Loading...

حضور صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضور صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
عنوان: حضور صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
تحریر: مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: محمد کوثر العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

نام ونسب اور تاریخِ ولادت

اسم گرامی: مفتی محمد امجد علی اعظمی۔
القاب: صدر الشریعہ، بدرالطریقہ۔
سلسلہ نسب: مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی بن مولانا حکیم جمال الدین بن حکیم مولانا خدا بخش بن مولانا خیر الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔ آپ کے والد ماجد حکیم جمال الدین اور دادا حضور خدا بخش فنِ طِب کے ماہر تھے۔

تاریخِ ولادت: آپ ۱۳۰۰ھ مطابق نومبر ۱۸۸۲ء کو محلہ کریم الدین، قصبہ گھوسی، ضلع اعظم گڑھ، ریاست اتر پردیش (اب گھوسی علیحدہ ضلع مئو میں آگیا ہے) کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم اور بیعت و ارادت

بالکل ابتدائی تعلیم اپنے دادا مولانا خدا بخش صاحب سے حاصل کی، ان کے وصال کے بعد مولوی الہی بخش صاحب ساکن کوپاگنج، شاگرد مولانا تراب علی صاحب لکھنوی سے کچھ پڑھا جو گھوسی ہی کے مدرسہ میں مدرس تھے، اور بھی کچھ دوسرے لوگوں سے پڑھتے رہے۔ پھر ابتدائے شوال ۱۳۱۴ھ کو مدرسہ حنفیہ جون پور کا سفر کیا جو اس زمانہ میں علم وفن کی عظیم درسگاہ مانی جاتی تھی۔ علوم و فنون کی ابتدائی کتابیں مولانا محمد صدیق صاحب اور مولانا سید ہادی حسن صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کچھ دنوں تک پڑھیں۔ کچھ عرصہ کے بعد تحریک آزادی ہند کے عظیم مجاہد اور اپنے وقت کے ممتاز و متبحر عالم دین علامہ فضل حق خیر آبادی کے شاگردِ رشید جامع معقول و منقول استاذ الاساتذہ مولانا ہدایت اللہ خاں رام پوری ثم جون پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (متوفی ۱۳۲۶ھ/ ۱۹۰۸ء) سے اکتسابِ فیض شروع کیا۔ دن میں استاذ الاساتذہ سے اسباق پڑھتے اور رات میں ان کی خدمت میں حاضر ہو جاتے۔

بیعت و ارادت: آپ نے جن دنوں پٹنہ مدرسہ اہل سنت کو اپنی علمی وفکری جولان گاہ کا مرکز بنارکھا تھا، قاضی عبدالوحید فردوسی قدس سرہ بانی ادارہ کی عیادت کی خاطر آپ کے استاذ حدیث حضرت محدث سورتی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے پٹنہ میں تشریف ارزانی فرمائی۔ اپنے استاذ محترم حضرت محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ کے مشورہ سے سلسلہ قادریہ میں اعلیٰ حضرت قبلہ قدس سرہ العزیز کے حلقہ بگوش بن گئے اور سیدی اعلیٰ حضرت نے بعد میں شرف خلافت سے بھی سرفراز فرمایا۔

سیدی اعلیٰ حضرت نے اپنے خلفاء عظام کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آپ کا تذکرہ یوں کیا ہے: ’’جناب مولانا مولوی حکیم امجد علی صاحب ساکن اعظم گڑھ وارد حال محلہ سوداگران بریلی۔ عالم، فقیہ، مصنف، واعظ، مناظر، حامی سنت و مجاز طریقت۔‘‘

عبقری مدرس اور وصال

کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ پڑھاتے ہیں اور کچھ لوگ پلاتے ہیں۔ صدر الشریعہ قدس سرہ کی تدریسی لیاقت و صلاحیت کا زمانہ معترف ہے۔ آپ کی تدریس کی یہ نمایاں خوبی تھی کہ نہایت ذہین و فطین تلامذہ کے ساتھ ساتھ کند ذہن شرکائے درس کو بھی مکمل سیراب کر دیتے اور ان کے قلوب و اذہان میں مسائل و مضامین کو نقش کالحجر فرما دیتے۔ سرکار اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت امام احمد رضا قدس سرہ یوں مدح سرا ہیں:
’’امجد علی کو درس نظامی کے تمام فنون میں کافی دسترس حاصل ہے اور فقہ میں تو ان کا پایہ بہت بلند ہے۔‘‘

انتقال پر ملال: علم وفن کا یہ بدر منیر، کردار و عمل کا ماہِ درخشاں، زہد و تقویٰ کا پیکر اور فکر و نظر کا نیر تاباں اپنی تمام جلوہ سامانیوں کے ساتھ زندگی کی اکہتر بہاریں دیکھنے کے بعد ۱۳۶۷ھ/۱۹۴۸ء کو اپنے محبوب حقیقی کی بارگاہِ قدس میں حاضر ہو گیا۔
ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے

القاب و خطابات (بارگاہِ رضا میں)

صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی امام اہل سنت کے معتمد خاص تھے اور بارگاہِ رضا میں تفقہ میں سب سے بہتر تھے۔ امام اہل سنت کی زبانِ فیض ترجمان سے آپ کے لیے جو خطابات جاری ہوئے ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • صدر الشریعہ: حضرت علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے جملہ علوم و فنون میں مہارت تامہ عطا فرمائی تھی لیکن تفسیر، حدیث اور فقہ سے خصوصی لگاؤ تھا۔ فقہی جزئیات ہمیشہ نوک زبان پر رہتے تھے، اسی بنا پر دور حاضر کے مجدد امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ نے آپ کو صدر الشریعہ کا لقب عطا فرمایا تھا (تذکرہ اعلیٰ حضرت بزبان صدر شریعت، ص: ۶۹)۔
  • قاضی شرع: خلیفہ اعلیٰ حضرت برہان ملت جبل پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دن صبح تقریباً ۹ بجے اعلیٰ حضرت مکان سے باہر تشریف لائے اور حضرت صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کو مخاطب کر کے فرمایا:
    ملاحظہ ہو: ”میں آج بریلی میں دار القضا شرعی کی بنیاد رکھتا ہوں“ اور انہیں اپنی طرف بلا کر ان کا داہنا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لے کر قالین پر انہیں بٹھا کر فرمایا: ”میں آپ کو ہندوستان کے لیے قاضی شرع مقرر کرتا ہوں۔“ (ایضاً، ص: ۷۲)
  • حامی سنت: امام اہل سنت نے آپ کو اپنے خلفا کی فہرست میں حامی سنت کے لقب کے ساتھ شامل فرمایا ہے۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!