امین شریعت اور مسلک اعلیٰ حضرت (قسط: اول)|مفتی عبد المالک مصباحی

امین شریعت اور مسلک اعلیٰ حضرت (قسط: اول)
عنوان: امین شریعت اور مسلک اعلیٰ حضرت (قسط: اول)
تحریر: مفتی عبد المالک مصباحی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اسلام اللہ تبارک و تعالیٰ کا محبوب و پسندیدہ دین ہے، اس نے اس کی حفاظت اور اشاعت کا ایسا حسین انتظام فرمایا ہے کہ جس دور اور جس زمانے میں جیسے افراد کی ضرورت محسوس کی گئی، ویسے ہی افراد کو مطلوبہ تمام خوبیوں کا پیکر بنا کر کشتیِ ملت کی ناخدائی کا فریضہ سونپ دیا۔

ماضی قریب میں استعماری قوتوں کی شاطرانہ چالوں سے جب ایمان و عقیدے کا تحفظ ایک چیلنج بن گیا، باطل قوتوں کی یلغار سے اہل ایمان کے قدم لڑکھڑانے لگے، ایک طرف مال و زر کی افراط اور دوسری طرف حکومتی سرپرستی، ان ہوش ربا ماحول میں کشتِ زارِ ایمان و عقیدے کی حفاظت اور آبیاری و آبپاشی کے لیے جو خانوادہ تن من دھن کی تمام قوتوں کو سمیٹ کر طاغوتی قوتوں سے لوہا لینے کے لیے کفن بردوش میدانِ عمل میں اترا اسے “خانوادۂ رضا” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس خانوادے کی علمی، سیاسی اور معاشرتی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ اسی خانوادے کے ایک نیرِ تاباں کا نام امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان (1272ھ / 1856ء – 1340ھ / 1920ء) ہے۔ جن کی علمی و روحانی نورافشانی سے پوری صدی درخشندہ و تابندہ ہے، آپ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔

اسی سلسلۃ الذہب کی ایک ضوبار کڑی کا نامِ نامی اسمِ گرامی گلِ گلزارِ رضویت امینِ شریعت حضرت علامہ مفتی سبطین رضا خان علیہ الرحمہ ہے (ولادت: 6 ذوالحجہ 1346ھ / 1927ء، وصال: 9 نومبر 2015ء)۔ آپ کی علمی و فکری تربیت حضور مفتیِ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ کی ولایت بار آغوش میں ہوئی۔ حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ جن کی نگاہِ کیمیا اثر سے لاکھوں خس و خاشاک افق علم و ولایت پر آفتاب و ماہتاب بن کر چھا گئے۔ آپ نے اپنی صحبت و معیت میں حضور امینِ شریعت کو وہ جامِ جم پلایا کہ آپ کی ذات خود ایک “میخانہ” رشد و ہدایت بن گئی۔ ایک ایسا میخانہ جہاں توحیدِ باری کی شرابِ طہور سے قلب و نگاہ کو طہارت و پاکیزگی کی دولتِ بے بہا عطا کی جاتی تھی۔ ایک ایسا میخانہ جہاں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سرمستی سے فکر و نظر کی سرشاری کے سامان فراہم کیے جاتے تھے۔ ایک ایسا میخانہ جہاں شریعت و طریقت کی بہاریں لٹائی جاتی تھیں۔ ایک ایسا میخانہ جہاں حقیقت و معرفت کی بادِ بہاری سے مشامِ جاں معطر کی جاتی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ حضور امینِ شریعت، حضور صدر الشریعہ اور محدثِ اعظم پاکستان علامہ محمد سردار احمد خان علیہ الرحمہ کی درسگاہ کے بھی جرعہ کش تھے، اور یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے بلاواسطہ مجددِ ملت سرکارِ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی درسگاہ سے اکتسابِ نور کیا تھا۔ ان حضرات کے قلوب عشقِ رسول میں سرشار اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینہ دار تھے۔ ان حضرات نے بھی حضور امینِ شریعت کو اپنی خصوصی توجہ سے ایسا سرفراز کیا کہ اتباعِ رسول اور محبتِ رسول ان کی حیات کی متاع گرانمایہ بن گئی، اور پھر اسی محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج و اشاعت ان کی زندگی کا نصب العین بن گیا۔

دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف کے طلبہ کی علمی تشنگی بجھانے سے آپ کی دینی خدمات کا آغاز ہوا۔ یہاں آپ پوری تندہی اور علمی جوش و تنوع کے ساتھ اپنے افکار کی تجلیات اور اخلاق کی خوشبو لٹا رہے تھے کہ اچانک ایک دن ریاست چھتیس گڑھ سے حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں ایک رقعہ پہنچا جس میں “کانکیر” کی جامع مسجد کے لیے ایک خطیب و امام کی ضرورت کا اظہار کر کے ایک مخلص اور باصلاحیت عالمِ دین کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حضرت مفتیِ اعظم ہند جن کی نگاہِ ولایت صرف حال ہی نہیں بلکہ مستقبل کو بھی ملاحظہ کیا کرتی تھی، آپ نے کانکیر اور چھتیس گڑھ کی مذہبی اور دینی حالت کے پیشِ نظر جس پرسوز داعی، روح پرور مبلغ اور اخلاص و وفا کے پیکر کا انتخاب فرمایا وہ کوئی اور نہیں بلکہ حضور امینِ شریعت علیہ الرحمہ کی ذاتِ بابرکات تھی۔

علاقہ چھتیس گڑھ اس وقت مذہبی اعتبار سے نہایت دور افتادہ علاقہ تھا، لوگوں کے اذہان و قلوب اسلام کی تعلیمات کی شیرینی سے ناواقف تھے، کلمہ کی صدا زبان سے تو سنائی دیتی تھی مگر رگ و پے میں ہندوانہ رسم و رواج سرایت کیے ہوئے تھے۔ با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام ہر جگہ اپنا پنجہ گاڑے ہوئے تھا۔ شادی بیاہ سے لے کر موت کے مراسم تک میں ہندوانہ رسم و رواج کی گہری چھاپ تھی، کفر و اسلام کی مابہ الاشیاء سے ان کے کان آشنا تو تھے مگر عمل سے دور دور تک اس کا اظہار نہیں ہوتا تھا۔ مختصر یہ کہ اس وقت اس علاقہ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ اور قابلِ رحم تھی۔ حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے ایسے ظلمت آمیز ماحول کو بقعۂ نور بنانے کے لیے جس عبقری شخصیت کا انتخاب فرمایا ان کا نامِ نامی اسمِ گرامی سبطین رضا ہے، آپ نے اپنی خداداد صلاحیت اور اپنے خلوص و للہیت سے وہ کچھ کر دکھایا کہ زمانہ آج بھی عش عش کر رہا ہے۔

حضور امینِ شریعت اسلام و سنیت اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کی نشر و اشاعت کے لیے جی جان کی بازی لگا کر میدانِ عمل میں اتر پڑے اور اپنا آرام و سکون قربان کر کے دین کا پیغام پہنچانے اور سنیت کا پرچم لہرانے کے لیے ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ اس سلسلے میں آپ ہر جگہ گئے، کیا شہر، کیا قصبہ، کیا دیہات، کیا گاؤں، کوئی بھی جگہ آپ کے قدموں کی برکتوں سے محروم نہ رہی۔ حالانکہ اس زمانے میں آمد و رفت کے موجودہ وسائل نہیں تھے، سڑکیں خام، شاہراہیں خستہ، قدم قدم پر زحمتیں، لمحہ لمحہ رکاوٹیں، مگر قربان جائیے اس درویشِ خدا ترس کے جذبۂ اصلاحِ قوم پر کہ ہر مصیبت کا خندہ پیشانی سے استقبال، ہر رکاوٹ کا حکمت سے دفاع کرتے رہے اور بلا خوف و خطر آگے بڑھتے رہے اور زبانِ حال سے کہتے رہے:

سکوتِ موت ہے جہد و عمل کی دنیا میں
تھکو تو اور بھی قدموں کو خار خار کرو

حضور امینِ شریعت علیہ الرحمہ کی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت اور ترویج کے لیے وقف تھی، مگر اس شان کے ساتھ کہ اس میں دنیاوی منفعت کا دور دور تک شائبہ نظر نہیں آتا۔ آپ لوگوں کی مذہبی ضرورتوں کے ساتھ سماجی ضرورتیں بھی پوری کیا کرتے تھے۔ آپ اپنے فیوض و برکات جہاں درس و تدریس کی شکل میں، تعلیم و تربیت کی شکل میں، وعظ و نصیحت کی شکل میں اور امامت و خطابت کی شکل میں قوم کو دیتے وہیں دعا اور تعویذ سے بھی مستفیض فرماتے۔ آپ کی قیام گاہ پر ہر وقت پروانوں کی اچھی خاصی بھیڑ لگی رہتی۔ پروردگارِ عالم نے آپ کے دستِ مبارک میں شفاء للناس کا ایسا جوہر عطا فرمایا تھا کہ آپ کی دعاؤں سے لوگوں کی بڑی سے بڑی مشکلیں حل ہو جایا کرتی تھیں۔ آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے حاجتمندوں کی بھیڑ آپ کے ارد گرد پروانہ وار منڈلانے لگتی مگر حیاتِ مبارکہ کا ایک ایک لمحہ شاہد ہے کہ کبھی آپ نے اسے حصولِ زر کا ذریعہ نہیں بنایا (جیسا کہ آج بہت سے لوگ اسے اپنا پیشہ بنا کر شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں) اور بھلا آپ کیسے ایسا کر سکتے تھے کہ آپ کے سامنے تو اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کا یہ درخشندہ کردار موجود تھا کہ:

“ایک مرتبہ ایک صاحب نے بدایونی پیڑوں کی ایک کوری ہانڈی پیش کی، حضور نے فرمایا کیسے تکلیف فرمائی؟ انہوں نے کہا حضور کو سلام کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ حضور جوابِ سلام فرما کر کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا کوئی کام ہے؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں حضور! محض مزاج پرسی کے لیے آیا تھا۔ ارشاد فرمایا: عنایت و نوازش، اور قدرے سکوت کے بعد پھر بایں الفاظ مخاطب فرمایا۔ کچھ فرمائیے گا؟ انہوں نے پھر نفی میں جواب دیا اس کے بعد وہ شیرینی حضور نے مکان میں بھجوا دی۔ اب وہ صاحب تھوڑی دیر کے بعد ایک تعویذ کی درخواست کرتے ہیں۔ ارشاد فرمایا کہ میں نے آپ سے تین بار دریافت کیا مگر آپ نے کچھ نہ بتایا، اچھا تشریف رکھیے اور اپنے بھانجے علی احمد خاں صاحب مرحوم کے پاس سے تعویذ منگوا کر (کہ یہ کام انہی سے متعلق تھا) ان صاحب کو عطا فرمایا اور ساتھ ہی حاجی کفایت اللہ صاحب نے حضور کا اشارہ پاتے ہی مکان سے وہ مٹھائی کی ہانڈی منگوا کر سامنے رکھ دی جسے حضور نے بایں الفاظ واپس فرمایا: اس ہانڈی کو ساتھ لیتے جائیے، میرے یہاں تعویذ بکتا نہیں ہے۔ انہوں نے بہت معذرت کی مگر قبول نہیں فرمایا۔ بالآخر وہ صاحب اپنی شیرینی واپس لیتے گئے۔” [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 29]

