Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

یزید کا درد ناک انجام | محمد سمیر احمد عطاری

یزید کا درد ناک انجام
عنوان: یزید کا درد ناک انجام
تحریر: محمد سمیر احمد عطاری

مُحَرَّمُ الْحَرام کا مہینہ جاری و ساری ہے اور یہ وہ مہینہ ہے، جس میں کربلا کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں یزید اور یزیدیوں نے نواسَۂ رسول جگرگوشہ بتول، چمنستان علی کے مہکتے پھول، امام عالی مقام، حضرت سَیِّدُنا اِمام حُسَیْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سمیت کم و بیش بہتّر (72) قابلِ اِحْتِرام ہستیوں کے ساتھ نہ صرف اِنتہائی نامُناسِب سُلوک کیا بلکہ اُن میں سے بہت سوں کے خُونِ ناحق سے بھی اپنے ہاتھوں کو رنگین کرکے ظُلم و زِیادَتی کا وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کیا کہ جس کی داستان عاشقانِ صحابہ و اہلبیت کے لئے اِنتہائی اَذِیَّت کا باعِث ہے۔ یزید پلید، اِبْنِ زِیاد اور جو لوگ بھی ان بد بختوں کے ساتھ اُن مُبارَک ہستیوں کی اِیذا رَسانی اور شَہادت کے ذِمّے دار تھے، اُن سب کا دُنیا میں بھی عبرتناک اَنْجام ہوا اور آخرت میں بھی اُنہیں ذِلَّت و رُسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئیے یزید پَلید کی فِتْنہ اَنگیزیوں اور اُس کے دَرْدناک اَنْجام کے بارے میں کچھ سُنتے ہیں۔

یزید کون تھا؟

یزید وہ بد نصیب شخص ہے، جس کی پیشانی پر اہْلِ بَیْتِ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بے گُناہ قتل کا سِیاہ داغ ہے اور جس پر ہرزمانے میں دُنیا ئے اسلام مَلامت کرتی رہی ہے اور قیامت تک اس کا نام حَقارت (ذِلَّت) کے ساتھ لِیا جائے گا۔ یہ بَد باطن، سِیاہ دل (شخص) 25 ہجری میں دِمشق میں پیدا ہوا۔ نہایت موٹا، بدنُما، بہت زیادہ بالوں والا، بداَخلاق، بد مِزاج، فاسق، فاجر، شرابی، بدکار، ظالم، بے اَدب، گُستاخ تھا۔ اس کی شرارتیں اور بیہودگیاں ایسی تھیں کہ جن سے بدمُعاشوں کو بھی شرم آئے۔ جن سے شرعاً نکاح حرام ہے، یزید ان سے نکاح کو رواج دینے والا، سُود اور دیگر حرام کاموں کو اعلانیہ کروانے والا تھا۔ (خلاصہ از سوانحِ کربلا، ص ۱۱۱ تا ١١٢)

غَیْب دان آقا، مکی مدنی مُصْطَفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی اپنے زمانۂ نُور بار میں وقتاً فوقتاً صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو یزید پلید کے فتنے سے آگاہ فرماتے رہے۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابُو دَرْدَاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں نے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو فرماتے ہوئے سُنا کہ اَوَّلُ مَنْ یُّبَدِّلُ سُنَّتِیْ رَجُلٌ مِّنْ بَنِیْ اُمَیَّۃَ یُقَالُ لَہُ یَزِیْدُ یعنی میری سُنَّت کا پہلا بدلنے والا بَنواُمَیَّہ کاایک شخص ہوگا، جس کانام یزید ہوگا۔ (تاریخ مدینہ، ۶۵/۲۵۰، رقم: ۸۲۹۲) ایک اور مقام پر اِرْشاد فرمایا: میری اُمّت میں عَدْل و اِنْصاف قائم رہے گا، یہاں تک کہ پہلا رَخْنہ انداز، بنواُمَیَّہ کا ایک شخص ہوگا، جس کانام یزید ہوگا۔ (فردوس الاخبار، ۲/۴۲۷، حدیث: ۷۷۰۹)

