Loading...

اعلی حضرت علیہ الرحمہ بحیثیت محدث

اعلی حضرت علیہ الرحمہ بحیثیت محدث
عنوان: اعلی حضرت علیہ الرحمہ بحیثیت محدث
تحریر: محمد جمال الدین عطاری
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج نیپال

الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم باسم اللہ الرحمن الرحیم

درود شریف کی فضیلت: من صلی علیّ فی یوم الف مرۃ لم یمت حتی یری مقعدہ من الجنۃ
ترجمہ: جس نے مجھ پر روزانہ ایک ہزار مرتبہ درود پاک پڑھا وہ اس وقت تک نہیں مرےگا جب تک وہ اپنا ٹھکانہ جنت میں نہ دیکھ لےـ

تمہید

اللہ پاک کی مسلمانوں پر بہت سی نعمتیں ہیں، انہی نعمتوں میں سے علماء اہلسنت ہیں جن کی وجہ سے مسلمان سیدھی راہ کو پہچانتا ہے۔ اعلیٰ حضرت بھی ان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ الحمدللہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ وہ شخصیت ہیں جن کے اندر محبتِ خدا اور عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم موجزن تھا اور دوسروں کے اندر بھی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ڈالتے تھے۔ آپ علیہ الرحمۃ کو ہر فن میں مہارتِ تامہ حاصل تھی، جس فن میں قلم اٹھاتے تھے اس میں دریا بہا دیتے تھے چاہے وہ فقہ ہو، تفسیر ہو، ریاضی ہو، توقیت ہو یا فلسفیات ہو۔ انہی فنون میں سے ایک فنِ احادیث ہے جس میں بھی آپ کو مہارتِ تامہ حاصل تھی، اور آپ کی مہارت دیکھ کر لوگ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں:

وادی رضا کی کوہ ہمالہ رضا کا ہے، جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے

اعلیٰ حضرت اور کتبِ احادیث کی درس و تدریس

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ ایک بلند پایہ محدث بھی تھے، ان کے سینے میں احادیث کریمہ کا بحر موجزن تھا، علوم حدیث پر ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا چنانچہ جب ان سے پوچھا گیا کہ حدیث کی کتابوں میں کون کون سی کتابیں پڑھی یا پڑھائی ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ پچاس سے زائد کتبِ احادیث میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں:

"مسند امام اعظم، موطا امام محمد، کتاب الآثار امام محمد، کتاب الخراج امام ابویوسف، کتاب الحج امام محمد، شرح معانی الآثار امام طحاوی، موطا امام مالک، مسند امام شافعی، مسند امام محمد و سنن دارمی، بخاری و مسلم، ابوداؤد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و خصائص نسائی، منتقی ابن الجارود و جزء علل متناہیہ و مشکوۃ و جامع کبیر و جامع صغیر و منتقی ابن تیمیہ و بلوغ المرام، عمل اليوم واللیلہ ابن السنی و کتاب الترغیب و خصائص کبری و کتاب الفرج بعد الشدة و کتاب الاسماء و الصفات وغیرہ پچاس سے زائد کتبِ احادیث میرے درس و تدریس و مطالعہ میں رہیں۔"

جب کوئی صاحبِ نظر، صاحبِ فکر و بصیرت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی تصنیفات و فتاویٰ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ فوراً اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ علومِ حدیث میں منفرد شان رکھتے ہیں۔ حدیث کی صحت و ضعف کا مسئلہ ہو، یا طرقِ حدیث اور اسماء الرجال کی گفتگو ہو، ہر ایک میں آپ ممتاز نظر آتے ہیں۔

محدث اعظم ہند حضرت مولانا سید محمد اشرفی کچھوچھوی علیہ الرحمہ آپ کے علم الحدیث کے تعلق سے یوں رقم طراز ہیں: "علم الحدیث کا اندازہ اس سے کیجیے کہ جتنی حدیثیں فقہ حنفی کی ماخذ ہیں ہر وقت پیش نظر اور جن حدیثوں سے فقہ حنفی پر بظاہر زد پڑتی ہے ان کی روایت و درایت کی خامیاں ہر وقت از بر۔ علم حدیث میں سب سے نازک شعبہ علم اسماء الرجال کا ہے، اعلیٰ حضرت (امام احمد رضا) کے سامنے کوئی سند پڑھی جاتی اور راویوں کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو ہر راوی کے لیے جرح و تعدیل کے جو الفاظ فرما دیتے تھے، اٹھا کر دیکھا جاتا تو تقریب و تہذیب و تہذیب میں وہی لفظ مل جاتا تھا۔ یحییٰ نام کے سیکڑوں راویانِ حدیث ہیں، لیکن جس یحییٰ کے طبقہ اور استاذ و شاگرد کا نام بتا دیا تو اس فن کے اعلیٰ حضرت خود موجد تھے کہ طبقہ و اسما سے بتا دیتے تھے کہ راوی ثقہ ہے یا مجروح۔ اس کو کہتے ہیں علم راسخ اور علم حدیث سے شغفِ کامل اور علمی مطالعہ کی وسعت اور خداداد علمی کرامت۔" [فتاویٰ رضویہ: جہانِ علوم و معارف، ص: 39]

