Loading...

مولانا مبارک حسین مصباحی کی تحریری خدمات

مولانا مبارک حسین مصباحی کی تحریری خدمات
عنوان: مولانا مبارک حسین مصباحی کی تحریری خدمات
تحریر: عمران رضا عطاری مدنی
پیش کش: مولانا مبارک حسین مصباحی

ربِ کریم نے حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کو قلم کی غیر معمولی صلاحیت، فکری گہرائی اور تحریری مہارت سے خوب نوازا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم آپ کو "فخرِ صحافت"، "ماہرِ قلم" اور "آبروئے قلم" جیسے معزز القابات سے یاد کرتے ہیں۔

آپ کی تحریروں میں شائستگی، سلاست، علمی وقار اور فکری پختگی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ الفاظ کا برمحل انتخاب، دل نشین تعبیرات، جملوں کا باہمی ربط اور مضامین کی مضبوط ترتیب قاری کو ابتدا سے انتہا تک اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔ آپ کا اندازِ نگارش ایسا دلکش اور مؤثر ہوتا ہے کہ پڑھنے والا بے اختیار داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آپ کے علمی و تحقیقی مضامین نے علمی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کی اور اہلِ علم و دانش کے درمیان آپ کی تحریروں کا چرچا دور دور تک پھیلا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کا نام زبان پر آتا ہے تو ذہن میں قلم، تحریر، مضمون نگاری، صحافت اور علمی خدمات کا ایک پورا جہاں آباد ہو جاتا ہے۔ گویا آپ کی شخصیت علم و قلم کی ان تمام نسبتوں کا حسین عنوان تھی۔

مضمون نگاری کن سے سیکھی...؟

کوئی بھی کام سیکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے مسلسل مشق اور رہنمائی ضروری ہوتی ہے۔ یہی حقیقت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب کے تعلیمی دور میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ جب آپ ازہرِ ہند جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں زیرِ تعلیم تھے، تو آپ نے اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کرنے کے بجائے تحریری صلاحیتوں کی تربیت کو خصوصی اہمیت دی۔ اس مقصد کے لیے آپ باقاعدگی سے عمدۃ المحققین، خیرالاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی (ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ) کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان کی علمی و فکری رہنمائی سے استفادہ کرتے۔ آپ اپنے مضامین تحریر کرکے قبلہ مصباحی صاحب کی بارگاہ میں پیش کرتے، جہاں ان کی اصلاح و تصحیح فرمائی جاتی۔ یوں مسلسل محنت، رہنمائی اور اصلاح کے نتیجے میں آپ ایک ماہر اور صاحبِ طرز مضمون نگار کے طور پر سامنے آئے۔

آپ کی کتابیں

آئیے! اب آپ کی چند علمی و قلمی یادگاروں اور کتب و رسائل کا تذکرہ کرتے ہیں:

  • خلیج کا بحران
  • عشقِ رضا کی سرفرازیاں
  • پیامِ سیرت
  • اسلام اور ہندوستانی مذاہب کا تصور روحانیت
  • بر صغیر میں افتراق بین المسلمین کے اسباب
  • جہانِ رئیس القلم
  • مدارسِ اسلامیہ تاریخ و حقائق کے اجالے میں
  • الجامعۃ الاشرفیہ ایک مختصر تعارف
  • امام احمد رضا اور مسلکِ جمہور
  • کیا خدا جھوٹ بول سکتا ہے...؟
  • دو عظیم شخصیتیں
  • آفتابِ قدس نکلا نور برساتا ہوا
  • حافظِ ملت اور جمشید پور
  • شہرِ خموشاں کے چراغ وغیرہ ذٰلک

(فروغِ رضوات میں فرزندانِ اشرفیہ کی خدمات، ۴۰۵)