یزید پلید کی فتنہ اَنگیزیوں کے بارے میں سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِنہی پیش گوئیوں کی وجہ سے مشہور صحابیِ رسول حضرت سَیِّدُنااَبُو ہُرَیْرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے وصال سے قبل یہ دُعا مانگا کرتے تھے: اَعُوْذُ بِاللہ مِنْ رَأْسِ السِّتِّیْنَ وَاِمَارَۃِ الصِّبْیَان "یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں، 60 ہجری کے آغاز اور لڑکوں کی حُکومت سے۔" چُنانچہ آپ کی یہ دُعا قبول ہوئی اور 59 ہجری میں آپ کا اِنتقال ہوگیا (اور ٹھیک 60 ہجری میں یزید پلید مَسْنَدِ سَلْطَنَت پر نمودار ہوا)۔ (عمدۃ القاری، ج ۲، ص ١٨٥، دار الفکر)

یزید پلید کی جفا کاریاں

صَدْرُ الْافَاضِل حضرت علّامہ مولانامُفتی سَیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ یزید پلید کی حضرت سیدنا امام حُسَیْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے دُشمنی کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وُجُودِ مُبارَک یزید کی آزادیوں کیلئے ایک زبردست مُحْتَسِب تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آپ کے ہوتے ہوئے اُسے کُھل کر کھیلنے کا موقع نہ ملے گا... حرام کاری، بھائی بہن کانکاح، سُود، شراب، اعلانیہ رائج ہوئے۔

خَباثَت نے یہاں تک زور کِیا کہ مُسلِم بن عُقْبہ کو بارہ ہزار (12000) یا بیس ہزار (20,000) کا لشکر لے کر مدینۂ طِیِّبَہ کی چڑھائی کیلئے بھیجا۔ اس نامُراد لشکر نے مدینۂ طِیِّبَہ میں قتل و غارت گری کا طوفان برپا کیا۔ سات سو (700) صحابہ کو شہید کِیا اور دوسرے باشندے مِلاکر دس ہزار سے زیادہ کو شہید کیا۔ مسجدِنَبَوِی شریف کے سُتونوں میں گھوڑے باندھے، تین دن تک مسجد شریف میں لوگ نماز سے مُشَرَّف نہ ہوسکے۔

پھریہ شریر لشکر مَکَّۂ مُکَرَّمَہ کی طرف روانہ ہوا۔ مَکَّۂ مُعَظَّمَہ پہنچ کر اُن بے دِینوں نے مِنْجَنِیْق سے پتّھروں کی بارش کی۔ اِس سنگ باری سے حَرَم شریف کا صحن پتّھروں سے بھر گیا، مسجد ِحرام کے سُتون ٹُوٹ پڑے اور کعبۂ مُقَدَّسہ کے غِلاف اور چھت کو اُن بے دِینوں نے جلادِیا۔ اِسی چھت میں حضرت سَیِّدُنا اسمٰعیل عَلَیْہِ السَّلَام کے فِدْیہ میں قُربان ہونے والے دُنبے کے سینگ بھی جل گئے۔ (خلاصہ سوانح کربلا، ص ۱۷۷ تا ۱۷۹)

نواسۂ رسول ﷺ اور یزید کا ظلم

یزید پَلید جب تک زِنْدہ رہا، ظُلم و سِتَم کی آندھیاں چلاتا رہا۔ اُس کی پوری زندگی بے رحمی کی داستان ہے۔ اِقْتِدار کی ہَوَس نے اُسے پاگل بنا ڈالا تھا۔ بجائے اس کے کہ وہ نواسۂ رسول ﷺ کی خدمت کرتا، اُس نے شیطانِ لَعِیْن کی غُلامی کی۔ اُن گُستاخوں نے اِس بات کی کوئی پروا نہ کی کہ نبیِ اَکْرَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: هُمَا رَيْحَانَتايَ مِنَ الدُّنْيا (حسن اور حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں)۔ (بخاری، ۲/۵۴۷، حدیث: ۳۷۵۳) اور فرمایا: اِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدا شبابِ اَهْلِ الْجَنَّة (حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں)۔

ظالم کے ذریعے ظالموں کی ہلاکت

مال و زَر اور عُہْدوں کی لالچ نے یزیدی لشکر کی آنکھوں پر گمراہی کی پٹّی باندھ دی تھی۔ یُوں تو دِین کی مَدَد اَہْلِ حق کو ہی حاصل ہوتی ہے، مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ظالموں کو بھی اُن کے ہاتھوں ہلاک کرواتا ہے۔ قرآن میں ہے: وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (الانعام: ۱۲۹)۔