حضرت مولانا محمد حنیف خان رضوی بریلوی نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی تقریباً تین سو تصانیف سے ساڑھے چار ہزار (4500) احادیث یکجا کر کے ”جامع الاحادیث“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ خیر الجزاء۔

فنِ حدیث میں امام اہل سنت کا مقام علماء کی نظر میں

علم حدیث میں کسی ہستی کے مقام و مرتبہ کو ظاہر کرنے کے لیے محدثین نے مختلف القابات ذکر کیے ہیں، مثلاً حافظ، حُجّت، مسند وغیرہ۔ جب کسی کے انتہائی بلند درجے کو ظاہر کرنا ہو تو علماء اس کے لیے "امیر المؤمنین فی الحدیث" کا لقب ذکر کرتے ہیں۔ اسلاف میں کئی ایسے محدثین گزرے ہیں جن کو اس لقب سے پکارا گیا۔ حافظ حسن بن محمد البکری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس موضوع پر ایک کتاب تصنیف فرمائی ہے: "التَّبين لذکر مّن تسمّى بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ"۔ اس کتاب میں ان محدثین اور فقہائے کرام کا تذکرہ کیا ہے جن کو امیر المؤمنین فی الحديث یا امیر المؤمنین فی الفقہ قرار دیا گیا۔

"أمِيرُ الْمُؤْمِنِين فِي الْحَدیث" کا معنی ہے وہ ہستی جو اپنے زمانہ کے تمام علماء پر اس علم میں فوقیت رکھتی ہو۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے امام شعبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو "امیر المؤمنین فی الحدیث" کا لقب دیا۔ اس لقب کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ ابن ابی حاتم رازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: یعنی فَوقَ العُلماء علی زمانه (یعنی اپنے زمانہ کے علماء پر فائق ہیں)۔

اعلیٰ حضرت اور امیر المومنین کا لقب

اعلیٰ حضرت، امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن جس طرح دیگر کئی علوم میں اپنی نظیر آپ تھے، یونہی فنِ حدیث میں بھی اپنے زمانہ کے علماء پر آپ کو ایسی فوقیت حاصل تھی کہ آپ کے زمانہ کے عظیم عالم، 40 سال تک درسِ حدیث دینے والے شیخ المحدثین حضرت علامہ وصی احمد سورتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ کو "امیر المؤمنین فی الحدیث" کا لقب دیا۔

فنِ حدیث پر امام اہل سنت علیہ الرحمہ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت آپ کی عظیم تصنیف "منیر العین" ہے۔ اس کتاب کو امام اہل سنت علیہ الرحمہ نے فقط 29 سال کی عمر میں تحریر فرمایا۔ جب اس کا عربی ترجمہ ہوا اور مصر و شام کے علماء نے اس کتاب کو دیکھا تو حد درجہ متاثر ہوئے اور عظیم تاثرات اس پر تحریر فرمائے۔ [فیضانِ امام اہلسنت، ص: 70]

اعلیٰ حضرت علوم کے سمندر ہیں

آپ کے شاگردِ رشید، ملک العلماء حضرت علامہ سید ظفر الدین بہاری علیہ رحمۃ اللہ الباری نے فقہ حنفی کے مسائل کے دلائل پر ایک کتاب "صحيح البهارى" تحریر فرمائی، جس کی صرف ایک جلد کم و بیش 10 ہزار احادیث کریمہ پر مشتمل ہے۔ اس کے مقدمہ میں امامِ اہلِ سنت علیہ رحمۃ رب العزت سے حدیث کے جو فوائد آپ نے حاصل کیے تھے انہیں ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں: "وَهَذَا نَهْرُ أَصْغَرُ مِنَ الْبَحْر الْأَكْبَرِ مِنْ بِحَارِ عُلُومِ سَيِّدِي وَشَيْخِي" (یعنی یہ میرے سردار و شیخ کے علوم کے سمندروں سے ایک بڑے سمندر کی چھوٹی سی نہر ہے)۔

100 سے زائد کتب کے مصنف، عظیم محدث حضرت علامہ حافظ سید عبد الحی الكتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی معروف تصنیف "فهرس الفهارس" میں امامِ اہلِ سنت علیہ رحمۃ رب العزت کے یہ القابات ذکر کیے ہیں: "الفقيه المُسْنَدُ الصوفي الشهاب"۔ ان القابات سے حافظ کتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک امامِ اہلِ سنت کا بلند مقام واضح ہوتا ہے کہ آپ فقہ و حدیث کے بھی امام ہیں اور صاحبِ عمل صوفی بھی۔ [فیضانِ امام اہلسنت، ص: 70]

