Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ذکرِ شہدائے کربلا | رحمت اللہ مصباحی

ذکرِ شہدائے کربلا اور مسلمان (مختلف مجالس کی روداد)
عنوان: ذکرِ شہدائے کربلا اور مسلمان (مختلف مجالس کی روداد)
تحریر: رحمت اللہ مصباحی
پیش کش: سعدیہ سلطانہ عطاریہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

اللہ تعالی قرآن عظیم میں فرماتا ہے تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ اللہ تعالی کی راہ میں شہید کیے گئے وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کی طرف سے انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ شہیدوں کو مردہ کہنا تو دور کی بات ہے بلکہ تم انہیں مردہ تصور بھی نہ کرو۔ یہ محرم الحرام کا مہینہ ہے دس محرم کو کربلا کی سرزمین پر نواسہ رسول کو ظالم یزیدیوں نے شہید کیا مگر سچائی یہ ہے کہ وقتی طور پر بظاہر یہ لگا تھا کہ یزید کامیاب ہو گیا مگر حق اور سچ یہ ہے کہ یزید اور اس کے حامی ہمیشہ کے لیے مر گئے اور شہید اعظم حضرت امام حسین ہی ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔ اکیسویں صدی عیسوی میں آپ کو کروڑوں ”حسین“ مل جائیں گے مگر دنیا کے کسی گوشے میں ”یزید“ نام کا ایک فرد بھی نہیں ملے گا۔

ان خیالات کا اظہار مفکر اسلام مولانا مبارک حسین مصباحی نے محلہ علی نگر میں منعقدہ جلسہ شہدائے کربلا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا موصوف نے مزید کہا کہ کربلا دسویں محرم کا ایک یادگار اور درد و غم سے لبریز حادثہ ہے۔ مولانا نے کہا کہ کربلا حق و باطل کی جنگ تھی۔ آخر میں فرمایا: کہ آج دنیا کے حالات پر نگاہ ڈالیے ہر طرف کربلائی مناظر ہیں۔ چین ہو یا یمن ہو یا ملک شام، سعودی عرب ہو یا برما، فلسطین ہو یا افغانستان ہر طرف یزیدیت آگے بڑھ رہی ہے۔ مسلمان عام طور پر بے عملی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ مسلسل بدامنی اور بے چارگی سے دوچار ہیں، تعلیم و تحقیق کے میدان میں بھی مسلمان دنیا میں اپنی ایک شناخت رکھتے تھے مگر اب انہیں اکثر جہالت اور پسماندگی کی شناخت کے ساتھ پہچانا جارہا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ مسلمان آگے بڑھیں علم و عمل کے میدانوں میں اپنی منفرد شناخت بنائیں۔ حسینی ہونے کا نعرہ لگانا تو آسان ہوتا ہے مگر حقیقی معنوں میں حسینی بننا بڑا مشکل ہے۔

مولانا ظہیر احمد مصباحی استاد عزیز العلوم اعظم گڑھ نے بھی خطاب کیا۔ مجلس کا اختتام صلوۃ و سلام اور مولانا محبوب عزیزی کی دعا پر ہوا۔ جلسہ کی صدارت حضرت مولانا محمد محبوب عزیزی اور نظامت قاری محمد اعظم نے کی۔ جلسہ کا آغاز قاری محمد اعظم عطاری کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ بعدہ قمر الہدی عطاری، زبیدہ عطاری اور محمد فاروق نے نعت و مناقب کے نذرانے پیش کیے۔ اس موقع پر محمد اشرف، محمد عالم گیر مطیع اللہ، حافظ محمد حنظلہ اور حافظ محمد رضا سمیت کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔ (روزنامه انقلاب، بنارس، ۷ ستمبر ۲۰۱۹)


