| عنوان: | عالمی داعی علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
مناظرے کے ذریعہ احقاق حق اور ابطال باطل:
قائد اہل سنت حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ایک جید عالم دین کے ساتھ مناظر اہل سنت بھی تھے۔ حق کی بالا دستی کے لیے باطل فرقوں سے آپ نے ایک درجن سے زائد مناظرے کیے اور مخالف مناظر کو دندان شکن جواب دیا۔ آپ کو عقلی دلائل و براہین اور قرآن و احادیث و فقہی جزئیات کے ذریعہ اپنی بات منوانے پر بڑی قدرت حاصل تھی، یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے دور میں اہل سنت و جماعت میں صف اول کے مناظر شمار کیے جاتے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں فن مناظرہ سے دلچسپی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں آپ کہتے ہیں: "مجھے ویسے سب سے زیادہ جس فن میں دلچسپی تھی وہ ردِ وہابیہ تھا۔" آپ نے متعدد اختلافی موضوعات پر کئی مناظرے کیے، جن میں سے چند مناظروں کا اجمالی تذکرہ یہ ہے:
پہلا مناظرہ: مولوی عبد اللطیف نعمانی کے خلاف کیا۔ یہ مناظرہ کٹک میں مولوی اشرف علی تھانوی کی کتاب حفظ الایمان کی کفری عبارتوں پر ہوا۔ اہل سنت کی طرف سے صدر جلسہ حضور مجاہد ملت علیہ الرحمہ اور مناظر کی حیثیت سے علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ مقرر کیے گئے، جب کہ دیوبندیوں کی طرف سے صدر جلسہ مولوی اسمعیل کٹکی اور مناظر کی حیثیت سے مولانا منظور نعمانی کے استاذ مولوی عبد اللطیف نعمانی تھے۔ اس مناظرہ میں آپ نے ناقابلِ انکار دلائل و براہین سے مدِمقابل کو اس طرح لاجواب کر دیا کہ اسے اقرار کرنا پڑا کہ حفظ الایمان کی عبارت میں لفظ "ایسا" تشبیہ کے لیے ہے جو موجبِ اہانت و کفر ہے۔
دوسرا مناظرہ: یہ مناظرہ قیام و سلام کے موضوع پر بتوا بازار، ضلع چھપરા، بہار میں ہوا۔ اہل سنت و جماعت کی طرف سے صدارت کے فرائض امین شریعت، بانی ادارہ شرعیہ علامہ مفتی رفاقت حسین رحمتہ اللہ علیہ نے انجام دیے اور مناظر کی حیثیت سے علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ مقرر کیے گئے، جب کہ دیوبندیوں کی طرف سے صدارت مولوی نور محمد ٹانڈوی نے کی اور مناظر مولوی عبد السلام لکھنوی مقرر ہوئے۔ یہ مناظرہ ایک دن میں اہل سنت کی فتحِ عظیم پر ختم ہو گیا۔
تیسرا مناظرہ: یہ مناظرہ رات کے وقت ضلع امراوتی، مہاراشٹر کے ایک قلعہ کے اندر ہوا۔ وہاں کے ڈی ایس پی صاحب دونوں فریق کی طرف سے مناظرہ کے کنٹرولر تھے۔ مناظرہ کا موضوع تبلیغی جماعت تھا اور مناظر کی حیثیت سے قائد اہل سنت تھے، جب کہ دیوبندیوں کی طرف سے ارشاد احمد، مبلغ دار العلوم دیوبند مناظر تھے۔
چوتھا مناظرہ: یہ مناظرہ بولیا، مندسور، راجستھان میں حفظ الایمان کی کفریہ عبارت پر ہوا۔ اہل سنت کی طرف سے صدارت کے فرائض مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن نے انجام دیے اور مناظر کی حیثیت سے قائد اہل سنت کھڑے ہوئے، جب کہ دیوبندیوں کی طرف سے صدرِ جلسہ مولوی نور محمد ٹانڈوی اور مناظر کی حیثیت سے مولوی ارشاد دیوبندی تھے۔ علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کی حاضر جوابی کا اندازہ اس مناظرہ میں روزِ روشن کی طرح عیاں ہوا جب مولوی ارشاد نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ میں ارشاد ہوں اور مجھ سے مناظرہ کرنا آسان نہیں ہے، اس کے جواب میں قائد اہل سنت علیہ الرحمہ نے فرمایا: "میں ارشد ہوں اور اظہارِ فضیلت کے لیے مجھ سے بڑا کوئی لفظ فنِ صرف میں نہیں ہے۔" اس کے جواب میں مولوی ارشاد نے کہا: "میں مصدر ہوں اگر میں نہ ہوتا تو آپ کا وجود ہی نہ ہوتا۔" اب قائد اہل سنت نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ شاید آپ کو یاد ہوگا کہ "المصدر كالمخنث لا يذكر ولا يؤنث"، پھر لگے ہاتھوں ایک شعر بھی پڑھ دیا:
