| عنوان: | اربعین سے مراد |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
اربعین کی تعریف اور بشارتیں
علمِ حدیث میں "اربعین" سے مراد وہ مجموعۂ حدیث ہے جس میں کسی خاص عنوان یا مختلف عناوین پر چالیس حدیثیں جمع کردی گئی ہوں۔ اربعین کی جمع و تالیف پر بہت ساری بشارتیں وارد ہیں؛ چنانچہ امام نووی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے شرحِ اربعین نووی کے مقدمہ میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت علی بن ابو طالب، عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل، ابوالدرداء، ابن عمر، ابن عباس، انس بن مالک، ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم اجمعین سے متعدد طرق و اسناد سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
"من حفظ علیٰ امتی اربعین حدیثا من امر دینھا بعثہ اللہ یوم القیامة فی زمرة الفقھاء والعلماء"
یعنی جس بابرکت شخص نے میری امت کے دین سے متعلق چالیس احادیث یاد کر لیں یا جمع کر دیں، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے علماء و فقہاء کی جماعت کے ساتھ اٹھائے گا۔ ایک روایت میں "بعث اللہ فقیها عالما" آیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اسے فقیہ و عالم کی شکل میں اٹھائے گا۔ حضرت ابو درداء کی روایت میں ہے کہ "کنت له یوم القیامة شافعا و شھیدا" یعنی میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا اور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔ ابن مسعود کی روایت میں ہے "قیل له ادخل من ای ابواب الجنة شئت" یعنی اسے کہا جائے گا کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جا۔ ابن عمر کی روایت میں ہے "کتب فی زمرة الفقھاء" یعنی اسے فقہاء کی جماعت میں لکھ دیا جاتا ہے۔
اربعین نویسی کی تاریخ
مذکورہ حدیث کثرتِ طرق کے باوجود ضعیف ہے، پھر بھی اس نبوی بشارت کی حصولیابی کے لیے متعدد محدثین نے اربعین نویسی کا شغل اختیار فرمایا۔ امام نووی کی تحقیق کے مطابق اس فن کی پہلی تالیف امام عبداللہ ابن مبارک کی ہے، پھر محمد ابن اسلم طوسی کی، پھر حسن ابن سفیان نسائی، ابو بکر آجروی، ابو بکر بن اصفہانی، امام دار قطنی، امام حاکم، ابو نعیم، ابو عبدالرحمن سلمی، ابو سعید الماسی، ابو عثمان صالونی، عبداللہ بن محمد انصاری، ابو بکر بیہقی وغیرہ نے اربعین کی جمع و تالیف کا کارنامہ انجام دیا۔
(مقدمہ شرح الاربعین حدیثا النوویۃ فی الاحادیث الصحیحۃ النبویۃ لابن دقیق العید، مکتبۃ القرت الاسلامی ادارۃ الازہر)