امام حسین رضی الله عنه حق و صداقت کا روشن چراغ تھے

بروز اتوار یکم ستمبر ۲۰۱۹ء، امام احمد رضا مومنٹ کے زیر اہتمام منعقد محفل نوری میں حضرت علامہ مولانا سید قمر اللہ شاہ قادری نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ تاریخ اسلام کی وہ مشہور و معروف عظیم المرتبت شخصیت ہیں، چودہ سو سال سے ہر سال عوام و خواص کے دلوں میں جن کی یاد تازہ ہوتی جاتی ہے۔ دو شنبہ کا دن ۳ شعبان المعظم ۴ھ کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ خاتون جنت بنت رسول اعظم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک سے حضرت مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ کی ولادت مسعود سے قبل حضرت حارث رضی اللہ عنہ کی بیٹی بارگاہِ رسول پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ میں نے ایک بہت ہی بھیانک خواب دیکھا ہے جس کو دیکھ کر میرا دل دھڑکنے لگا اور میرے جسم کا رونگٹا رونگٹا کانپنے لگا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ تم نے کیا دیکھا؟ تو انہوں نے کہا: میری زبان حرکت نہیں کر رہی ہے کہ اس خواب کو بیان کروں۔ تو سرکار کے نہایت اصرار پر کہا کہ خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا۔ یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کوئی خوف ناک یا بھیانک خواب نہیں ہے یہ تو مبارک خواب ہے کہ میری لخت جگر دل کا سرور فاطمہ سے لڑکا پیدا ہوگا اور تم اسے اپنی گود میں کھلاؤ گی۔ ایساہی ہوا سیدنا امام حسین پیدا ہوئے پھر بعد میں بنت حارث کی گود میں ڈالے گئے، وہ امام المرسلین تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر جلوہ فرما ہونے والے آقا اپنے لاڈلے حسین کے لیے کتنے رحیم و کریم اور کتنا شفقت، محبت اور پیار نہ کرتے ہوں گے۔

سات سال کی عمر تھی کہ آپ کے نانا جان رسول پاک پردہ فرما گئے، حضور کا وصال ہو گیا، پھر چند ہی مہینے گزرے تھے کہ والدہ محترمہ کی شفقت و رحمت سے بھی محروم ہو گئے۔ آپ کی تربیت و پرورش کی ساری ذمہ داری آپ کے والد ماجد مولائے کائنات علی مرتضی رضی اللہ عنہ پر رہی۔ امیر المومنین خلیفة المسلمین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی حسنین کریمین ان دونوں بھائیوں سے نہایت محبت و شفقت سے پیش آتے تھے۔ امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بھی اپنے عہد خلافت میں حسن و حسین کا بہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے جب قیصر و کسری کی فتوحات کی وجہ سے خزانے مدینہ میں آنے لگے تو روپیہ کی نہایت ریل پیل ہونے لگی، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سب مسلمانوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا، دوسروں کو جہاں دو ہزار سالانہ فی کس ملتے تھے وہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو پانچ ہزار سالانہ کا عطیہ ملتا تھا۔ امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی اسی طرح برابر عطیات ملا کرتے تھے۔

امیر المومنین حضرت مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے دستبردار ہو کر حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو حکومت سونپ دی۔ امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے کوفہ کے خزانے سے پچاس لاکھ درہم عطا فرما دیے، اس کے علاوہ وقتا فوقتا لاکھوں کے عطیات ملا کرتے۔ سیدنا حسن و سیدنا حسین سخاوت میں بے مثل و بے نظیر تھے جو بھی آپ کو ملتا وہ مستحقین میں خرچ کر دیتے تھے۔ عبادت الہی میں ہمہ تن مشغول رہا کرتے تھے۔ امام حسن (رضی اللہ عنہ) کی شہادت یعنی بڑے بھائی صاحب کی شہادت کے بعد سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بڑی ہی شان و شوکت کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے آپ آغوش رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ، چمن مصطفی کا مہکتے ہوئے پھول تھے، اللہ کی عبادت اور ذکر و اذکار میں شب و روز رہا کرتے تھے۔

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد یزید اسلامی سلطنت کا فرماں روا امیر المومنین بن بیٹھا تو آپ نے اس کے خلاف آواز بلند کی، ایک فاجر و فاسق مسلمانوں کا امیر اور خلیفہ ہرگز نہیں ہو سکتا، اسلامی سلطنت کے حدود میں ہزاروں متقی، پرہیزگار، خوش اخلاق، نیکوکار، ایماندار، مسلمان رہنماؤں کے ہوتے ہوئے ایک بد عمل، بد اخلاق، سیاہ کار مسلمانوں کا امیر یا خلیفہ ہو نہیں سکتا۔ آپ کے اس اعلان حق پر یہ دشمن اہل بیت رسول چراغ پا ہو گیا، آپ کا جانی دشمن بن کر بائیس ہزار کا لشکر خونخوار ناہنجار بھیج کر آپ کو آپ کی اولاد امجاد، آپ کے بھائی کی اولاد اور مکرم بہن کے محترم بیٹوں کو شہید کر دیا۔ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دشمنوں کے لشکر سے گھبرائے نہیں بلکہ خوشی خوشی اپنی جان قربان کر دی، اپنا گھر بار راہ حق میں لٹا کر قیامت تک کے مسلمانوں کو یہ پیغام دے دیا کہ راہ حق میں سر کٹا دو مگر فاسق کی اطاعت قبول نہ کرو۔

