| عنوان: | ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے متعلق عقائد (قسط: دہم) |
|---|---|
| تحریر: | اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ |
| پیش کش: | مہرتاج |
| منجانب: | اقراء القرآن اکیڈمی |
تدبیر اور اسبابِ دنیا: شرعی اور عقلی حیثیت (قسط: دہم)
تقدیرِ الٰہی پر ایمان رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان دنیاوی اسباب اختیار کرنا چھوڑ دے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے اپنے رسالے ”التحریر فی بیانِ التدبیر“ میں اس اہم مسئلے پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔ اس قسط میں اسی رسالے کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔
تدبیر اور تقدیر: ایک حسین امتزاج
اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ: ”جب سب کچھ اللہ کی تقدیر سے ہی ہونا ہے، تو پھر تدبیر (کوشش اور منصوبہ بندی) کس لیے؟“ اعلیٰ حضرت نے اس کے دو نہایت واضح پہلو بیان کیے ہیں:
- عالمِ اسباب کا نظام: اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ”عالمِ اسباب“ بنایا ہے۔ اللہ کی سنتِ جاریہ یہ ہے کہ وہ مسببات (نتائج) کو اسباب (وسائل) سے جوڑ کر پیدا کرتا ہے۔ لہذا اسباب اختیار کرنا دراصل اللہ کے مقرر کردہ نظام پر عمل کرنا ہے۔
- انتہا پسندی کی نفی: آپ نے دو طرح کے گمراہ نظریات کی تردید فرمائی:
- کفار کی خصلت: تقدیر کا انکار کر کے صرف تدبیر پر بھروسہ کرنا اور اپنی کامیابی کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھنا۔
- گمراہوں کا نظریہ: تقدیر پر ایمان کے نام پر اسباب و تدبیر کو یکسر عبث، فضول اور بے فائدہ قرار دینا۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ کام یا تو کسی گمراہ کا ہے یا کسی مجنون کا۔
انبیا و اولیا کا طریقہ
اعلیٰ حضرت نے اس بات پر زور دیا کہ تدبیر کو غیر ضروری سمجھنا انبیا، صحابہ، ائمہ اور اولیا اللہ کی سیرت و سنت پر طعن کرنے کے مترادف ہے۔ تمام انبیا کرام نے اپنی دعوت اور اپنے کاموں میں تدبیر سے کام لیا۔ اگر تدبیر کا کوئی عمل دخل نہ ہوتا تو دنیا میں اسباب کا یہ وسیع نظام عبث ہوتا۔
تدبیر کے اثبات میں شرعی دلائل
اعلیٰ حضرت نے اپنے رسالے میں تدبیر کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لیے قرآنِ مجید کی پانچ آیات اور احادیثِ مبارکہ کے ذخیرے سے چالیس احادیث نقل فرمائی ہیں۔ ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ:
- تدبیر کرنا سنتِ نبوی ہے۔
- تدبیر پر بھروسہ کیے بغیر، اللہ کی ذات پر توکل کرنا اور اسباب کو اپنانا عینِ ایمان ہے۔
- کوشش اور جدوجہد کرنا بندے کا فعل ہے، جبکہ اس کا نتیجہ پیدا کرنا اللہ کے دستِ قدرت میں ہے۔
خلاصۂ کلام
اعلیٰ حضرت کا علمی مؤقف یہ ہے کہ ایمانِ کامل یہ ہے کہ دل میں توکل اللہ پر ہو اور ہاتھ میں تدبیر (کوشش) ہو۔ تدبیر کو تقدیر کا مخالف سمجھنا جہالت ہے، کیونکہ تقدیر یہ ہے کہ اللہ نے کیا لکھ دیا، اور تدبیر یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں کیا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ جب بندہ تدبیر کرتا ہے تو وہ اللہ کی تقدیر ہی کے مطابق اسباب کے دائرے میں کام کر رہا ہوتا ہے۔