چُنانچہ شہیدوں کے خُونِ ناحق کا بدلہ لینے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ٹھیک چھ سال بعد مُختار ثَقَفی جیسے کَذَّاب (جھوٹے) اور ظالم شخص کو مُقَرَّر فرمایا، جس نے ایک ایک یزیدی کو چُن چُن کر نہایت سَفّاکی اور بے دَرْدی کے ساتھ مَوت کے گھاٹ اُتار دِیا۔ اِبْنِ زِیاد، اِبْنِ سَعْد، شِمَر، اور دیگر سب ظالم جو امام حُسَیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قتل میں شریک تھے، طرح طرح کی اذیّتیں دے کر قتل کئے گئے۔

یزید کا اَنْجام

واقعہ ٔکربلا کے کچھ ہی دنوں کے بعد یزید ایک ہلاکت خیز اور انتہائی مُوذِی مَرَض میں مبُتلا ہوا۔ پیٹ کے دَرْد اور آنتوں کے زَخْموں کی تکلیف سے مچھلی کی طرح تڑپتا تھا۔ مَوت سے کچھ دن پہلے یزید کی آنتیں سڑ گئیں اور اُس میں کیڑے پڑ گئے۔ تکلیف کی شِدّت سے خِنزیر کی طرح چیختا تھا، پانی کا قَطرہ حَلْق سے نیچے اُترنے کے بعد نِشْتَر کی طرح چبھنے لگتا تھا۔ عجیب قَہْر ِالٰہی کی مار تھی، تڑپ تڑپ کر اُس کی جان نکلی اور لاش میں ایسی ہولناک بدبُو تھی کہ قریب جانا مشکل تھا۔

امِیْرِ اہلسنت حضرت علّامہ محمد الیاس عطّار قادری اپنے رسالے "امام حُسَیْن کی کرامات" میں لکھتے ہیں کہ یزید کی مَوت کا ایک سَبَب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک رُومی لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوگیا تھا۔ اس لڑکی نے ویرانے میں بُلا کر خنجر کے وار سے اُسے قتل کر دیا اور اُس کی لاش چِیل کوّوں کی خوراک بنی۔ (امام حسین کی کرامات، ص ٢۷)

یزید کی قَبْر کا حال

دِمِشْق کے پُرانے قَبْرِستان بابُ الصَّغِیْر کے کچھ آگے یزید کی قَبْر کا نشان تھا، جس پر لوگ اینٹیں پتّھر مارتے تھے۔ وہاں اب شیشہ اور لوہا گَلانے کی بھَٹّی لگی ہوئی ہے۔ گویا یزید کی قَبْر پر ہر وقت آگ جلتی رہتی ہے۔ (شَہادت نواسۂ سید الابرار، ص ۹۱۸-۹۱۹)

وہ تَخْت ہے کس قَبْر میں وہ تاج کہاں ہے
اے خاک بتا زورِ یزید آج کہاں ہے
نہ ہی شِمَر کا وہ سِتَم رہا نہ یزید کی وہ جَفا رہی
جو رہا تو نام حُسَیْن کا، جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

بیان کا خلاصہ

اس بیان میں ہم نے یزید پَلید اور اس کی ناپاک فوج کی فِتْنہ پَروَرِی، ظُلم و زِیادَتی اور ذِلَّت آمیز اَنْجام کے بارے میں سُنا۔ اس بَد بَخْت نے عَدل و اِنْصاف کی بُنیادیں کھود کر تاریخ کے صفحات پر ظُلم و زِیادَتی کی وہ داستان لکھی کہ جسے پڑھ سُن کر بدن لَرزِیْدہ اور آنکھیں اَشکبار ہوجاتی ہیں۔ مکے مدینے کے عام باشندوں سے لے کر صحابۂ کرام اور اہْلِ بَیْتِ اَطہار تک کوئی محفوظ نہ رہا۔ سچ ہے کہ بُرے کام کا اَنْجام بُرا ہوتا ہے، دنیا میں بھی ذِلَّت اُن کا مُقدّر بن جاتی ہے اور آخرت میں بھی اُنہیں رُسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں صحابہ و اَہْلِ بَیْت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن کی مَحَبَّت پر جینا مرنا نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!