مذکر کے لیے he ہے مؤنث کے لیے she ہے
میرے حضرت مخنث ہیں نہ ہیوں نہ شیوں ہے
اس شعر سے سارا مجمع باغ و بہار بن گیا اور مولوی ارشاد احمد پر ایسی خجالت طاری ہوئی جس کا اثر مناظرہ کے آخر تک باقی رہا۔
پانچواں مناظرہ: یہ مناظرہ جامع مسجد، جھارکھنڈ یا ضلع دھنباد میں ہوا۔ اس مناظرہ کی خصوصیت یہ تھی کہ اب تک ہونے والے مناظروں میں علمائے دیوبند سے مطالبہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے اکابرین کا مسلمان ہونا ثابت کریں، لیکن اس مناظرے میں شرائط طے کرتے ہوئے دیوبندی مولویوں نے اصرار کیا کہ بریلوی مناظر بھی اپنے اکابر کا مسلمان ہونا ثابت کریں۔ اس میں اہل سنت و جماعت کی طرف سے قیادت کے فرائض مجاہد ملت علامہ حبیب الرحمن علیہ الرحمہ نے انجام دیے اور مناظر کی حیثیت سے قائد اہل سنت تھے، جب کہ دیوبندیوں کی طرف سے مولوی ارشاد احمد صدارت کر رہے تھے اور مولوی طاہر گیاوی مناظر کی حیثیت سے موجود تھے۔ جب مناظرہ شروع ہوا تو بالآخر اہل سنت و جماعت کو رات میں فتح ملی۔
چھٹا مناظرہ: یہ مناظرہ کٹک، اڑیسہ میں ہوا۔ اس مناظرے کی خصوصیت یہ تھی کہ دیوبندیوں کے مناظر تین بار تبدیل کیے گئے جبکہ ہر راؤنڈ میں آپ اہل سنت و جماعت کے مناظر کی حیثیت سے ڈٹے رہے، اور اہل سنت و جماعت کی طرف سے صدارت کے فرائض مجاہد ملت علیہ الرحمہ نے انجام دیے۔
تبلیغی اسفار:
رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے اشاعتِ سنیت، ردِ باطل اور قوم کے اندر تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ملک کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی کئی دورے کیے۔ آپ نے اپنے اسفار کے ذریعہ متعدد علاقوں میں دعوتی فریضہ انجام دیتے ہوئے قوم کے اندر تعلیمی بیداری پیدا کی۔ آپ جہاں گئے وہاں کے لوگوں کو ایک فکر دی اور زندگی کو کامیاب اور بامقصد بنانے کی ترغیب دلائی۔
تعلیمی اور دعوتی اداروں کا قیام:
حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ صرف افراد ساز شخصیت کے مالک نہیں تھے بلکہ آپ ادارہ ساز شخصیت کے حامل تھے۔ علامہ ارشد القادری صاحب اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ اس سوئی ہوئی قوم کو غفلت کی نیند سے بیدار کرنے اور ملی شیرازہ بندی کے لیے تنظیم و تحریک کی بے حد ضرورت ہے۔ اسی کے پیشِ نظر آپ نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک کئی اداروں کی بنیادیں رکھیں جن میں سرلسٹ یہ ہیں:
* مدرسہ فیض العلوم – جمشیدپور
* جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء – دہلی
* ادارہ شرعیہ – پٹنہ
* جامعہ مدینۃ الاسلام – ہالینڈ
* دار العلوم علیمیہ – سورینام (جنوبی امریکا)
* دعوتِ اسلامی
* ورلڈ اسلامک مشن – لندن
اس کے علاوہ اور بھی کئی ادارے ہیں جن کے قیام کا سہرا آپ ہی کے سر بندھا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ، آپ نے ملک کے مختلف علاقوں میں کئی مساجد کی تعمیر بھی کروائی جو آج بھی آپ کی دینی حمیت اور اخلاص کی گواہی دے رہی ہیں۔
وصال:
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 16 صفر المظفر 1423ھ مطابق 29 اپریل 2002ء کو ہوا۔ آپ کی آخری آرامگاہ جامعہ فیض العلوم (جمشیدپور) کے احاطے میں ہے۔ اللہ رب العزت آپ کے مرقد پر رحمت و نور کی بارش فرمائے۔ آمین۔
