| عنوان: | اعلی حضرت علیہ الرحمہ مخالفین کی نظر میں |
|---|---|
| تحریر: | محمد جمال الدین عطاری |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج نیپال |
الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد فأعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم باسم اللہ الرحمن الرحیم
درود شریف کی فضیلت: من صلی علی صلاۃ صلی اللہ علیہ عشر
ترجمہ: جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔
تمہید
اللہ پاک نے انسانوں کو بہت سے انعام و اکرام سے نوازا ہے، کبھی مال کی صورت میں، تو کبھی بچوں کی صورت میں، تو کبھی ناصح کی صورت میں۔ الحمدللہ اللہ پاک کی نعمتوں میں سے اہل سنت و جماعت کے لیے ایک بڑی نعمت چودھویں صدی کے مجدد، عاشقوں کے امام، بریلی کے تاجدار، میرے آقا و مولیٰ اعلیٰ حضرت، عظیم المرتبت، قاطعِ شرک و بدعت، شہنشاہِ شعر و سخن، امامِ اہل سنن، فاضلِ جلیل، عالمِ نبیل، محدثِ عدیل، فخرِ اکابر، الشاہ مفتی امام احمد رضا خان محدث بریلوی حنفی رحمتہ اللّہ علیہ ہیں۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دل میں محبتِ رسول اور عشقِ رسول کوٹ کوٹ کر بھرا تھا، آپ کو ہر فن میں مہارتِ تامہ حاصل تھی، جس فن میں آپ نے قلم اٹھایا علم کا دریا بہا دیے۔ آپ نے فتاویٰ رضویہ اور الدولۃ المکیۃ جیسی عظیم کتابیں لکھ کر بدعقیدہ لوگوں کے دلوں میں خنجر پیوست کر دیے، جس کے درد سے آج بھی بدعقیدے تڑپ رہے ہیں اور اس کا دوا تلاش رہے ہیں:
کلک رضا ہے خنجرِ خوں خار برق بار، اعدا سے کہ دو خیر منائے نہ شر کرے
ہندوستان میں جب گستاخانِ رسول، وہابی، دیوبندی، مودودی اور اہل حدیث نے اپنے سر کو بلند کیا تو آپ نے اپنے قلم کے زور سے ان کے سر کو اٹھنے نہیں دیا اور لوگوں کو ان کے شر اور مکر و فریب سے بچایا۔ اپنے تو اپنے، اغیار بھی آپ کے علمی کارناموں اور شریعت کی خدمات سے متاثر ہوئے اور آپ کی تعریف و توصیف کیے بغیر رہ نہ سکے۔ زیرِ نظر مضمون میں ان اشخاص کا ذکر کیا جا رہا ہے جو آپ کے مخالفین میں سے تھے (جس پر آپ نے حکمِ کفر کا فتویٰ دیا تھا) لیکن اس کے باوجود آپ کی علمی صلاحیت کی بنیاد پر آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور آپ کی تعظیم و تکریم کرتے تھے۔ مخالفین کے اقوال میں سے کچھ اقوال کو ذکر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
مولوی مرتضی حسن دیوبندی
"اگر مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کے نزدیک بعض علمائے دیوبند ایسے ہی تھے جیسا کہ انھوں نے انہیں سمجھا تو خان صاحب پر ان علمائے دیوبند کی تکفیر فرض تھی (کہ ان کو کفر کا فتویٰ صراحتاً دیا جائے اور ان کو کافر کے حکم میں گردانا جائے) اگر وہ ان کو کافر نہ کہتے تو خود ہی کافر ہو جاتے۔ مولانا احمد رضا خان عشقِ رسول کے بڑے اونچے مقام پر فائز تھے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان صاحب بریلوی قدس سرۀ کا پیغامِ حق محض عشقِ رسالت، تحفظِ ناموسِ نبوت کا پیغام ہے اسی لیے اکابر علمائے دیوبند نے بھی اعلیٰ حضرت کو عاشقِ رسول تسلیم کیا ہے۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 210]
مولانا اشرف علی تھانوی
- "میرے دل میں مولانا احمد رضا خان صاحب کا بے حد احترام ہے، وہ ہمیں کافر کہتے ہیں لیکن عشقِ رسول کی بناء پر کہتے ہیں کسی اور غرض سے تو نہیں کہتے۔"
- "اگر مجھ کو مولانا احمد رضا خان بریلوی کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع مل جاتا تو میں ضرور پڑھ لیتا۔"
