Loading...

دور حاضر اور بڑھتی ہوئی دستار بندیاں

دور حاضر اور بڑھتی ہوئی دستار بندیاں
عنوان: دور حاضر اور بڑھتی ہوئی دستار بندیاں
تحریر: عبدالصمد قادری

ماضی کے علماء اور آج کا تقابلی جائزہ

پہلے زمانے میں علماء کی تعداد گنے چنے ہوتی تھی جس کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی اور دین سے دوری تھی۔ مگر ان کا علم پختگی میں مثلِ جبل ہوا کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وسائل کی کمی کے باوجود انہوں نے وہ وہ کام انجام دیے جس کی نظیر نہیں ملتی۔

اب یہاں ایک سوال ذہن میں گردش کرتا ہے کہ پہلے وسائل کی کمی کے باوجود ہمارے مقدمین نے کئی کئی جلدوں میں کتابیں لکھیں مگر آج اس طرح کے کام کیوں نہیں ہوتے؟

  • کیا ہمارے پاس ماخذ نہیں؟
  • کیا ہمارے پاس وسائل نہیں؟
  • کیا ہمارے پاس مسائل نہیں موصول ہوتے؟
  • کیا ہم عوام الناس کے چندے جمع نہیں کرتے؟
  • کیا ہم سے عوام کے مسائل متعلق نہیں؟

پیارے قارئین! یقیناً ہمارے پاس یہ تمام چیزیں موجود ہیں مگر اہل مدارس کی کوتاہی یہ ہے کہ وہ نااہلوں کو دستار بندیاں دیتے ہیں اور انہیں پڑھائی سے منہ موڑنے دیتے ہیں، انہیں اس خوش فہمی میں مبتلا کرتے ہیں کہ وہ عالم ہو چکے ہیں، اب انہیں تعلیم و تعلم کی ضرورت نہیں۔ اب وہ دار الافتاء پر فائض ہونے کے قابل ہو چکے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

اہل مدارس کی ذمہ داری اور محاسبہ

ان کی بربادی کا ذمہ دار کون؟؟ کیا اہل مدارس کی ذمہ داری نہیں کہ ان باتوں پہ توجہ دیں؟؟ کیا جن کے القاب دو دو سطروں میں تحریر ہوتے ہیں ان کا فریضہ نہیں؟؟ بروز قیامت ان کے حوالے سے اہل مدارس سے سوال نہیں ہوگا؟؟

یقینا اہل مدارس سے ان تمام باتوں کے حوالے سے سوال ہوگا، اگر یہی سوال کا جواب اہل مدارس سے اسی دنیا میں مانگ لی جائے تو شاید اہل مدارس کے پاس جواب موجود نہ ہو۔ تو ذرا غور کریں بروز قیامت جب زمین تانبے کی، سورج سوا میل کے فاصلے پر ہوگا اس وقت کیسے جواب بن پائے گا؟؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ جن کو آپ دستار بندی بانٹ رہے ہیں وہی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں آپ کی شکایت کرے اور اس وقت آپ کا کچھ نہ بن پائے۔

محترم اہل مدارس! آپ ابھی صاحبِ اقتدار ہیں، ابھی آپ کے پاس طاقت و قوت ہے، آپ اس فتنہ کو روک سکتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت بنا سکتے ہیں۔

ہماری ذمہ داری اور لمحہ فکریہ

معزز قارئین! نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فرمان کا خلاصہ ہے:
"ہر انسان سے اس کے منصب کے مطابق سوال ہوگا، سلطان سے اس کے رعایا کے بارے میں، عالم سے مقتدیوں کے بارے میں، مفتی سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں، اور اہل مدارس سے ان کے طلبہ کے بارے میں۔"

اب اس پرفتن دور میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کا سدِ باب کریں اور جو صاحبِ اقتدار ہیں ان کی سب سے اہم ذمہ داری ہے کہ دستار بندیاں انہی لوگوں کو دیں جو اس کے اہل ہوں اور جو آپ کے پاس رہ کر باضابطہ طور پر تعلیم و تعلم کا سلسلہ برقرار رکھیں۔ اسی میں ہمارے دین کی بقا اور ہماری عزت کا بھی تحفظ ہے۔

لمحہ فکریہ: ہم ایک نیپال کے باشندے اور باسی ہیں، آپ نیپال کے حالات سے ہم سے زیادہ واقف ہوں گے کہ پورے نیپال میں کوئی ایک ایسا مدرسہ نہیں جہاں پورا درسِ نظامی پڑھایا جاتا ہو، جامعہ میں اچھے اچھے استاد ہوں۔ ہمارے پاس عمارتیں تو بہت بڑی بڑی ہیں مگر تعلیم کہاں؟؟ پہلے تو طلبہ ہند میں جا کر کے تعلیم حاصل کرتے تھے، اب تو وہاں سے بھی راستے بند ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ خدارا! دستار بندیاں تقسیم کرنے کے بجائے اپنے آنے والے نسلوں کے بارے میں سوچیں، غور و فکر کریں، تعلیم کو مضبوط کریں اور اس کا اجر عظیم حاصل کریں۔ اللہ پاک ہمیں عقلِ سلیم عطا فرمائے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!