منصبِ ادارت پر

مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کی علمی، قلمی اور صحافتی خدمات کو دیکھتے ہوئے جامعہ اشرفیہ کے ذمہ داران نے آپ کو ماہنامہ اشرفیہ، مبارک پور کا مدیر مقرر فرمایا۔ یہ ذمہ داری آپ نے نہایت اخلاص، دیانت اور للہیت کے ساتھ نبھائی اور رسالے کو علمی و فکری اعتبار سے ایک ممتاز مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آپ خود بھی مسلسل معیاری مضامین تحریر فرماتے تھے اور ملک بھر کے نامور علما، محققین اور مصنفین سے رابطے میں رہ کر مختلف موضوعات پر ان کی تحریریں حاصل کرکے انہیں ماہ نامہ کا حصہ بناتے تھے۔ اس طرح ماہ نامہ اشرفیہ اہلِ علم کے لیے ایک مضبوط علمی و فکری پلیٹ فارم بن گیا۔

آپ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ نئے لکھنے والوں اور نو آموز قلم کاروں کی حوصلہ افزائی فرماتے، ان کی رہنمائی کرتے اور ان کی تحریروں کی اصلاح کرکے انہیں بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ چناں چہ آپ کی تربیت اور سرپرستی میں بہت سے نئے مصنفین نے قلمی میدان میں قدم رکھا اور ان کی معیاری تحریریں ماہنامہ اشرفیہ کی زینت بنیں۔ یوں مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ صرف ایک کامیاب مصنف اور مدیر ہی نہیں تھے بلکہ ایک بہترین مربی، مشفق استاد اور باصلاحیت قلم کاروں کے معمار بھی تھے۔

آپ کے دورِ ادارت میں شائع ہونے والے نمبرات کا اجمالی ذکر ملاحظہ فرمائیں!

  • پیغمبرِ اعظم نمبر
  • انوارِ حافظِ ملت نمبر
  • صدر الشریعہ نمبر
  • سلطان الہند خواجہ غریب نواز نمبر
  • جشن شارح بخاری نمبر
  • فقیہ اعظم ہند نمبر
  • سیدین نمبر وغیرہ

حضور امین ملت سید امین میاں برکاتی کے تأثرات

ماہ نامہ کی شان دار ادارت کے متعلق حضور امین ملت سید امین میاں برکاتی اور سید نجیب میاں حیدر نوری (سجادہ نشین خانقاہِ برکاتیہ، مارہرہ مطہرہ) کے متفقہ تحریر میں ہے:

"جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا معروف جریدہ ماہنامہ اشرفیہ ہمیشہ ان (مولانا مبارک حسین مصباحی) کی پر خلوص علمی اور صحافتی خدمات کا مرہونِ منت رہے گا۔ انہوں نے ماہنامہ اشرفیہ کو ایک مخصوص مذہبی صحافت کی نہج سے متعارف کرایا اور بے حد معلوماتی، سنجیدہ اور عوام الناس کے کام آنے والے مضامین کی اشاعت کر کے ماہنامہ اشرفیہ کو عوام و خواص کے مابین نہ صرف مقبول کرایا بلکہ استناد اور اعتماد کے ساتھ اس رسالے کے اقبال کو بلند کرنے میں اپنی کامیاب سعی فرمائی۔"

سراج الفقہا کے جذبات

سراج الفقہا مفتی نظام الدین رضوی حفظہ اللہ آپ کے متعلق لکھتے ہیں:

"مذہبی صحافت میں ایک مدیر کی ذمہ داریاں بھی کافی ہوتی ہیں۔ مضامین کا انتخاب، احوال و زمان پر نظر اور اس کے متعلق قارئین کے لیے فکری مضامین، تحریر میں شرعی اور مذہبی امور کی رعایت، ادارہ کی ترجمانی کا پاس و لحاظ۔ ان سب کے ساتھ ادارتی صفحات کو ناظرین کے لیے دل چسپ اور معلومات افزا بنانا مولانا کے قلمی اوصاف سے ہے۔ ہم نے ان کے جو اداریے پڑھے ان سے یہ احساس اجاگر ہوا؛ مولانا جب تک صحت مند رہے ان امور کی اپنی نظر و فکر کے لحاظ سے خوب رعایت کی اور ماہنامہ اشرفیہ کو خوب سے خوب تر کی طرف لے جانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام آتے ہی فورا لوگوں کا ذہن ماہ نامہ کی جانب چلا جاتا گویا مرحوم اور ماہنامہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر گئے ہوں۔"

