ضیغمِ ملت علامہ محمود جان جام جودھ پوری رحمۃ اللہ علیہ

ضیغمِ ملت علامہ محمود جان جام جودھ پوری رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: ضیغمِ ملت علامہ محمود جان جام جودھ پوری رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: امام احمد رضا اور القاب نوازی
پیش کش: صبرین فاطمہ رضویہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ولادت و تعلیم

حضرت علامہ محمود جان خان قادری جام جودھ پوری پشاوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۱۲۵۵ھ کو پشاور پاکستان میں ہوئی۔ اس خاندان کے لوگ علم و ہنر، شجاعت و جواں مردی اور ایثار و سخاوت کے اوصاف سے مالامال تھے، ان کی مہمان نوازی ضرب المثل تھی، صاحبانِ حکومت و اقتدار بھی خاندان میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کی تکمیل اپنے والدِ محترم حضرت مولانا مفتی حافظ غلام رسول صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے زیرِ سایہ کی۔

بیعت و خلافت

آپ نے بریلی شریف جا کر جامعِ شریعت و طریقت، مجددِ دین و ملت، عظیم البرکت امامِ اہل سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ کے دستِ حق پرست پر بیعت فرمائی اور بیعت کے بعد ہی سندِ خلافت سے بھی نوازے گئے۔

دینی خدمات

حضرت مولانا محمود جان جام جودھ پوری رحمۃ اللہ علیہ تحصیلِ علوم سے فارغ ہو کر تبلیغِ اسلام کی طرف متوجہ ہوئے اور پشاور سے منتقل ہو کر صوبہ کاٹھیاواڑ کی بستی جام جودھ پور میں اقامت پذیر ہوئے، اوائل میں بکمالِ دلچسپی ردِ نصاریٰ کی طرف زیادہ توجہ رہی، بڑے بڑے جلسوں میں پادریوں سے مناظرے ہوئے۔ كلمة الله هي العليا کی ضیا اور حقانیتِ اسلام کے انوار سے ظلماتِ اباطیل کا نشان تک نہ رہا، عمر کے اواخر میں تردیدِ وہابیہ تقریرًا و تحریرًا کامل فرمائی۔

تصنیف و تالیف

حضرت مولانا محمود جان صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بذریعہِ تحریر بھی اسلام کی خدمت فرمائی۔ اور احقاقِ حق و ابطالِ باطل فرمایا۔ آپ کی ایک عظیم الشان تصنیف ”ایضاحِ سنت“ ہے جس پر ۶۱ جلیل القدر علمائے اہل سنت کی تقریظ موجود ہیں اور دوسری کتاب ”ذکرِ رضا“ ہے جس میں امامِ اہل سنت فاضلِ بریلوی کے حالات و کوائف منظوم شکل میں پیش کیے گئے ہیں۔

وصالِ مبارک

آپ کا انتقال ۳/ صفر المظفر ۱۳۵۷ھ کو جام جودھ پور میں ہوا۔

خطابات

القابات و خطابات: (۱) حامی السنن، ماحی الفتن۔

حضرت علامہ محمود جان جودھپوری رحمة اللہ علیہ امام اہل سنت کے خلفاء میں سے تھے اور آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے امام اہل سنت کی سب سے پہلی سوانح عمری لکھی اگرچہ منظوم شکل میں۔

حامی السنن، ماحی الفتن: امام اہل سنت نے دیگر اہل علم کی طرح آپ کو بھی خالی نہیں چھوڑا بلکہ آپ کو بھی خطاب سے یاد فرمایا۔ چنانچہ آپ کی کتاب "ایضاحِ سنت" پر تقریظ میں لکھتے ہیں:

”اللہم لک الحمد، یہ مبارک رسالہ ہدایت قبالہ، تصنیفِ لطیف صاحب المکرم اخی فی اللہ ، ذی الفضل والجھاہ، حامی السنن، ماحی الفتن، مولانا مولوی محمود جان صاحب قادری برکاتی پشاوری حماہ اللہ و وقاہ و زادہ فی مدارج الکمال مرتقاہ کی نظر سے گزرا۔ میں نے اسے با وصفِ جمالِ اجمال بہ قصدِ کافی کمالِ اکمال سے مزین پایا۔ حق سبحانہ نے اس زمانہ فتن و محن میں جو مصنف کو توفیقِ حمایتِ دین و نکاتِ مفسدین عطا فرمائی اس پر حمد الہی بجالایا۔ الحمد للہ، یہ فاضلِ مجیب سلمہ القریب پر اللہ و رسول کی منت ہے اور اس کا صلہ ان شاء اللہ الکریم ثم رسولہ الرؤف الرحیم قربِ الہی و جنت ہے۔“

(تقاریظ امام احمد رضا، ص: ۱۴۱)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!