Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام امن و امان کا مذہب|انیس الرحمن حنفی رضوی

اسلام امن و امان کا مذہب
عنوان: اسلام امن و امان کا مذہب
تحریر: انیس الرحمن حنفی رضوی، بہرائچ شریف
پیش کش: محمد طارق القادری بنارسی
منجانب: مجمع التصانیف

مکرمی! چین و سکون، راحت و اطمینان یہ چند ایسے الفاظ ہیں کہ انسان کو یہ بہت عزیز ہیں اور یہ ان کا بڑا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی زندگی بڑے اطمینان اور سکون سے گزرے۔ جبکہ رنج و غم، مصیبت و تکلیف یہ چند ایسے الفاظ ہیں کہ انسان چاہتا ہے کہ یہ اس کی زبان پہ بھی نہ آئے اور اس کی زندگی میں بھی نہ آئے۔ مگر حالات آج اس کے بالکل برعکس ہیں، راحت و آرام کسی کسی کو میسر ہے جبکہ رنج و غم تقریبا سبھی کی زندگی کا حصہ ہے۔

موجودہ حالات اور بدامنی کا دور

دو بھائیوں میں رسہ کشی کا منظر بڑا پرانا ہو چکا، دو خاندانوں کی چشمک بھی کوئی نئی بات نہیں رہی، ذات پات کی لڑائی کے بھی تقریبا ہم عادی ہو ہی چکے۔ گاؤں گھر میں ہونے والے چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہم دیکھتے ہی رہتے تھے اب ملکی سطح پہ بھی قتل و خونریزی خوب دیکھنے، سننے کو ملتی ہے۔ بات اسی حد تک رہتی تب بھی قابل مذمت تھی لیکن آج پوری دنیا میں قتل و خون کا ایسا بازار گرم ہے کہ دو عظیم جنگ جھیل چکی دنیا تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر ہے۔ ہر طرف قتل و غارت گری، کشت و خونریزی اپنے شباب پر ہے۔

ہاں یہ الگ بات ہے کہ کہیں اس میں شدت ہے تو کہیں اس کی شروعات ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں ہو رہی جنگ و جدال کا اکثر شکا رمسلم ممالک ہیں باقی ساری دنیا امن و امان میں ہیں۔ اور تعجب خیز امر یہ ہے کہ مسلم ممالک میں قتل وغارت گری اور سفاکیت کا مظاہرہ کرنے والی تنظیمیں بھی اسلامی ہیں۔ کچھ نام آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں آپ کو لگے گا کہ اس کا تو اسلام سے بڑا مضبوط رشتہ ہے۔ مثلا، جیش محمد، حزب اللہ، سپاہ صحابہ، حرکت المجاہدین، لشکر طیبہ۔ اس کے علاوہ بھی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو مسلمانوں کی جانب منسوب ہیں جیسے داعش، بوکو حرام، طالبان، تحریک طالبان پاکستان وغیرہ۔

دہشت گردی اور اسلام: دو متضاد پہلو

کیا یہ تنظیمیں واقعی اسلامی تنظیمیں ہیں جو اتنی بے دردی سے انسانیت کا خون بہا رہی ہے یا اسلام کو بدنام کرنے کے لئے محض اسلامی نام استعمال کیا جا رہا ہے؟ معاملہ اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں اسلام اور دہشت گردی کا تصور ایک ساتھ آتا ہے۔ وہ اسلام اور دہشت گردی کو مترادف سمجھتے ہیں حالانکہ دونوں متضاد ہیں۔ اسلام جہاں ہو وہاں دہشت گردی کا کوئی تصور بھی محال اور جہاں دہشت گردی ہو وہاں اسلام کا تصور بھی نا ممکن ہے۔

حقیقت حال یہ ہے کہ ان تنظیموں کا نام تو خالص اسلامی ہے لیکن کام بالکل غیر اسلامی ہے۔ یہ سب خارجی کتے ہیں اور اسلام دشمن قوتوں کی سازش کا ایک حصہ ہیں جو اسلام کے نام پر مسلمانوں کو اور مذہب اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کرنے کی ناپاک اورنا کامیاب کوشش کر رہے ہیں۔

قرآنی تعلیمات: انسانی جان کا احترام

مذہب اسلام جس کے مادہ میں سلامتی کا معنی موجود ہے وہ کبھی بھی دہشت و بربریت کی تعلیم نہیں دیتا۔ جنگ و جدال سے منع کرتا ہے، الفت و محبت کی تعلیم دیتا ہے اور انسانی جان اور امن و امان کی تو اتنی فکر کرتا ہے کہ باضابطہ اللہ رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا

ترجمہ کنز الایمان: “جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلہ یا زمین میں فساد کئے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلایا اس نے گویا سب لوگوں کو جلا لیا۔”

