| عنوان: | ناصرِ سنت، قاطعِ بدعت، ابوالمساکین ضیاء الدین پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نام و نسب
اسمِ گرامی مولانا ضیاء الدین، کنیت ابوالمساکین ہے۔ والد کا اسمِ گرامی مولانا حسین علی رحمۃ اللہ علیہ ہے۔
ولادت
ابوالمساکین حضرت علامہ مفتی شاہ ضیاء الدین تلہری ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت ایک متدین اور علمی گھرانے میں شوال المکرم ۱۲۹۰ھ / ۱۸۷۴ء میں تلہر، ضلع شاہجہاں پور (یوپی) میں ہوئی۔
تعلیم و تربیت
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر والد ماجد حضرت مولوی حسین علی تلہری مرحوم سے حاصل کی، علمِ حدیث کے حصول کے لیے اپنے والد ماجد کی اجازت سے مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت کا سفر فرمایا، جہاں امام المحدثین حضرت علامہ مفتی شاہ وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ مسندِ شیخ الحدیث پر متمکن تھے۔ آپ نے حضرت محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہِ گوہر بار میں زانوئے ادب تہہ فرما کر صحاحِ ستہ کا درس لیا اور فنِ حدیث میں یدِ طولیٰ حاصل کیا۔ آپ کی ذہانت اور تبحرِ علمی کو دیکھتے ہوئے حضرت استادِ محترم نے علمِ طب حاصل کرنے کا مشورہ دیا، آپ کے ایماء پر تکمیلِ الطب کالج لکھنؤ تشریف لے گئے اور بہت ہی انہماک کے ساتھ ذی صلاحیت اساتذہ سے علمِ طب حاصل کیا۔
درس و تدریس
تکمیلِ الطب کے بعد باقاعدہ طبابت کو ذریعہ معاش نہیں بنایا بلکہ قال اللہ اور قال الرسول کے درس ہی کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا۔
تحریری خدمات
حضرت علامہ ضیاء الدین رضوی پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ کو تدریسی صلاحیت کے ساتھ ساتھ تحریری دنیا میں کامل دسترس حاصل تھا، اسی صلاحیت کو کارِ آمد بنانے کے لیے خلیفہ اعلیٰ حضرت علامہ عبد الوحید فردوسی عظیم آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ "ماہنامہ تحفہ حنفیہ" پٹنہ کی ادارت کے لیے منتخب فرمایا، آپ نے کئی سال تک بحیثیت مدیرِ خدمت انجام دی، رسالے کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ آپ نے صحافت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے ذریعہ بھی مسلکِ اہلِ سنت کے پیغام کو عوام تک پہنچانے میں ایک منفرد مثال پیش کی ہے، آپ کی چند قابلِ ذکر کتابیں یہ ہیں:
- ذکرِ ابرار
- ضیاء الرشاد
- التحقیق المعلیٰ
- فرامینِ شریعت
- مراتبِ سیاست
بیعت و خلافت
محدثِ سورتی رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ بروزِ جمعرات بریلی شریف حاضر ہوئے وہیں اعلیٰ حضرت کی پہلی زیارت اور بیعت سے مشرف ہوئے۔ اعلیٰ حضرت اپنے اس چہیتے مرید کے علمی، تحریری و صحافتی لیاقت، تدریسی تبحر اور فقہی صلاحیت کے اس حد تک معترف تھے کہ اپنے خلفاء اور تلامذہ کے درمیان آپ کی رفعتِ شان بیان کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ حاضرِ بارگاہِ خدمت ہوئے، اعلیٰ حضرت کا مزاجِ شریف اوجِ ثریا پر تھا، آپ کو دیکھتے ہی قرب آنے کا حکم دیا اور سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا، نیز اوراد و وظائف کی بھی اجازت مرحمت فرمائی۔
وصال
۲۸ محرم الحرام ۱۳۶۴ھ / ۱۹۴۵ء بوقتِ فجر بحالتِ نماز روحِ قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی، آپ کے شاگردِ عزیز شیرِ بیشہ اہلِ سنت علامہ مفتی شاہ الحاج حشمت علی خاں لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور بہشتیوں والی مسجد سے متصل تدفین عمل میں آئی۔
خطابات
الخطابات و خطابات: (۱) ناصرِ سنت (۲) قاطعِ بدعت۔
امام اہلِ سنت کے خلفائے کرام میں ایک نام ابوالمساکین مولانا محمد ضیاء الدین پیلی بھیتی کا بھی آتا ہے۔ نیچریوں کے رد میں امام اہلِ سنت کے رسالے "الدلائل القاھرۃ علی الکفرۃ النیاشرۃ" میں آپ کی تصدیق کو درج ذیل القاب کے ساتھ جگہ دی گئی ہے:
"تصدیق ناصرِ سنت قاطعِ بدعت مولانا مولوی ابوالمساکین محمد ضیاء الدین صاحب زید مجدہم
(۵۳) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، الحمد اللہ العزیز الکریم والصلوٰۃ والسلام علیٰ حبیبہ الرؤف الرحیم۔
فتوائے مبارکہ فرستادہ ناصرِ ملت حقہ، ناشرِ سنتِ سنیہ، قاطعِ اعناقِ بدعاتِ شنیعہ، قامعِ فیضِ محدثاتِ قبیحہ، سرشکنِ فرقِ باطلہ من الندوۃ والوہابیۃ والنیاچرہ، ماحی و طغیان، حامی و دین و ایمان جنابِ قاضی قاسم میاں امامِ جامع شہر گونڈل متعلق کاٹھیاوار صانہ المولیٰ الستار عن شرور الاشرار (خدائے ستار انہیں اختراز کے شر سے محفوظ فرمائے۔ ت) فقیر کی نظر سے گزرا خلعتِ صدق و ثواب سے آراستہ زیور شدہ ہدایت سے پیراستہ پایا۔" (فتاویٰ رضویہ، ج: ۱۵، ص: ۱۲۰)
(امام احمد رضا اور القاب نوازی|صفحات ۲۳۳ تا ۲۳۵)
