Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

ضمیر کی موت کا المیہ | انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

ضمیر کی موت کا المیہ
عنوان: ضمیر کی موت کا المیہ
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف

مکرمی، تاریخِ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ قوموں کے زوال کا آغاز ہمیشہ ان کے قلعوں کے منہدم ہونے، ان کی معیشتوں کے کمزور پڑنے یا ان کی سیاسی طاقت کے ختم ہونے سے نہیں ہوتا، بلکہ اس سے بہت پہلے ان کے اندر ایک خاموش تبدیلی رونما ہوچکی ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی ان کے افکار میں، ان کے اخلاق میں، ان کے اجتماعی شعور میں اور سب سے بڑھ کر ان کے ضمیر میں پیدا ہوتی ہے۔ جب حق اور باطل کے درمیان قائم حدیں دھندلانے لگیں، جب سچائی کو مصلحتوں کے ترازو میں تولا جانے لگے، جب انصاف ذاتی مفادات کے تابع ہوجائے، جب کردار کی جگہ مفاد اور اصول کی جگہ فائدہ معیار بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ زوال کے آثار نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں، خواہ ظاہری ترقی کا شور کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو۔

ضمیر کیا ہے اور اس کی اہمیت

انسان کی ظاہری زندگی جتنی اہم ہے، اس کی باطنی زندگی اس سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا کی کوئی عدالت، کوئی قانون اور کوئی نگرانی انسان کو ہر وقت برائی سے نہیں روک سکتی، لیکن اس کے اندر موجود ایک قوت ایسی ہے جو اسے تنہائی میں بھی برائی سے باز رکھتی ہے، جو اسے غلطی پر ملامت کرتی ہے، جو اسے ظلم سے روکتی ہے اور جو اسے حق کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اسی قوت کا نام ضمیر ہے۔ یہ ضمیر دراصل انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رکھی گئی وہ اخلاقی حس ہے جو اسے خیر و شر کے درمیان فرق کا ابتدائی شعور عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک نیک انسان سے جب کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو اس کا دل بے چین ہوجاتا ہے، وہ معافی مانگنے پر آمادہ ہوتا ہے اور اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے، لیکن جب یہی ضمیر مسلسل غفلت، خواہشات کی غلامی اور گناہوں کی کثرت کے باعث کمزور پڑنے لگتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جسے قرآنِ کریم نے دلوں پر مہر لگ جانا قرار دیا ہے۔

قرآنِ مجید انسان کے اسی باطنی نظام کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ٭ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ٭ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ٭ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا
"قسم ہے نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے درست بنایا، پھر اسے اس کی بدی اور پرہیزگاری سمجھا دی، یقیناً کامیاب ہوگیا وہ جس نے اس نفس کو پاک کرلیا اور یقیناً نامراد ہوگیا وہ جس نے اسے آلودہ کردیا۔"

یہ آیات بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر خیر و شر کی پہچان کا ایک بنیادی شعور ودیعت فرمایا ہے۔ یہی شعور جب ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال کی روشنی پاتا ہے تو ضمیر بیدار رہتا ہے، اور جب انسان مسلسل خواہشاتِ نفس کے پیچھے چلنے لگتا ہے تو یہی شعور مدھم ہوتے ہوتے بالآخر بے اثر ہوجاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ضمیر کی موت اچانک واقع نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے۔ ابتدا میں انسان برائی کرتے ہوئے جھجکتا ہے، پھر عادی ہوجاتا ہے، پھر اسے جائز ثابت کرنے لگتا ہے اور آخرکار وہ اس پر فخر محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اخلاقی زوال اپنی خطرناک ترین شکل اختیار کرلیتا ہے۔

گناہ اور انسانی نفسیات پر اس کے اثرات

رسول اللہ ﷺ نے اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا:
"جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کرلے تو دل صاف ہوجاتا ہے، اور اگر گناہ بڑھاتا رہے تو وہ سیاہی بڑھتی رہتی ہے یہاں تک کہ پورے دل کو گھیر لیتی ہے۔" (سنن ابن ماجہ، حدیث: 4244)