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ “أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ” کی عملی تفسیر تھے۔ یعنی یہ شعر:

ہو حلقۂ یاراں تو ریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

یہی حال حضور امینِ شریعت علیہ الرحمہ کا تھا۔ آپ تصلب فی الدین کے نقطۂ کمال پر فائز تھے۔ آپ ان لوگوں میں سے نہ تھے جو رفتارِ زمانہ کے اسیر ہو کر، ہوا جدھر کی چلی تم ادھر کو چلے پر عمل پیرا ہوں بلکہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو وقت اور حالات کے دھارے اپنی طرف موڑ لیا کرتے ہیں۔ جو لوگوں کے مزاج کے اعتبار سے فیصلے نہیں صادر کیا کرتے تھے بلکہ شریعت کی روح میں اتر کر احکام بتایا کرتے تھے۔

حضور امینِ شریعت کی حیاتِ مبارکہ میں غوثِ پاک کے اس فرمان کی تابندگی پوری طرح سے نظر آتی تھی کہ:

“علم عمل کے لیے بنایا گیا ہے نہ محض یاد کرنے اور مخلوق کے سامنے پیش کرنے کے لیے، خود علم سیکھ اور اس پر عمل کر بعدہٗ دوسروں کو سکھا، جب تو علم پڑھے گا پھر اس پر عمل کرے گا تو علم تیری طرف سے کلام کرے گا اگر تو خاموش رہے گا، تو عمل کی زبان سے اس سے زیادہ کلام کر جیسا کہ علم کی زبان سے کلام کیا جاتا ہے جو شخص اپنے علم پر عمل کرنے والا ہوتا ہے تو اس علم سے وہ خود بھی نفع لیتا ہے اور دوسروں کو بھی نفع پہنچاتا ہے۔” [الفتح الرباني، ص: 257، مطبوعہ اسلامک پبلشر دہلی]

تقریباً نصف صدی کے عرصے میں آپ نے علاقہ چھتیس گڑھ کو بالخصوص نغماتِ رضا، تعلیماتِ رضا اور فرموداتِ رضا سے ایسا منور و مجلیٰ کیا کہ آج پوری ریاست کے ہر گلی کوچے میں “فیضانِ رضا” کی موسلادھار برسات ہو رہی ہے، ہر طرف دین و سنیت کی بہاریں نظر آرہی ہیں، مسلکِ اعلیٰ حضرت کا پرچم لہرا رہا ہے، ہر چار جانب عشقِ رضا کی خوشبوئیں اپنا جلوہ بکھیر رہی ہیں۔ حضور امینِ شریعت کے انمٹ نقوش کے ثمر بار اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے عصرِ حاضر کے مشکبار قلمکار ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری لکھتے ہیں:

“آج پورے ہندوستان میں صرف ریاست چھتیس گڑھ کو یہ شرف و امتیاز حاصل ہے کہ یہی وہ اسٹیٹ ہے، جہاں سنیت غالب اکثریت میں ہے اور پورے چھتیس گڑھ میں رضا رضا، بریلی بریلی کی دھوم مچی ہوئی ہے، بڑی خاموشی مگر بڑی تیزی و تندہی کے ساتھ حضور امینِ شریعت نے مسلکِ اعلیٰ حضرت کا نعرہ گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، گلی گلی، کوچہ کوچہ پہنچایا ہے۔ پورا چھتیس گڑھ آج اگر سنی ہے اور بلا اختلافِ مشرب بزرگوں کی نذر، مجلس و محفل اور ذکر و تذکرہ کی ہماہمی ہے تو یہ سب حضور امینِ شریعت کی آج تک بے لوث اور بے ریا خدمت کی برکت ہے۔” [دوماہی الرضا، پٹنہ، ص: 46، بابت جنوری، فروری 2016ء]

اس میں ہمارا خونِ جگر ہو کہ جان و دل
محفل میں کچھ چراغ فروزاں ہوئے تو ہیں

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!