| عنوان: | آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نیند سے بیدار ہو کر چند انداز |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد ناصر جمال عطاری مدنی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
اللہ کریم کا ہم پر احسان ہے کہ اُس نے ہمیں نیند کی اُس نعمت سے نوازا جو ہمارے ذہن کو سکون، روح کو تسکین، دل کو راحت اور جسم کو صحت مند رکھنے میں مدد کرتی ہے اور کرمِ خداوندی سے ہم نیند سے بیدار ہو کر کاموں کو مزید بہتر طور پر کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نیند سے بیدار ہونے کا انداز کیسا تھا؟ ایک اُمّتی ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے یہ جاننا ضروری ہے تاکہ ہم اندازِ مصطفےٰ اپنا کر پورے دن میں خیر و بھلائی پا سکیں۔
بیدار ہو کر صفائی کا اہتمام
اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو کر اُٹھنے کے بعد منہ کی صفائی کا اہتمام فرماتے چنانچہ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو اپنا منہ مسواک سے صاف فرماتے۔ دراصل سوتے ہوئے معدے سے گیس منہ کی طرف آتی ہے جس کی وجہ سے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے اور بدبو آتی ہے۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمّت کی تعلیم کے لیے سو کر اُٹھنے کے بعد مستقل مسواک کرنے کا انداز ہمیں دیا تاکہ ہم اسے اپنا کر منہ کی بدبو اور بدذائقے سے نجات حاصل کر سکیں۔ [بخاری، ج: 1، ص: 386] [عمدۃ القاری، ج: 2، ص: 693]
بیدار ہو کر پڑھی جانے والی دعائیں
نیند سے بیدار ہو کر اپنے حقیقی خالق و مالک کا نام زبان پر آنے کی عادت بن جائے تو دن کس قدر خوب صورت گزرے گا۔ یہ عادت بنانے کے لیے ہم اپنے پیارے کرم نواز آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز ملاحظہ کرتے ہیں چنانچہ
-
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہو کر یہ دُعا پڑھتے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
یعنی تمام تعریفیں اللہ پاک کے لیے جس نے ہمیں موت (نیند) کے بعد زندگی دی اور (قیامت کے دن) اسی کی طرف اُٹھنا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اندازِ دعا سے ہمیں یہ بات سیکھنی چاہیے کہ نیند سے بیدار ہوتے ہی ہمارا سب سے پہلا کام “یادِ خدا” ہونا چاہیے، فتاویٰ عالمگیری میں ہے: صبح ہونے سے پہلے ہی اُٹھ جانا چاہیے نیز خدا کو یاد کرتے ہوئے نیند سے بیدار ہو اور اس بات کا پکا ارادہ کرے کہ حرام کاموں سے بچے گا اور کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ [بخاری، ج: 4، ص: 196]
-
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سو کر اُٹھنے کے بعد ہمیں یہ دُعا سکھائی ہے چنانچہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رات کے وقت نیند سے بیدار ہو کر کہا:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
(یعنی اللہ پاک کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ پاک ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ سب سے بڑا ہے، گناہ سے بچنے کی توفیق اور نیکی کی قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔) پھر وہ یہ کہے:
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي
یعنی اے اللہ! مجھے بخش دے، یا کوئی اور دُعا مانگے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی پھر اگر وہ وضو کرے (اور نماز پڑھے) تو اس کی نماز بھی قبول کی جائے گی۔ [بخاری، ج: 1، ص: 391، حدیث: 1154]
حدیث میں مذکور یہ کلمات “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” انبیاءِ کرام علیہم السلام کی دعا ہے چنانچہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کے دن یہ سب سے بہتر دُعا ہے جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے مانگی ہے۔ [ترمذی، ج: 5، ص: 338، حدیث: 3596]
بیدار ہو کر پڑھی جانے والی نماز
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ وہ عمل پسند تھا جو ہمیشہ ہو۔ آپ سے عرض کی گئی: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت قیام فرماتے تھے؟ فرمایا: جب مرغ کی آواز سنتے۔ [بخاری، ج: 1، ص: 385، حدیث: 1132]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے احوال کی خبر دی ہے کہ آپ رات کے اوّل حصے میں آرام فرماتے اور پھر رات کے تیسرے حصے میں کہ جب مرغ بانگ دیتا اس وقت اُٹھ کر تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت اللہ پاک کی رحمت نازل ہوتی ہے اور یہ وقت کافی سکون والا ہوتا ہے جس میں بندہ شور نہ ہونے کے سبب سکون سے نماز ادا کر سکتا ہے۔ اپنے رب کی عبادت کرنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری اور چھٹے حصہ میں یعنی سحری کے وقت فجر کی نماز پر چُستی حاصل کرنے اور جسم و جان کو آرام پہنچانے کے لیے سو جاتے یا لیٹ جاتے تھے۔ [عمدۃ القاری، ج: 5، ص: 463-465، التوضیح لابن ملقن]
روایات کے مضامین کا خلاصہ
بعض روایتوں میں یہ آیا ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء کے بعد کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر تک اٹھ کر نماز پڑھتے پھر سو جاتے پھر اٹھ کر نماز پڑھتے۔ غرض صبح تک یہی حالت قائم رہتی۔ کبھی دو تہائی رات گزر جانے کے بعد بیدار ہوتے اور صبحِ صادق تک نمازوں میں مشغول رہتے۔ کبھی نصف رات گزر جانے کے بعد بسترے سے اٹھ جاتے اور پھر ساری رات بستر پر پیٹھ نہیں لگاتے تھے اور لمبی لمبی سورتیں نمازوں میں پڑھا کرتے، کبھی رکوع و سجود طویل ہوتا کبھی قیام طویل ہوتا۔ کبھی چھ رکعت، کبھی آٹھ رکعت، کبھی اس سے کم کبھی اس سے زیادہ۔ اخیر عمر شریف میں کچھ رکعتیں کھڑے ہو کر، کچھ بیٹھ کر ادا فرماتے، نمازِ وتر نمازِ تہجد کے ساتھ ادا فرماتے، نمازوں کے ساتھ ساتھ کبھی کھڑے ہو کر، کبھی بیٹھ کر، کبھی سر بسجود ہو کر نہایت آہ و زاری اور گریہ و بکا کے ساتھ گڑگڑا گڑگڑا کر راتوں میں دُعائیں بھی مانگا کرتے۔ [سیرتِ مصطفیٰ، ص: 595]
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اندازِ مصطفیٰ کو کتنے خوب صورت نعتیہ اشعار میں بیان فرمایا ہے:
وَفِينَا رَسُولُ اللّٰهِ يَتْلُو كِتَابَهُ
إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ
أَرَانَا الْهُدَىٰ بَعْدَ الْعَمَىٰ فَقُلُوبُنَا
بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ
يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ
إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ
ترجمہ:
-
اور ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اُس کی کتاب کی تلاوت فرماتے ہیں جب روشنی پھٹتی اور سورج طلوع ہوتا ہے۔
-
آپ نے ہمیں بھٹکنے کے بعد (راہِ) ہدایت دکھائی لہٰذا ہمارے دل اُن پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ نے جو کہا وہ ہو کر رہا۔
-
آپ اس طرح رات گزارتے ہیں کہ (نماز میں مصروف ہونے کی وجہ سے) آپ کے پہلو بستر سے جدا رہتے ہیں جبکہ مشرکین پر یہی بستر بوجھ بن جاتے ہیں (یعنی شدید نیند کی وجہ سے وہ قیام کی طاقت نہیں پاتے۔) [بخاری، ج: 1، ص: 391]
