| عنوان: | میلاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تحقیقی جائزہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد ارشاد قادری |
| منجانب: | الجامعۃ الحدیقۃ الطیبۃ |
مقدمہ و شرعی حیثیت
جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا شریعتِ مطہرہ کی رو سے مستحب، جائز اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے میلاد پر اللہ کا شکر ادا فرمایا۔ امت کے جلیل القدر محدثین، مفسرین اور فقہاء نے اسے مستحسن عمل قرار دیا ہے۔ جو لوگ میلاد منانے والوں کو بدعتی کہتے ہیں، ان کا یہ موقف افراط و تفریط پر مبنی ہے، کیونکہ جس عمل کی اصل اور بنیاد شریعت میں موجود ہو، اسے "بدعتِ سیئہ" (گمراہی) نہیں کہا جا سکتا۔
یہ الگ بات ہے کہ وقت کے ساتھ اظہارِ مسرت کے طریقے بدلتے رہتے ہیں، بشرطیکہ وہ طریقے شریعت کے دائرے میں ہوں اور ان میں کوئی غیر شرعی کام (مثلاً باجا بجانا، میوزک یا دیگر لغو رسومات) شامل نہ ہو۔ عوام کی طرف سے جو بھی غیر شرعی کام اس موقع پر ہوتے ہیں، اہل سنت (بریلوی) ان سے بالکل بیزار ہیں۔ میلادِ پاک ہمیشہ علماءِ کرام کی سرپرستی میں، سنجیدگی اور شرعی حدود میں رہ کر ہی منانا چاہیے۔
میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے 11 مستحسن طریقے
- 12 ربیع الاول شریف کا روزہ رکھنا (شکرانے کے طور پر)۔
- نمازِ شکرانہ ادا کرنا۔
- سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ اور تذکرہ کرنا۔
- شرعی حدود میں جلوس نکالنا تاکہ دنیا کو معلوم ہو کہ آج رحمتِ عالم کی ولادت کا دن ہے۔
- کثرت سے درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنا۔
- اطعامِ طعام کرنا (لوگوں کو کھانا کھلانا، پانی اور شربت پلانا)۔
- غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی مالی مدد کرنا۔
- مساجد، مدارس اور دینی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنا۔
- غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنا۔
- اپنے گھروں، دکانوں اور محلوں کو صاف ستھرا کر کے سجانا۔
- سبز پرچم (جھنڈا) لہرانا۔
(خلاصہ یہ کہ ہر وہ نیک کام کرنا جو شریعتِ مطہرہ سے متصادم نہ ہو)۔
پہلا باب: قرآنِ کریم سے ثبوت
دلیل نمبر 1: قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْاؕ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ (ترجمہ کنز الایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اس کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں، وہ ان کے سب دھن و دولت سے بہتر ہے۔) (سورہ یونس: 58)
دلیل نمبر 2: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (ترجمہ: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔) (سورہ الانبیاء: 107)
استدلال: اللہ تعالیٰ قرآن میں اپنے فضل اور رحمت پر خوشی منانے کا حکم دے رہا ہے، اور کائنات میں اللہ کا سب سے بڑا فضل اور سب سے بڑی رحمت ذاتِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ لہٰذا، جس دن رحمتِ عالم دنیا میں تشریف لائے، اس دن خوشی منانا قرآنِ پاک سے ثابت ہے۔
اعتراض کا جواب: اگر کوئی اعتراض کرے کہ صحابہ کرام نے موجودہ ہیئت کے ساتھ میلاد کیوں نہیں منایا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرام نے موجودہ دور کے جلسے، ختمِ بخاری کی تقریبات، مدارس کی سالانہ کانفرنسیں اور تبلیغی اجتماعات بھی اس مخصوص ہیئت کے ساتھ نہیں کیے تھے، مگر ان کی "اصل" شریعت میں ہونے کی وجہ سے کوئی انہیں بدعت نہیں کہتا۔ اسی طرح میلاد کی اصل بھی شریعت سے ثابت ہے۔
دلیل نمبر 3: رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآيَةً مِّنكَ (ترجمہ: اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوانِ نعمت نازل فرما دے کہ اس کے اترنے کا دن ہمارے لیے عید (خوشی) کا دن ہو جائے، ہمارے اگلوں کے لیے بھی اور ہمارے پچھلوں کے لیے بھی۔) (سورہ المائدہ: 114)
استدلال: جب آسمان سے طعام کا دسترخوان اترنے کا دن عید بن سکتا ہے، تو جس دن زمین پر اللہ کی سب سے بڑی نعمت (محمد رسول اللہ ﷺ) تشریف لائے، وہ دن بطریقِ اولیٰ خوشی اور عید کا دن ہے۔
دلیل نمبر 4 و 5: وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (ترجمہ: اور اپنے رب کی نعمتوں کا خوب تذکرہ کریں۔) (سورہ الضحیٰ: 11)
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (ترجمہ: اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔) (سورہ الشرح: 4)
استدلال: اللہ کی نعمتوں کا چرچا کرنا قرآنی حکم ہے، اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کو بلند کرنا اللہ کی سنت ہے۔ محافلِ میلاد میں یہی دو کام کیے جاتے ہیں۔