- مولانا اشرف علی تھانوی کی مجلس میں کسی نے برسبیلِ تذکرہ مولانا احمد رضا خان صاحب کا نام بغیر مولانا کے لے لیا اور صرف احمد رضا خان کہہ دیا، اس پر مولانا تھانوی بہت برہم ہوئے اور اس کو خوب ڈانٹا اور خفا ہو کر فرمایا: "وہ عالمِ دین ہیں، اگرچہ کچھ اختلافِ رائے ہمارے مابین ہے، مگر تم نے منصب کی بے حرمتی کی، وہ زبردست عاشقِ رسول بھی ہیں اس لیے بے ادبی سے ان کا نام کسی طرح زیب نہیں دیتا۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 210]
شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلوی
"مولانا احمد رضا خان بریلوی کی بخشش تو انہی فتوؤں کے سبب ہو جائے گی؛ اللہ تعالی فرمائے گا: احمد رضا! تمہیں ہمارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی محبت تھی کہ تم نے اتنے بڑے بڑے عالموں کو بھی معاف نہ کیا، تم نے سمجھا کہ انھوں نے توہینِ رسالت کی ہے، اور ان پر تم نے فتویٰ لگا دیا! جاؤ اس عمل پر ہی ہم نے تمہیں بخش دیا۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 210]
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع دیوبندی
جب حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب کا وصال ہوا تو حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی کو کسی نے آکر اطلاع دی، خبر سن کر بے اختیار اشرف علی تھانوی نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ جب آپ دعا کر چکے تو حاضرینِ مجلس میں سے کسی نے پوچھا: حضور! وہ تو عمر بھر آپ کو کافر کہتے رہے، اور آپ ان کے لیے دعا کر رہے ہیں؟ تو فرمایا: "مولانا احمد رضا خان نے ہم پر کفر کا فتویٰ لگایا، انھیں یقین تھا کہ ہم نے توہینِ رسالت کی ہے، اگر یہ یقین رکھتے ہوئے بھی وہ ہم کو کفر کا فتویٰ نہ دیتے تو وہ خود کافر ہو جاتے۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 211]
مولانا رشید احمد گنگوہی مصنف فتاویٰ رشیدیہ
بروایت ڈاکٹر مفتی مکرم احمد صاحب شاہی امام جامع مسجد فتحپور: رشید احمد گنگوہی کا اعلیٰ حضرت سے اختلافِ رائے اور مسلکی تصادم ہونے کے باوجود اپنے فتاویٰ ”فتاویٰ رشیدیہ“ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے فتاویٰ رضویہ سے کئی فتاوے حرف بہ حرف نقل کیے ہیں۔ ان کا یہ عمل اعلیٰ حضرت کے علمی مقام و مرتبت کا پتہ دیتا ہے۔ [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 211]
نوٹ: انہی کی سنت پر آج بھی دار العلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء اور دار العلوم مظاہر العلوم سہارنپور میں عمل کیا جاتا ہے، جس مسئلے کا حل کہیں دستیاب نہیں ہوتا وہ فتاویٰ رضویہ کی مدد سے حل کرتے ہیں کیوں کہ یہ بات وہ بھی جانتے ہیں کہ جس گتھی کو سلجھانے میں ہمارے اکابر عاجز ہو جائیں امام احمد رضا کی وسعتِ فکر اور حیرت انگیز قلم ہی اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔
مولانا ابوالحسن علی ندوی ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ
"علمائے حجاز سے بعض فقہی مسائل میں مذاکرہ اور تبادلہ خیال کیا۔ دورانِ سفرِ حج قیامِ حرمین کے اثنا میں مولانا نے بعض رسائل لکھے اور علماء کے حرمین کے سوالات کے جوابات دیے۔ علمائے حرم آپ کے وفورِ علم، فقہی متون و اختلافی مسائل پر دقتِ نظر اور وسعتِ معلومات، سرعتِ تحریر اور ذکاوتِ طبع دیکھ کر حیران رہ گئے۔ پھر وہ ہندوستان واپس ہو کر رونقِ مسندِ افتاء ہو گئے اور اپنے مخالفوں کے جواب میں بہت سا کام کیا۔ انھیں سید آل رسول مارہروی سے بیعت و خلافت حاصل تھی، وہ حرمتِ سجدہ تعظیمی کے قائل تھے، اس موضوع پر انھوں نے ایک کتاب بنام الزبدة الذكيه لتحریم سجود التحيه تصنیف کی، یہ کتاب اپنی جامعیت کے ساتھ ان کی وسعتِ علم اور قوتِ استدلال پر دال ہے۔ مولانا نہایت کثیر المطالعہ، وسیع المعلومات اور متبحر عالم تھے۔ رواں دواں قلم کے مالک اور تصنیف و تالیف میں جامع فکر کے حامل تھے۔ ان کی تالیفات و تصنیفات اور رسائل کی تعداد بعض سوانح نگاروں کی روایت کے مطابق پانچ سو ہے، جن میں سب سے بڑی کتاب ان کی فتاویٰ رضویہ کئی ضخیم جلدوں میں ہے۔ فقہ حنفی اور اس کی جزئیات پر معلومات کی حیثیت سے اس زمانے میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ ان کے فتاویٰ اور کفل الفقیہ الفاهم فی احکام قرطاس الدراہم اس بات پر شاہدِ عدل ہیں۔ علمِ ریاضی، ہیئت، نجوم، توقیت، رمل، جفر میں انھیں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 211]
مولانا ابوالکلام آزاد مفکر و ادیب
- مولانا احمد رضا خان بریلوی ایک سچے عاشقِ رسول گزرے ہیں۔
- اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مولانا احمد رضا خان اپنے عہد کے زبردست عالم، کثیر التصانیف اور وسیع الخیال فقیہ تھے، اکابرین کی صف میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
[جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 212]
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی بانی جماعت اسلامی
- "مولانا احمد رضا خان صاحب کے علم و فضل کا میرے دل میں بڑا احترام ہے، فی الواقع وہ علومِ دینی پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے اور ان کی فضیلت کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔" [فتاویٰ رضویہ، ج: 1، ص: 124، مطبوعہ احمد رضا اکیڈمی]
- "میری نگاہ میں مولانا احمد رضا خان مرحوم مغفور دینی علم و بصیرت کے حامل اور مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ کے قابلِ احترام مقتداء تھے۔ اگرچہ ان کے بعض فتاویٰ اور آراء سے مجھے اختلاف ہے لیکن میں ان کی دینی خدمات کا معترف بھی ہوں۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 212]
مولانا غلام رسول مہر دیوبندی
"اعلیٰ حضرت کا علم و فضل تو اپنے عہد میں ممتاز حیثیت کا حامل ہے ہی، مجھے تو وہ کشورِ اردو ادب کا سلطان معلوم ہوتا ہے۔ احتیاط کے باوجود نعت کو کمال تک پہنچانا واقعی یہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کا ہی خاصہ ہے۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 212]
مولانا کوثر نیازی معروف صحافی، ادیب و مفکر
"اردو زبان میں جب کبھی آنحضرت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے سرکارِ ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجودِ باجود ذہن میں آجاتا ہے، اور جب اعلیٰ حضرت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے سرکارِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام مولانا احمد رضا خان بریلوی کا نام سامنے آجاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ مقام احمد رضا خان کو ان کے ماننے والوں کی خوش عقیدگی سے نہیں ملا ہے، یہ ان کے فنا فی الرسول اور ہمہ جہت شخصیت ہونے کا فیضان ہے۔ برصغیر میں یوں تو کئی جامع الصفات شخصیات گزری ہیں مگر جب ایک غیر جانبدار مبصر ان سب کا جائزہ لیتا ہے تو جیسی ہمہ صفت شخصیت امام احمد رضا خان کی نظر آتی ہے ویسی کوئی دوسری شخصیت نظر نہیں آتی ہے۔"
کون سا علم تھا جس پر انھیں دسترس نہ تھی: (1) تفسیر (2) فقہ (3) حدیث (4) اصولِ فقہ (5) ہندسہ (6) ریاضی (7) سائنس (8) فلسفہ (9) جفر (10) کیمیا (11) اقتصادیات (12) ارضیات (13) طب (14) جغرافیہ (15) تاریخ (16) سیاست (17) قرآت (18) تجوید (19) تصوف (20) سلوک (21) شاعری (22) ادب (23) مناظرہ (24) منطق (25) جبر و مقابلہ (26) نحو (27) صرف (28) علمِ معانی (29) علمِ بیان (30) صنائع و بدائع (31) خطِ نسخ (32) خطِ نستعلیق (33) لغت (34) طبعیات (35) ہیئت۔ [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 213]
مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی
"اس میں کوئی کلام نہیں کہ مولانا احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کا علم بہت وسیع تھا، دورِ حاضر کے اندر اگر کوئی محقق ہے تو وہ مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی ذات ہے۔ کیوں کہ میں نے ان کی تصنیف کا مطالعہ کیا ہے۔ مولانا موصوف کو بہت وسیع النظر، بلند خیال، عالمِ دین اور صاحبِ فکر و نظر پایا۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 215]
مولانا زکریا شاہ بنوری، پشاور پاکستان
"اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ہندوستان میں مولانا احمد رضا خان بریلوی کو پیدا نہ فرماتا تو ہندوستان میں حنفیت ختم ہو جاتی۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 215]
مولانا شبیر احمد عثمانی
"مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی بہت بڑے عالمِ دین کے ساتھ ساتھ بلند پایہ محقق بھی تھے۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 215]
مولانا حسین علی بہچروی ندوی سلفی لکھنؤ
"یہ بریلی کا مولانا (احمد رضا خان) بڑا پڑھا لکھا تھا، زبردست علم کا ملکہ رکھنے والا شخص تھا۔ نہیں معلوم اتنا علم اس شخص نے کب اور کیسے حاصل کیا، جب جب اس کی کتاب کھولتا ہوں تب تب یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے اور میرا دماغ کام نہیں کرتا۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 215]
پروفیسر افتخار اعظمی اعظم گڑھ
"احمد رضا خان بریلوی کے مسلک سے اختلاف ممکن ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ غیر معمولی ذہین اور متبحر عالم تھے۔ وہ عالمِ دین کی حیثیت سے زیادہ مشہور ہوئے اس بنا پر ان کی شاعرانہ تخلیقات کی جانب کم توجہ دی گئی، حالانکہ ان کا نعتیہ کلام اس پایہ کا ہے کہ انھیں طبقہ اول کے نعت گو شعراء میں جگہ دینی چاہیے۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 215]
مولانا اعجاز علی دیوبندی
"جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم دیوبندی ہیں اور بریلوی علم و عقائد سے ہمیں کوئی تعلق نہیں، مگر اس کے باوجود ہم یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ اس دور کے اندر اگر کوئی محقق اور عالمِ دین ہے تو وہ مولانا احمد رضا خان بریلوی ہے۔ کیوں کہ ہم نے مولانا احمد رضا خان کو جسے آج تک بدعتی اور مشرک کہتے رہے ہیں بہت وسیع النظر اور بلند خیال، عالی ہمت عالمِ دین، صاحبِ فکر و نظر پایا ہے، آپ کے دلائل قرآن و سنت سے متصادم نہیں بلکہ آہنگ ہیں۔ لہذا میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ اگر آپ کو کسی مسئلہ میں کسی قسم کی الجھن درپیش ہو تو آپ بریلی جا کر مولانا احمد رضا سے تحقیق کر لیں۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 216]
مفتی انتظام اللہ شہابی اکبر آبادی
"حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی مرحوم اس عہد کے چوٹی کے عالم تھے۔ جزئیاتِ فقہ میں وہ يدِ طولیٰ رکھتے تھے، ان کی کثرتِ براہین ایک عالم کو محوِ حیرت کرتی ہے۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 217]
مولانا سعید احمد اکبر آبادی فاضل دیوبند
"حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک زبردست صلاحیت کے مالک تھے، ان کی عبقریت کا لوہا پورے ملک ہی نہیں بلکہ پورے عالم کے علماء نے مانا ہے۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 217]