آخر میں سلام و دعا پر محفل کا اختتام ہوا۔
از: ناظم نشر و اشاعت، امام احمد رضا مومنٹ، بنگلور


ذکر شہدائے کربلا

مبارک پور، اعظم گڑھ۔

آج دس محرم الحرام ہے آج ہی کے دن کو عاشورہ محرم بھی کہتے ہیں۔ اسلام میں اس دن کی بڑی فضیلت ہے، انبیائے کرام کی زندگیوں میں عاشورہ محرم میں بڑے تاریخی واقعات پیش آئے۔ آج کے دن رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے نفلی روزہ رکھنے کا بھی حکم فرمایا آپ اس دن کے ساتھ ایک اور روزہ رکھنے کا حکم بطور استحباب بھی فرمایا تاکہ مسلمانوں کا روزہ یہود و نصاری سے ممتاز ہو جائے، عاشورہ محرم کی دعائیں اور نفل نمازیں بھی ہیں۔ اس دن پوری دنیا کے مسلمان المناک حادثہ کربلا کے ذکر کی محفلیں سجاتے ہیں، روزے رکھتے، دعائیں پڑھتے اور نفل نمازوں کا اہتمام کرتے ہیں۔

ان اہم مسائل و فضائل کو حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی استاذ الجامعۃ الاشرفیہ نے محلہ پرانی بستی مسجد غوثیہ کے صحن میں منعقدہ ذکر شہدائے کربلا کی مجلس میں بیان فرمایا۔ آپ نے فلسفہ کربلا کو بیان کرتے ہوئے یزید پلید کی بیعت کے تعلق سے رخصت و عزیمت پر بھی روشنی ڈالی اور شرعی دلائل کے ساتھ دونوں کے جواز پر بھی علمی دلائل پیش فرمائے۔ آپ نے اپنے بیان میں معرکہ کربلا کے خونی مناظر بھی سامعین کے سامنے پیش کیے۔ آپ نے حضرت حر، حضرت عبد اللہ بن عمیر کلبی، حضرت عون و محمد، حضرت قاسم، حضرت عباس علمبردار، حضرت علی اکبر، حضرت علی اصغر کی شہادتوں پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی۔

بیان کے آخر میں امام عالی مقام شهید اعظم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قربانی دینے کے مجاہدانہ انداز کو بیان فرمایا۔ جب آپ گلوگیر لب ولہجہ میں ان کی شہادت کا ذکر فرمارہے تھے تو پورا مجمع آہ و بکا میں ڈوبا ہوا تھا۔ حضرت شہید اعظم کے سر مبارک پر نانا جان کا عمامہ شریف تھا، ہاتھ میں حضرت علی شیر خدا کی ذوالفقار تھی، جب کہ والدہ ماجدہ سیدہ کائنات حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا دوپٹہ شریف تھا۔ زخموں کی تاب نہ لاکر جب آپ اپنے گھوڑے سے زمین پر آگئے تو عمر بن سعد ملعون نے سر قلم کرنے کے لیے آگے بڑھنے کی کوشش کی مگر اس کا بدن اور ہاتھ کانپنے لگا، نیزہ ظالم کے ہاتھ سے گر گیا۔ شمر لعین آگے بڑھ کر آپ کے سینہ مبارک پر سوار ہو گیا آپ نے اس قاتل سے دریافت فرمایا آج کون سا دن ہے؟ اس نے کہا جمعہ ہے۔ فرمایا: ابھی وقت کیا ہو گا اس نے کہا نماز جمعہ کا وقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میرے سینے سے اتر جا مجھے اپنے رب کی بارگاہ میں آخری سجدہ تو کر لینے دے۔ آپ نے اپنے خون سے وضو فرمایا جیسے ہی اپنی پیشانی بارگاہ الہی میں جھکائی ظالم نے آپ کے سر مبارک کو تن سے جدا کر دیا اور حضرت شہید اعظم رضی اللہ عنہ زخموں سے چور سجدے کی حالت میں شہادت کی منزل پر فائز ہو گئے۔