صاحبو! یہ قرآن مقدس کی تعلیم ہے کہ انسانی جان کو بے گناہ قتل کرنا پوری دنیا کو قتل کرنے کے مترادف ہے اور ایک جان کو جلا دینا یہ پوری انسانیت کو زندگی بخشنے کے مترادف ہے۔ جس قوم کے مذہبی کتاب کی تعلیم یہ ہو کیا وہ اس طرح قتل و غارت گری کر سکتا ہے، کیا وہ اتنی بے دردی سے انسانی جان کا خاتمہ کر سکتا ہے؟

اسلام کو جانچنے کا اصل پیمانہ

اسلام دہشت گردی کا مذہب ہے یا امن و امان کا؟ اس کا جائزہ اگر اس کے ماننے والوں سے لیا جائے یا کچھ تنظیموں کے کرتوت کو بنیاد بنا کر اس بات کا فیصلہ کیا جائے تو ظاہر ہے دھوکہ کھانا متعین ہے۔ اس لئے کہ ماننے والے محض نام لیوا بھی ہو سکتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے وہ مکمل اسلامی تعلیمات پہ عمل پیرا ہوں۔ جیسا کہ اس زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھ لیا جائے وہ مسلمان ہیں، ان کی پہچان فقط ان کے نام سے ہوتی ہے ورنہ اسلام کا کون سا طریقہ ان کے اندر موجود ہے؟ اور یوں بھی ہر مذہب کے نام لیواؤں میں کچھ برے ہوتے ہیں کچھ اچھے ہوتے ہیں۔

اور اسلام تو ایسا مذہب ہےجس کی اپنی کتاب ہےجس کااپنا اصول ہے اور وہ کتاب اور پیغمبر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمارے درمیان موجود ہے۔ تو اگر اسلام کو جاننا ہے تو ان کتابوں سے اور اس مذہب کے پیغمبر کے اقوال و افعال سے جانا جا سکتا ہے نہ کہ خاص فرد کے حالات و واقعات سے۔ لہذا جو لوگ اس امن و امان کے مذہب کو محض چند تنظیموں کی بنیاد پر دہشت گردی کا مذہب قرار دیتے ہیں انہیں اپنی رائے پر پھر سے غور و فکر کرنا چاہئے اور ان اسلامی اور مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے جن میں حقیقی اسلامی تعلیمات موجود ہیں۔

شخصیت پرستی کا فتنہ اور اسلام کی حقیقی دعوت

ایک بہت بڑی نا انصافی اور ظلم جو خود مسلمانوں کی جانب سے مسلسل ہو رہا ہے کہ پوری دنیا میں اسلام مخالف سرگرمیاں روز بروز تیز تر ہوتی جا رہی ہیں اس کے جواب میں ہم نام نہاد سجادگان کی تعریف و توصیف میں دن رات مصروف ہیں۔ ان کے چہرہ کو چاند کی مانند اور ان کے جبہ و دستار کو جنتی لباس ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور یہ پیغام دینے میں مصروف ہیں کہ حضرت کا وجود ہم سب کے لئے نعمت ہے۔ صاحبو! اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ ہر اسٹیج سے جب پیر صاحب کا پیغام ہی نشر ہوگا تو اسلام کا پیغام کب عام ہوگا؟ ہر شخص جب شخصیت پرستی ہی میں لگا رہے گا تو پھر اسلام کا گن گان کون کرے گا؟

اسلامی پیغام کو شخصی پیغام یا شخصیت پر ہم نے اتنا غالب کر دیا ہے کہ لوگ شخصیت میں کمی دیکھ کر سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اسلام میں کمی ہے۔ حالانکہ معاملہ یہ ہے کہ اسلام ہر طرح کے عیوب و نقائص سے پاک، ظلم سے مبرا، زیادتی سے دور مذہب کا نام ہے۔ لہذا جو لوگ اسلام کو شخصیت سے جوڑ کر دیکھتے ہیں انہیں اپنا طریقہ بدلنا چاہئے اور اسلام کو شخصیت سے نہیں، شخصیت کو اسلام سے جوڑ کر دیکھنا چاہئے۔ یعنی شخصیت کا پتہ، ان کی بزرگی کا مرتبہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لگانا چاہئے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر کتنے عمل پیرا ہیں اور اسی کو پیمانہ بنا کر ان کی شخصیت و بزرگیت کا اندازہ لگانا چاہئے نہ کہ ان کے اقوال و افعال اور حرکات و سکنات کو دیکھ کر یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام کیسا مذہب ہے اور کیسوں کا مذہب ہے؟

اللہ تعالی ہم سبھی کو احکام اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دین کا سچا پکا مبلغ بنائے، آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!