تحریری ترغیب و حوصلہ افزائی

مولانا مبارک حسین مصباحی کی ایک خوب صورت عادت تھی کہ مصنفین و محررین کی بڑی قدر کرتے بالخصوص نو آموز قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور دعاؤں سے نوازنا، شفقت بھرا سلوک آپ کا معمول تھا:

  • ۱۔ ایک محرر لکھتے ہیں: ماہنامہ اشرفیہ مبارک پور کے چیف ایڈیٹر ہونے کے ناطے انہوں نے جنگ 1857ء کے ڈیڑھ سو سال پورے ہونے پر ایک ضخیم شمارہ “1857ء نمبر” نکالنے کا اعلان جاری کیا، مجھے خبر لگی تو میں نے اس جنگ کے ایک نادر پہلو “انقلاب 1857ء کا جہادی پہلو: صحیح یا غلط؟” کے عنوان کے تحت ایک طویل تاریخی و فقہی مقالہ قلم بند کیا اور عرس حافظ ملت کے موقع پر جس میں میں نے بھی شرکت کی تھی، اپنے ہاتھ سے حضرت کے حوالے کیا، حضرت بہت خوش ہوئے اور کہا کہ آپ کا یہ مقالہ ضرور اشاعت پذیر ہوگا، کیوں کہ آپ نے ایک ایسے گوشے پر لکھا ہے جو میرے ذہن میں بھی نہیں تھا اور جب یہ نمبر منظر عام پر آیا تو حضرت نے میرے مقالے کو نہایت اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔
  • ۲۔ مولانا فضل الرحمٰن برکاتی مصباحی اپنی کتاب "فرزندانِ اشرفیہ کی علمی و تصنیفی خدمات" میں لکھتے ہیں: جب میں اپنے مقالے کی تکمیل کر رہا تھا اور تقریبا فل اسکیپ سائز سے چالیس صفحات تحریر کر چکا تھا تو اسی درمیان کسی کام سے حافظ ملت کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ کے D.T.P روم میں گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی چیف ایڈیٹر ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور کی تشریف آوری ہوئی۔ اس مقالے سے متعلق گفتگو ہوئی، حضرت نے ملاحظہ کیا، خوش ہوئے اور حوصلہ افزائی کی اور بغیر کچھ گفت و شنید کے از خود ماہ نامہ اشرفیہ میں اشاعت کی پیش کش فرمائی۔ اور مضمون کی ترتیب کے متعلق حضرت ہی نے مشورہ دیا کہ فرزندانِ اشرفیہ کی سن فراغت کے اعتبار سے ترتیب مناسب ہوگی۔ مجھے یہ مشورہ کافی پسند آیا اور اس مقالے کو از سر نو سن فراغت کے اعتبار سے مرتب کیا۔ اور پھر بارہ قسطوں میں ماہ نامہ اشرفیہ (نومبر ۲۰۱۰ء تا فروری ۲۰۱۲ء) آپ نے اس کی اشاعت فرمائی، جو قلمی دنیا میں میرے تعارف کا سبب بنا۔ اس کے لیے میں آپ کا تہ دل سے مشکور ہوں۔
    (فرزندانِ اشرفیہ کی علمی و تصنیفی خدمات، ص: ۱۵)

میدانِ تحریر و تصنیف میں شہادتِ علما

علماے کرام نے اپنے تأثرات میں آپ کی تحریری مہارت، ماہنامہ اشرفیہ کی شان دار ادارت، فنِ صحافت اور دینی خدمات کو نہایت خوب صورت اور عمدہ انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ذیل میں چند تأثرات بطورِ نمونہ پیشِ خدمت ہیں:

  • ۱۔ سراج الفقہا محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین رضوی برکاتی حفظہ اللہ: "جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے کثیر فارغین مختلف شعبوں میں اپنی نمایاں خدمات اور کارناموں کی وجہ سے افقِ ہند پر روشن و منور ہوئے مگر جس ذات گرامی نے مذہبی اور دینی صحافت کی دنیا میں نقوش ثبت کیے اور اس میدان میں اپنی خوبیوں اور کمالات کی بدولت شہرت و بلندی کے نصف النہار پر پہنچے اسے اہل علم و خرد "مبارک حسین مصباحی" کے نام سے جانتے ہیں۔ تین دہائیوں سے زائد جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ترجمان "ماہنامہ اشرفیہ" کی تسلسل کے ساتھ ادارت کر کے ماہنامہ اشرفیہ کے سب سے طویل عرصے تک مدیر رہنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ مولانا مرحوم، صاحبِ تصنیف و تالیف بھی تھے۔ "بر صغیر میں افتراق بین المسلمین کے اسباب" ان کی تحریری خدمات کی فہرست میں ایک ایسا نام ہے کہ اگر ان کی کوئی اور تحریر نہ ہوتی تو یہی کتاب ان کے تعارف اور انھیں زندہ رکھنے کے لیے کافی تھی۔ اس کے علاوہ خلیج کا بحران: ایک تفصیلی جائزہ، پیامِ سیرت، عشقِ رضا کی سرفرازیاں، اسلام اور ہندوستانی مذاہب میں تصورِ روحانیت، جہانِ رئیس القلم، شہرِ خموشاں کے چراغ نامی کتابیں شائع ہو کر داد و تحسین وصول کر چکی ہیں۔"
  • ۲۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نعیمی صاحب: "مذہبی صحافت میں مولانا مبارک حسین مصباحی کا نام معتبر ناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ویسے تو وہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں مخصوص کتابوں کا درس بھی دیا کرتے تھے لیکن ان کی اصل شہرت ماہنامہ اشرفیہ کے مدیر اعلیٰ کے طور پر ہوئی۔ ان کے نوکِ قلم سے سیکڑوں مضامین اور درجن بھر سے زائد کتابیں منظرِ عام پر آئیں۔ زبان و بیان کا بھی خوب ملکہ پایا تھا؛ خطاب کرتے تو خالص خطیب نظر آتے، جیسے ہی ماہنامہ اشرفیہ کے صفحات دیکھتے تو ایک ادیب نظر آتے۔ اس طرح ان کی ذات کئی خوبیوں کی حامل تھی۔"
  • ۳۔ مولانا سید معین الدین اشرف اشرفی جیلانی: "اہلِ سنت و جماعت کے معروف قلم کار... مولانا مبارک حسین صاحب مصباحی... دینی سیمینار میں شرکت فرماکر اپنی گراں قدر رائے سے نوازتے۔ ایک طویل عرصہ تک ماہ نامہ اشرفیہ کے ایڈیٹر رہے۔ آپ درس و تدریس اور میدانِ تحریر کے تاجدار تھے۔"
  • ۴۔ صدر المدرسین مولانا امید علی صدیقی: "جہانِ قرطاس و قلم کی معروف ترین شخصیت، ادیبِ شہیر، حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب... مولانا موصوف طرزِ ادیبِ محقق تھے... سیدین نمبر، دو عظیم شخصیتیں، شہرِ خموشاں کے چراغ کی تصنیف و تالیف اور ماہ نامہ اشرفیہ کی شان دار ادارت آپ کی زندگی کے وہ عظیم کارنامے ہیں جو رہتی دنیا تک یاد کیے جائیں گے۔"
  • ۵۔ صدر المدرسین مفتی راحت احسان برکاتی: "فخرِ صحافت، ماہرِ قرطاس و قلم، خلیفہ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مبارک حسین مصباحی... آپ علم و ادب، صحافت اور تدریس کے میدان کی ایک درخشاں شخصیت تھے۔ آپ کی علمی بصیرت، ادبی ذوق، شائستہ قلم اور مخلصانہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کی رحلت صرف جامعہ اشرفیہ یا ماہ نامہ اشرفیہ کا ہی نقصان نہیں بلکہ پوری علمی و صحافتی دنیا کا ایک عظیم خسارہ ہے۔"
  • ۶۔ دار العلوم نوری کے اساتذہ: "علامہ موصوف جامعہ اشرفیہ سے فراغت کے بعد وہیں تدریس کے لیے منتخب ہوئے، ساتھ ہی اشرفیہ کے علمی ترجمان ماہنامہ اشرفیہ کی ادارت کی اہم ذمہ داری بھی آپ کے سپرد کی گئی، عہدِ طالب علمی سے ہی آپ کا رشتہ تحریر و قلم سے استوار تھا، اس لیے آپ نے ماہنامہ اشرفیہ کی ادارت کی ذمہ داری کو نہ صرف سنبھال لیا بلکہ اس علمی جریدے کے معیار کو خوب خوب ارتقا بخشا، آپ کے عہدِ ادارت میں ماہنامہ اشرفیہ نے غیر معمولی ترقی کی، ادارت کے ساتھ درس و تدریس، تحریر و تصنیف اور خطابت و تقریر میں بھی آپ نے اپنی منفرد شناخت بنائی، ایک درجن سے زاید کتابیں آپ کے قلم سے یادگار ہیں، جن میں متعدد کتابیں غیر معمولی شہرت کی حامل ہیں، افتراق بین المسلمین کے اسباب اور شہرِ خموشاں کے چراغ؛ آپ کی تحریری صلاحیت، بصیرت اور مفکرانہ سوچ پر روشن شاہکار... اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری قدس سرہ کے علم، فکر اور عشقِ رسول کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی کتابیں اور درجنوں مقالات بھی آپ کے قلم سے یادگار ہیں جن میں عشقِ رضا کی سرفرازیاں آپ کی بہت مقبول تصنیف ہے۔"