محمد شاہد اسلم (دیوبندی اسکالر، شعبہ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)
اپنے تحقیقی مقالے ”سائنس قرآن کے آئینے میں“ رقم طراز ہیں: "امام احمد رضا برصغیر کے پہلے سائنس دان، دانشور اور عالمِ دین ہیں جنھوں نے سرسید احمد خان کے اس طرزِ عمل کے خلاف کہ سائنس کی روشنی میں قرآن کو پرکھا جائے، یہ نظریہ پیش کیا کہ سائنس کو قرآن کی روشنی میں پرکھا جائے، کیوں کہ یہ ازلی اور ابدی حقیقت ہے۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 217]
مدیر ماہنامہ معارف اعظم گڑھ (دیوبندی رسالہ)
"مولانا احمد رضا خان صاحب مرحوم اپنے وقت کے زبردست عالم، مصنف اور فقیہ تھے، انھوں نے چھوٹے بڑے سینکڑوں فقہی مسائل سے متعلق رسالے لکھے ہیں اور قرآن کا ایک سلیس اردو ترجمہ بھی کیا ہے۔ اپنے علمی کارناموں کے ساتھ ساتھ ہزارہا فتوؤں کے جوابات بھی انھوں نے دیے ہیں، ان کے بعض فتاوے کئی کئی صفحات کے ہیں اور حدیث پر ان کی نظر بڑی وسیع ہے۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 218]
مولانا مفتی نظام الدین احمد پوری
"واضح ہو کہ علمائے دیوبند اپنے ہم عصروں کو اپنا ہم پلہ نہ سمجھتے تھے، فقہ میں زبردست ملکہ رکھتے تھے، اور بڑے بڑے علمائے دیوبند مولانا نظام الدین احمد پوری سے رجوع کرتے تھے۔ ایک دن مولانا سراج احمد (جس کو زمانہ سراج المفقہاء کہا کرتا ہے) نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ کی ایک تصنیف: الفضل الموهبي في معنى اذا صح الحديث فهو مذهبي کے چند ابتدائی اوراق منازلِ حدیث کے انھیں سنائے تو کہنے لگے: یہ سب منازلِ فہم مولانا احمد رضا خان کو حاصل تھے، افسوس کہ میں ان کے زمانے میں رہ کر ان سے بے خبر و بے فیض رہا۔ اس کے بعد سراج الفقہاء مولانا سراج احمد صاحب نے فقہ کے چند مسائل کے جوابات فتاویٰ رضویہ سے سنائے تو حیرت میں ڈوب کر کہنے لگے: علامہ شامی اور صاحبِ فتح القدیر مولانا احمد رضا خان صاحب کے شاگرد ہیں۔ یہ تو امامِ اعظم ثانی معلوم ہوتے ہیں۔" [جہانِ امام احمد رضا، ج: 14، ص: 218]
المعتمد المستند
المعتمد المستند میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے گنگوہی، نانوتوی، امبیٹھوی اور تھانوی صاحبان کی تحذیر الناس، تکذیبِ باری عز اسمہ کے فتویٰ، براہینِ قاطعہ اور حفظ الایمان کی کفریہ عبارتوں کی بنا پر نانوتوی اور ان جیسوں کی قطعی تکفیر فرمائی ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود یہ سارے حضرات اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے، اس کی وجہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور علم کے ہر فن میں مہارتِ تامہ ہے۔
حاصلِ کلام
مندرجہ بالا مضمون پڑھنے کے بعد معلوم ہو گیا ہوگا کہ اعلیٰ حضرت کی ذات کتنی معتبر اور عظیم تھی، اعلیٰ حضرت نے تعلیمِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نشر و اشاعت میں اپنی پوری زندگی لگا دی اور آپ کے علم کا ڈنکا صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ بیرونِ ملک میں بھی بج رہا ہے اور صرف اپنوں ہی میں نہیں بلکہ اغیار میں بھی بج رہا ہے، یہ آپ کے علم کا ہی ثمرہ ہے کہ اغیار بھی آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں اور حیران و ششدر ہیں کہ کوئی اتنے ماہر کیسے ہو سکتے ہیں وہ بھی ہر علم میں۔
وادی رضا کی کوہ ہمالہ رضا کا ہے، جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا کا ہے
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو مسلکِ اعلیٰ حضرت پر چلنے اور ان پر قائم رہنے کی توفیق و رفیق عطا فرمائے، آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
