Loading...

عالمی داعی علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ (قسط: اول)|توحید احمد خان رضوی

عالمی داعی علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ (قسط: اول)
عنوان: عالمی داعی علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ (قسط: اول)
تحریر: توحید احمد خان رضوی
پیش کش: جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف
منجانب: تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف

حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ برصغیر کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی تبلیغ اسلام میں گزار دی۔ آپ کا قلم حق گوئی کی علامت، آپ کی زبان عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ترجمان، آپ کی فکر امت کی رہنما اور آپ کی شخصیت اخلاص، تقویٰ اور علم کا روشن نمونہ تھی۔

نام و نسب اور ولادت:

رئیس القلم حضرت ارشد القادری علیہ الرحمہ کا اصلی نام غلام رشید تھا لیکن علمی اور ادبی دنیا میں ارشد القادری اس طرح مشہور ہوا کہ وہ آپ کی شناخت بن گیا۔ آپ کے والد کا نام عبداللطیف رشیدی تھا، یہ خاندان علم و تقویٰ میں ایک امتیازی شان رکھتا تھا۔ سید پور ضلع بلیا اترپردیش کے اسی معزز گھرانے میں 5 مارچ 1925 عیسوی کو علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی پیدائش ہوئی۔

تعلیم و تربیت:

ابتدائی تعلیم گھر پر والد ماجد سے حاصل کی۔ اس کے بعد جامعہ اشرفیہ مبارکپور تشریف لے آئے، یہاں پر مسلسل 8 سال تک عظیم محدث و مفکر حافظ ملت علامہ عبدالعزیز مبارکپوری علیہ الرحمہ (بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور) کی سرپرستی میں رہ کر اکتساب علم و فیض کیا۔ 1944ء میں سند فراغت حاصل کی اور ممتاز طلبہ میں شمار کیے گئے۔

بیعت و طریقت:

خلیفۂ اعلیٰ حضرت صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت کی۔ اجازت و خلافت خلیفۂ اعلیٰ حضرت قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین احمد مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ، شہزادہ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ اور سرکار پٹنہ حضرت فدا حسین سے ملی۔

تدریسی و دعوتی خدمات:

فراغت کے بعد آپ تدریسی خدمات انجام دینے کے لیے ناگپور تشریف لے گئے، کچھ عرصہ تک آپ نے وہاں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد 1952 عیسوی میں آپ جمشیدپور تشریف لے آئے اور اپنی دینی، دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں کا مرکز جمشیدپور کو بنا لیا۔ یہاں آپ نے نصف صدی سے زائد تشنگان علوم دینیہ کو سیراب کیا۔ آپ نے طلبہ کو صرف علوم دینیہ ہی نہیں سکھائے بلکہ ان کو دعوتی جرات، مسلکی غیرت اور فکری استقامت بھی عطا فرمائی۔

تصنیفی خدمات:

رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ تدریس کے ساتھ تصنیف کے میدان کے بھی شہ سوار تھے، آپ نے اپنی تصنیفات کے ذریعہ ایوان باطل میں ایسا زلزلہ پیدا کیا کہ وہ اس کی تاب نہ لا سکے۔ آپ کی تحریریں فکر کی بالیدگی اور عقیدے کی پختگی پیدا کرتی ہیں۔ آپ نے تین درجن سے زائد تصانیف چھوڑی ہیں، جن میں کچھ مشہور کتابیں یہ ہیں: زلزلہ، زیر و زبر، تعزیرات قلم، نقش کربلا، لالہ زار، دعوتِ انصاف، شخصیات، زلف و زنجیر، افکار و خیالات، صدائے درویش، شعور و آگہی، انوار احمدی، تجلیاتِ رضا، کمالاتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، تبلیغی جماعت، اور جماعت اسلامی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!