تحریر کی ایک مختصر مثال

مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کے قلم کا حسن، عبارت کی روانی، الفاظ کی چاشنی اور تعبیرات کی دل آویزی کس قدر دل موہ لینے والی تھی، اس کا اندازہ ان کی ایک مختصر سی عبارت سے بخوبی کیا جا سکتا ہے:

”بزرگانِ دین اور مشائخِ طریقت کے اعراس حق ہیں، ان کے فیوض و برکات کا چشمہٴ نور حیاتِ ظاہری میں بھی ابلتا رہتا ہے اور وصالِ حق کے بعد بھی ایک پر جوش سیلاب کی طرح ہر طرف امنڈتا رہتا ہے، نہیں بلکہ جسمانی علائق ختم ہوتے ہیں تو روحانی تصرفات میں مزید برق رفتاری پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ سب قرآن و حدیث سے بھی ثابت ہے، ان کی بے شمار عملی مثالیں تاریخِ اسلام میں بھی موجود ہیں۔ اس وقت ہم بات کریں گے خاکِ ہند کی اس با فیض شخصیت کی جن کے دربارِ گوہر بار میں دنیا کے تمام گوشوں کے لوگ اپنی حاجتوں کو لے کر آتے رہے ہیں، آج بھی آرہے ہیں اور ان شاء اللہ قیامت تک آتے رہیں گے۔ ہماری مراد ہیں، مخدوم العالم حضور سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ العزیز، جن کی با فیض ذات کو اللہ تعالیٰ نے قدوۃ الکبریٰ، قطب الاقطاب اور غوث العالم کا عظیم ترین منصب عطا فرمایا۔“

(ماہ نامہ اشرفیہ، نومبر ۲۰۱۷ء، ص: ۳)

رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ حضرت کی جملہ علمی و تصنیفی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ان کی نجات و بخشش کا ذریعہ بنائے، آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!