اعلیٰ حضرت کے مختلف علم کی مشین

بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں علماء کرام موجود ہیں، دنیا کی مشینوں کی ایجاد کا تذکرہ ہو رہا ہے، اعلیٰ حضرت نے ارشاد فرمایا: "بفضلہ تعالیٰ بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے فقیر کو ایسی مشین عطا ہوئی جس میں کسی بھی علم کا سوال کسی زبان میں ڈال دیجیے چند منٹ کے بعد اس کا صحیح جواب حاصل کر لیجیے۔" خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا ہدایت رسول صاحب نے عرض کی: حضور! وہ مشین مجھے بھی دکھائیے۔ فرمایا: "پھر کبھی دیکھ لیجیے۔" لیکن انہوں نے اصرار کیا تو اعلیٰ حضرت نے اپنے کرتے کے بٹن کھول کر سینہ انور کی زیارت کروائی اور فرمایا: "یہ ہے وہ مشین جس کا فقیر نے کہا۔" شاہ ہدایت رسول صاحب آپ کے سینۂ پرانور کو چومتے اور کہتے جاتے: "صَدَقْتَ يَا وَارِثَ عُلُومِ رَسُولِ اللهِ وَيَا نَائِبَ رَسُولِ اللهِ" (یعنی اے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے علوم کے وارث اور ان کے نائب! آپ نے سچ کہا)۔

14 ویں صدی کی عبقری شخصیت، زبردست محدثِ اسلام اور سائنسی علوم کے ماہر امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمانا کہ کسی بھی علم کا سوال جس زبان میں ہو چند منٹ میں صحیح جواب مل جائے گا یقیناً آپ پر فضلِ خدا اور عنایتِ مصطفےٰ ہے اور یہ مبالغہ یا محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ یہ ایسی حقیقت ہے جس کی دلیل آپ کی لکھی ہوئی ایک ہزار تحقیقی کتب ہیں جن میں صرف علم حدیث میں 240 کتابیں تحریر فرمائیں۔ [فیضانِ امام اہلسنت، ص: 70]

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اور سندِ حدیث

اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت، پروانۂ شمعِ رسالت الحافظ القاری الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے جن حضرات سے اکتسابِ علم کیا اور جن سے سندِ حدیث و فقہ حاصل کی، ان میں درج ذیل حضرات قابلِ ذکر ہیں:

  • حضرت سید شاہ آل رسول احمدی مارہروی
  • حضرت مولانا نقی علی خان
  • حضرت شیخ احمد بن زین دحلان مکی
  • حضرت شیخ عبدالرحمن سراج مکی
  • حضرت شیخ حسین بن صالح
  • حضرت شاہ ابوالحسین احمد نوری
  • حضرت مولانا عبدالعلی رامپوری
  • حضرت مولانا مرزا غلام قادر بیگ بریلوی

فنِ حدیث میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تصانیف

یوں تو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے سینکڑوں کتابیں تحریر فرمائی ہیں، یونہی فنِ احادیث میں بھی بہت ساری کتابیں تحریر فرمائی ہیں لیکن ان تمام کو جمع کرنے کے لیے ضخیم کتابوں کی حاجت پڑے گی، لہٰذا ان کی تصانیف میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • إسماع الأربعين في شفاعة سيد المحبوبين
  • تلالؤ الأفلاك بجلال حديث لولاك
  • أنباء الحذاق بمسالك النفاق
  • أعجب الإمداد في مكفرات حقوق العباد
  • الهداية المباركة في خلق الملائكة
  • الأحاديث الراوية لمدح الأمير معاوية
  • الإجازات المتينة لعلماء مكة والمدينة
  • النجوم الثواقب في تخريج أحاديث الكواكب
  • الروض البهيج في آداب التخريج
  • البحث الفاحص عن طرق أحاديث الخصائص
  • ذيل المدعى لأحسن الوعا

[حیاتِ اعلیٰ حضرت، ج: 4، ص: 35]

ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم، جس سمت آگئے ہیں سکے بٹھا دیے ہیں

انتہائی اختصار کے ساتھ کچھ باتیں ذکر کرنے کی کوشش کی ہیں ورنہ امام اہل سنت علیہ الرحمہ کا فنِ حدیث میں مقام و مہارت بیان کرنے کے لیے ضخیم جلدیں درکار ہیں۔

حاصلِ کلام

مندرجہ بالا مضمون کو پڑھنے کے بعد معلوم ہو گیا ہوگا کہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو جس طرح دیگر علوم میں مہارتِ تامہ حاصل تھی یونہی علومِ حدیث میں بھی آپ کو مہارتِ تامہ حاصل تھی اور اپنے دور کے تمام علماء پر بلند و فائق تھے۔ اسی وجہ سے تو آپ کو "امیر المؤمنین فی الحدیث" کا بھی لقب دیا گیا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور خوب مطالعہ کرنے کا شوق و ذوق عطا فرمائے اور دونوں جہاں میں کامیاب کرے، آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!