حسین ابن علی اور موت ایسا ہو نہیں سکتا
شہیدِ ناز کو نیند آگئی آغوشِ خنجر میں

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا بعدہ نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا گیا جلسہ کا اختتام صلوۃ و سلام اور مولانا الحاج محمود احمد مصباحی استاذ الجامعة الاسلامیہ اشرفیہ سکھٹی کی دعا پر ہوا۔ اس موقع پر حافظ اخلاق احمد، ماسٹر انیس احمد سمیت کثیر تعداد میں معزز سامعین موجود تھے۔


مسجد بلور یا پورہ صوفی میں دوسرا اجلاس

اسی طرح مدرسہ ہاشمیہ اشرفیہ ایجوکیشنل سوسائٹی محلہ پورہ صوفی کے زیر اہتمام جامع مسجد بلور یا پورہ صوفی کے صحن میں منعقدہ سالانہ ذکر شہدائے کربلا کے اہم پروگرام سے حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی نے فلسفہ شہادت اور مابعد شہادت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے قرآن و حدیث کی روشنی میں منصب شہادت کو بیان فرمایا۔ آپ نے دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن عظیم میں ارشاد رب العالمین ہے اے محبوب تم راہ خدا میں شہید ہونے والوں کو مردہ گمان بھی نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وہ نوازے جاتے ہیں۔

مولانا نے احادیث نبویہ اور تاریخ اسلام سے شہدائے کرام کے احوال اور شہادت کے بعد ان کی زندگیوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کا سر اقدس حیات ظاہری میں بھی سب سے بلند تھا اور شہادت کے بعد بھی یزیدیوں نے آپ کے سر اقدس کو نیزے پر اٹھا کر سب سے بلند کر دیا تھا۔ جب آپ کے سر اقدس کو لے کر آگے بڑھے تو حضرت کے لبہائے مبارک حرکت فرمارہے تھے توجہ سے سنا گیا تلاوت قرآن عظیم فرمارہے تھے۔ حضرت خطیب نے اس کی منظر کشی کرتے ہوئے یہ شعر پیش فرمایا:

نیزے پہ بریدہ سر مصروفِ تلاوت ہے
اربابِ قلم لکھو مردہ ہے کہ زندہ ہے

اس کے بعد بھی آپ کے سر اقدس سے کرامات کا ظہور ہوتا رہا دمشق جاتے ہوئے آپ کی شہزادی حضرت سکینہ رضی اللہ عنہا قافلے سے پیچھے رہ گئی تھیں تو آپ کا کٹا ہوا سر اقدس آگے بڑھنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ مولانا نے مزید فرمایا یزید پلید نے جس شقاوت قلبی کا مظاہرہ کیا حضرت امام حسین کے سر اقدس کے لبوں اور زبان پر گستاخانہ حرکت کی تاریخ اسے بھی فراموش نہیں کر سکتی۔ خطیب موصوف نے کہا کہ کربلا کی پوری تاریخ دو حصوں پر مشتمل ہے حضرت امام حسین کی شہادت تک ساری قیادت امامت ان کے ہاتھ میں تھی مگر اس کے بعد ساری قیادت امیر المومنین شیر خدا حضرت مولا علی رضی اللہ تعالی عنہ کی لخت جگر شہزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے سنبھالی۔ آپ نے جس عزیمت و استقامت کا مظاہرہ فرمایا پردہ نشین رہتے ہوئے جس طرح خطبات ارشاد فرمائے سچ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت علی مرتضیٰ کی شہزادی ہونے کا حق ادا فرمایا، آج جو تاریخ کربلا ہمارے سامنے موجود ہے اس میں بہت بڑا کردار حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کا ہے۔

جلسہ کا آغاز قاری شمیم اشرف کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا بعدہ غلام ربانی ابراہیم پوری اور کلام الدین نے بارگاہ رسالت و امامت میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ صدارت مولانا محمد شہاب الدین استاذ اشرفیہ انٹر کالج اور نظامت حافظ محمد شاہد نے کی۔ اس موقع پر مولانا سید ظہور احمد، مولانا محمد اشرف، مولانا حافظ نفیس احمد، مولانا محمد دانش، الحاج مختار احمد مبلغ، حاجی محمود اختر نعمانی، حاجی جمال اختر نعمانی، حاجی اشفاق احمد، حاجی محمد حاتم، محمد اختر نعمانی سمیت کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔

از: رحمت الله مصباحی نمائنده روزنامه انقلاب، مبارک پور
(حوالہ: ماہ نامہ اشرفیہ اکتوبر ۲۰۱۹ء / ص ۵۴ تا ۵۶)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!