یہ حدیث محض ایک روحانی حقیقت کا بیان نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی گہری تشریح بھی ہے۔ انسان جس عمل کو بار بار اختیار کرتا ہے وہ اس کی عادت بن جاتا ہے، اور جس عادت کو وہ مسلسل دہراتا ہے وہ اس کے کردار کا حصہ بن جاتی ہے۔ چنانچہ جھوٹ بولنے والا جھوٹ سے مانوس ہوجاتا ہے، خیانت کرنے والا خیانت کو معمول سمجھنے لگتا ہے، ظلم کرنے والا ظلم میں قباحت محسوس نہیں کرتا، اور حق کو دبانے والا حق دشمنی کو حکمتِ عملی کا نام دینے لگتا ہے۔ یوں برائی کے خلاف مزاحمت کرنے والی اندرونی قوت آہستہ آہستہ کمزور پڑ جاتی ہے۔

اگر عصرِ حاضر کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا بحران معاشی یا سیاسی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی ہے۔ بظاہر علم کی فراوانی ہے، جامعات کی تعداد بڑھ رہی ہے، معلومات کے ذرائع ہر ہاتھ میں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود دیانت کم ہورہی ہے، اعتماد ختم ہورہا ہے، ظلم بڑھ رہا ہے، دھوکہ دہی عام ہورہی ہے اور مفاد پرستی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں سرایت کرتی جارہی ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کا ثبوت ہے کہ علم اور معلومات اپنی جگہ اہم سہی، لیکن اگر ان کے ساتھ ضمیر کی بیداری نہ ہو تو وہ انسان کو بہتر انسان نہیں بنا سکتیں۔

مفاد پرستی کا سیلاب اور خواہشات کی غلامی

آج انسان چاند تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر اپنے نفس پر قابو پانے میں ناکام نظر آتا ہے۔ وہ دنیا کے پیچیدہ مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اپنے دل کے اندر پیدا ہونے والی تاریکیوں کا علاج نہیں ڈھونڈ پاتا۔ اسے دنیا کے حالات معلوم ہیں مگر اپنے اعمال کی حقیقت سے غفلت برتتا ہے۔ وہ دوسروں کا احتساب کرنا جانتا ہے لیکن اپنا محاسبہ کرنا بھول چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی کے اس شور میں انسانیت کی آہٹ مدھم ہوتی جارہی ہے۔

اس اخلاقی بحران کی ایک بڑی وجہ مفاد پرستی کا وہ سیلاب ہے جس نے جدید انسان کی سوچ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اب بہت سے معاملات میں حق اور باطل کا فیصلہ دلائل سے نہیں بلکہ مفادات سے کیا جاتا ہے۔ سچ اس وقت تک پسندیدہ ہے جب تک وہ ہماری خواہشات سے نہ ٹکرائے، انصاف اس وقت تک قابلِ قبول ہے جب تک اس کا رخ ہماری ذات کی طرف نہ ہو، اور اصول اس وقت تک محترم ہیں جب تک وہ ہمارے فائدے کے خلاف نہ جائیں۔ یوں مفاد آہستہ آہستہ معیارِ حق بنتا جارہا ہے، حالانکہ مومن کا معیار مفاد نہیں بلکہ حق ہونا چاہیے۔

قرآنِ مجید نے اسی خطرناک ذہنیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوَاه
"کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا؟"

جب خواہشات انسان کی رہنما بن جائیں تو پھر ضمیر خاموش ہونے لگتا ہے۔ انسان حق جانتے ہوئے بھی اس سے گریز کرتا ہے، باطل کو پہچانتے ہوئے بھی اس کی حمایت کرتا ہے، اور ظلم کو ظلم سمجھتے ہوئے بھی خاموش رہتا ہے۔ یہی خاموشی بعد میں ایک اجتماعی بیماری بن جاتی ہے۔ قوموں کی تباہی صرف ظالموں کی وجہ سے نہیں آتی، بلکہ اکثر اوقات اس لیے بھی آتی ہے کہ اچھے لوگ خاموش ہوجاتے ہیں اور بیدار ضمیر افراد مصلحتوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔

بیدار ضمیر اور حقیقی معاشرہ

اسلام نے اسی لیے محض عبادات پر زور نہیں دیا بلکہ بیدار ضمیر انسان پیدا کرنے کی کوشش کی۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، ذکر، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس پیدا ہو۔ جب یہ احساس زندہ ہوتا ہے تو انسان قانون سے پہلے اپنے ضمیر کا پابند بنتا ہے۔ وہ اس لیے سچ نہیں بولتا کہ لوگ اسے سچا کہیں بلکہ اس لیے سچ بولتا ہے کہ اللہ سچائی کو پسند کرتا ہے۔ وہ اس لیے ظلم سے نہیں بچتا کہ سزا کا خوف ہے بلکہ اس لیے بچتا ہے کہ اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے اور اس کا ایمان اسے روکتا ہے۔

اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم پسند نہ کرو کہ لوگ اس سے واقف ہوں۔" (صحیح مسلم، حدیث: 2553)

یہ حدیث ضمیر کی بیداری کی بہترین تشریح ہے۔ جب تک انسان کے اندر گناہ پر بے چینی پیدا ہوتی رہے، اصلاح کی امید باقی رہتی ہے؛ لیکن جب گناہ باعثِ فخر بن جائے، ظلم کو مہارت سمجھا جانے لگے، خیانت کو ذہانت اور جھوٹ کو کامیاب حکمتِ عملی قرار دیا جانے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ضمیر شدید خطرے میں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ضمیر کی موت کسی ایک فرد کا المیہ نہیں بلکہ پوری تہذیب کا المیہ ہے۔ مردہ ضمیر افراد سے آباد معاشرے کبھی حقیقی امن، حقیقی انصاف اور حقیقی خوش حالی حاصل نہیں کرسکتے۔ ایسے معاشروں میں قوانین تو ہوتے ہیں مگر عدل نہیں ہوتا، ادارے تو ہوتے ہیں مگر اعتماد نہیں ہوتا، تعلیم تو ہوتی ہے مگر کردار نہیں ہوتا، ترقی تو ہوتی ہے مگر سکون نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جب ضمیر زندہ ہو تو کم وسائل کے باوجود معاشرہ خیر، عدل اور اطمینان کا گہوارہ بن جاتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کے بجائے اپنے آپ سے سوال کریں۔ کیا ہمارا ضمیر زندہ ہے؟ کیا ہم حق کو حق سمجھ کر قبول کرتے ہیں یا صرف اس وقت تک قبول کرتے ہیں جب تک وہ ہمارے مفاد کے مطابق ہو؟ کیا ہم اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوتے ہیں یا انہیں جواز فراہم کرنے میں مصروف رہتے ہیں؟ کیا ہم اپنے باطن کی اصلاح کے لیے اتنے ہی فکر مند ہیں جتنے اپنے ظاہر کو سنوارنے کے لیے ہیں؟ یہ سوالات محض فکری مشق نہیں بلکہ ہماری نجات اور ہمارے مستقبل سے وابستہ سوالات ہیں۔

کیونکہ قوموں کا اصل سرمایہ سونا، چاندی, صنعتیں اور عمارتیں نہیں ہوتیں، بلکہ بیدار ضمیر انسان ہوتے ہیں۔ جب یہ سرمایہ محفوظ رہے تو معاشرے زندہ رہتے ہیں، اور جب یہی سرمایہ ضائع ہوجائے تو ترقی کی بلند ترین عمارتیں بھی زوال کو نہیں روک سکتیں۔ ضمیر کی موت دراصل انسانیت کی موت کا پیش خیمہ ہے، اور ضمیر کی بیداری ہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں فرد بھی اپنا راستہ پاتا ہے اور قومیں بھی اپنی منزل تک پہنچتی ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!