: فلاسفہ کا دعویٰ تھا کہ ایک سے صرف ایک ہی صادر ہو سکتا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے ان کے اپنے ہی اصولوں کی دھجیاں بکھیر دیں اور ثابت کیا کہ فلاسفہ کے ہاں بھی ’عقلِ اول‘ سے ایک سے زائد چیزوں کا صدور ماننا پڑتا ہے، لہذا ان کا یہ قاعدہ خود ان کی اپنی فلسفیانہ عمارت کو گرا دیتا ہے۔

جُزءِ لَا یَتَجَزَّی (ایٹم کا فلسفہ)

یہ علمِ کلام کی ایک انتہائی دقیق بحث ہے۔ فلاسفہ اس کے ابطال پر ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں تاکہ کائنات کی قدیمیت کو ثابت کر سکیں۔

  • اعلیٰ حضرت کا موقف: آپ نے ثابت کیا کہ جُزءِ لَا یَتَجَزَّی (سب سے چھوٹا ناقابلِ تقسیم ذرہ) ممکن بلکہ واقع ہے۔
  • ردِ دلائلِ فلسفہ: فلاسفہ نے اس کے ابطال میں جو 29 شبہات (اعتراضات) پیش کیے تھے، اعلیٰ حضرت نے ان کا ایک ایک کر کے ایسا دندان شکن جواب دیا کہ ان کی فلسفیانہ عمارت ’ہباءً منثوراً‘ (بکھری ہوئی خاک) ہو گئی۔

”مقامع الحدید“: الحادی نظریات کا رد

ایک کتاب ”المنطق الجدید“ کے رد میں اعلیٰ حضرت نے ”مقامع الحدید علیٰ خد المنطق الجدید“ تصنیف کی۔ اس میں آپ نے ان نظریات کا ابطال کیا جن میں:

  1. اللہ تعالیٰ کو مادی کائنات کے تصرف سے بے تعلق سمجھنا (جو صریح کفر ہے)۔
  2. ہیولیٰ، صورتِ نوعیہ اور عقولِ عشرہ کو قدیم ماننا (جو توحید کے منافی ہے)۔
  3. عدمِ زمانی کو حقیقت ماننا اور کائنات کو پردۂ حجاب میں سمجھ کر اسے قدیم ثابت کرنا (جو نصوصِ قرآنیہ کا صریح انکار ہے)۔

خلاصۂ کلام

اعلیٰ حضرت نے ثابت کیا کہ فلسفہ یونان کی یہ عمارت بنیادی طور پر اللہ کی قدرتِ مطلقہ اور توحیدِ خالص کے خلاف ہے۔ آپ نے نہ صرف عقلی دلائل دیے، بلکہ ثابت کیا کہ جو فلسفی اللہ کے سوا تخلیق میں واسطہ مانتے ہیں یا کائنات کو قدیم کہتے ہیں، وہ کفر و گمراہی کے گڑھے میں گرے ہوئے ہیں۔ آپ کا علمی کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اسلامی عقائد کو فلسفیانہ جکڑ بندیوں سے آزاد کرا کر اسے قرآن و سنت کی روشنی میں پوری آب و تاب کے ساتھ پیش کیا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!