| عنوان: | ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: نہم) |
|---|---|
| تحریر: | اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ |
| پیش کش: | مہرتاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
تقدیرِ الٰہی: حقیقت، اقسام اور علمی محاسبہ (قسط: نہم)
تقدیر کا مسئلہ علمِ کلام کے دقیق ترین موضوعات میں سے ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے اپنے رسالے ”ثلج الصدر لا یمان القدر“ میں اس بحث کو انتہائی سہولت اور علمی گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس قسط میں آپ کی تحقیقات کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔
انسان کا اختیار اور مشیتِ ایزدی
اعلیٰ حضرت کا مؤقف یہ ہے کہ انسان نہ تو پتھر کی طرح مجبورِ محض ہے اور نہ ہی اپنے افعال کا خود مختار خالق۔ آپ نے اسے یوں بیان فرمایا:
- مشیت کا تعلق: انسان کے جوارح (اعضا) اور عقل اللہ کی عطا کردہ ہیں۔ انسان جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ سے اسے پیدا کر دیتا ہے۔
- بازپرس کی وجہ: انسان سے حساب اس لیے لیا جائے گا کہ اللہ نے اسے عقل، ہدایت (انبیا و کتب) اور انتخاب کی صلاحیت دی تھی۔ اگر وہ اچھے کام کا قصد کرتا تو اللہ نیکی پیدا کرتا، لیکن اس نے خود برائی کا ارادہ کیا اور اپنے اعضا کو اس طرف متوجہ کیا۔
- حکمتِ بالغہ: دنیا ’عالمِ اسباب‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ بے سبب بھی سب کچھ کر سکتا ہے مگر اس نے اپنی حکمت سے اسباب کا نظام قائم رکھا ہے، جس کی حقیقت تک پہنچنا انسانی عقل کے بس سے باہر ہے۔
سیدنا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ کا علمی جواب
اعلیٰ حضرت نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دو سنہری ارشادات سے اس مسئلے کی عقدہ کشائی کی:
جب کسی نے پوچھا کہ کیا معاصی (گناہ) اللہ کے ارادے کے بغیر ہوتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”کیا کوئی اللہ کے ارادے کے خلاف زبردستی گناہ کر سکتا ہے؟“ (یعنی ہر فعل اس کی مشیتِ کے تابع ہے)۔ اور جزا و سزا کے سوال پر فرمایا: ”تمام عالم اللہ کی ملکیت ہے، اور مالک سے اس کی ملکیت کے بارے میں بازپرس نہیں کی جا سکتی۔“
قضائے مبرم اور قضائے معلق
علامہ فضل رسول بدایونی کی کتاب ”المعتقد“ کے حاشیہ میں اعلیٰ حضرت نے قضائے مبرم (اٹل تقدیر) اور معلق (مشروط تقدیر) پر نہایت دقیق تحقیق فرمائی ہے:
- قضائے معلق: ایسی تقدیر جس کا وقوع کسی دعا یا عمل کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک ”دعا قضائے مبرم کو ٹال دیتی ہے“ کا اطلاق اسی قسم پر ہوتا ہے جو بظاہر مبرم معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت میں معلق ہوتی ہے۔
- قضائے مبرمِ حقیقی: یہ وہ علمِ الٰہی ہے جو ازل سے نافذ ہے اور جس کا وقوع یقینی ہے۔ یہ قطعی طور پر ناقابلِ تبدیلی ہے، کیونکہ اگر یہ بدل جائے تو (معاذ اللہ) اللہ کے علم میں تبدیلی یا جہالت لازم آئے گی، جو محال ہے۔
- نسخ کا مفہوم: آپ نے وضاحت کی کہ ’نسخ‘ کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ نے اپنا ارادہ بدل لیا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم میں اس حکم کی ایک خاص مدت مقرر تھی جو پوری ہو گئی۔
نتیجہ
اعلیٰ حضرت نے یہ ثابت کیا کہ تقدیر کا انکار عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اسباب اختیار کرے، خیر کا ارادہ کرے اور تقدیر کے فیصلوں پر راضی رہے۔ آپ کی یہ تحقیق اہل سنت کے اس متوازن عقیدے کی ترجمان ہے جس میں بندے کے اختیار اور اللہ کی قدرتِ مطلقہ کے درمیان حسین ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