دوسرا باب: احادیثِ مبارکہ سے ثبوت
دلیل نمبر 1 (رسول اللہ ﷺ کا اپنے میلاد پر روزہ رکھنا): صحیح مسلم (حدیث نمبر: 1162): حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ سے پیر (دوشنبہ) کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "ذٰلِکَ یَوْمٌ وُلِدْتُ فِیْہِ" (یہ وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا تھا)۔
استدلال: اس سے معلوم ہوا کہ اپنی ولادت کے دن کو یاد رکھنا اور اس دن اللہ کا شکر بجا لانا خود سنتِ رسول ﷺ ہے۔ اصطلاحی طور پر اسے عید (خوشی کا دن) کہنا اس کے مرتبے کی وجہ سے ہے، ورنہ اس دن روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے اور لنگر و طعام کے ذریعے خوشی بھی منائی جا سکتی ہے۔
دلیل نمبر 2 (محفلِ شکرِ میلاد پر فرشتوں کا رشک): صحیح مسلم (حدیث نمبر: 2701): حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ایک حلقے میں تشریف لائے اور پوچھا: تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: "ہم یہاں اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس بات پر شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی اور آپ ﷺ کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "جبرائیل نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہا ہے۔"
دلیل نمبر 3 (حضور ﷺ کا ممبر پر اپنا میلاد بیان کرنا): جامع ترمذی (حدیث نمبر: 3607): حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ممبر پر تشریف لا کر صحابہ سے پوچھا: "میں کون ہوں؟" صحابہ نے عرض کیا: "آپ اللہ کے رسول ہیں"۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوق پیدا کی تو مجھے بہترین گروہ میں رکھا، پھر قبیلوں میں سے بہترین قبیلے (قریش) اور گھرانوں میں سے بہترین گھرانے (بنو ہاشم) میں پیدا فرمایا۔ میں حسب و نسب کے لحاظ سے ان سب سے بہتر ہوں"۔
استدلال: محافلِ میلاد میں بھی نبی کریم ﷺ کا یہی پاکیزہ نسب اور فضائلِ ولادت بیان کیے جاتے ہیں، لہذا یہ سنتِ مصطفیٰ ہے۔
دلیل نمبر 4 (خاندانی اصطفاء کا ذکر): صحیح مسلم (حدیث نمبر: 2276): حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل سے کنانہ کو، کنانہ میں سے قریش کو، قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا۔"
دلیل نمبر 5 (آمدِ مصطفیٰ ﷺ پر مدینہ میں جشن): مسند احمد (حدیث نمبر: 12586) / سنن ابو داؤد (حدیث نمبر: 4932): حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو اہل حبشہ نے آپ کی آمد کی خوشی میں اپنے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ خوب کھیل کود (کرتب) پیش کیے۔
دلیل نمبر 6 (بارگاہِ الہی میں ولادت کا تذکرہ): کنز العمال (حدیث نمبر: 35368): حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے حضور ﷺ کی ولادت سے پہلے کے فضائل کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک پتھر ملا تھا جس پر لکھا تھا: "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کی ذات ان لوگوں کے لیے برکت ہے جو آپ پر ایمان لائے۔"
دلیل نمبر 7 (ولادت کے وقت جھنڈے نصب ہونا): دلائل النبوۃ لابی نعیم (حدیث نمبر: 555) / المواہب اللدنیہ: سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا وقت ہوا، تو میں نے تین جھنڈے نصب دیکھے؛ ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں اور تیسرا کعبہ کی چھت پر۔
تیسرا باب: اقوالِ ائمہ و محدثین اور تاریخی شواہد
1. ابولہب کے واقعے سے استدلال: صحیح بخاری (حدیث نمبر: 5101): عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابولہب کے مرنے کے بعد اس کے کسی قریبی (حضرت عباس رضی اللہ عنہ) نے اسے خواب میں بری حالت میں دیکھا اور پوچھا: تمہارا کیا حال ہے؟ ابولہب نے کہا: "تم سے جدا ہونے کے بعد مجھے کبھی آرام نہیں ملا، سوائے اس کے کہ (اپنی شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کر کے) مجھے اس سے پانی پلایا جاتا ہے، کیونکہ میں نے اپنی لونڈی ثویبہ کو (محمد ﷺ کی ولادت کی خوشی کی خبر لانے پر) آزاد کیا تھا"۔
شارحینِ حدیث کا تبصرہ (امام قسطلانی، امام ابن جزری، شیخ عبدالحق محدث دہلوی): ان ائمہ نے اپنی تصانیف (جیسے شرح الزرقانی علی المواہب اور مدارج النبوۃ) میں لکھا ہے کہ یہ حدیث میلاد منانے والوں کے لیے بہت بڑی دلیل ہے۔ جب ایک کافر کو میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی میں لونڈی آزاد کرنے پر عذاب میں تخفیف مل سکتی ہے، تو اس سچے مسلمان کا کیا عالم ہوگا جو حضور ﷺ پر ایمان بھی رکھتا ہے، محبت بھی کرتا ہے اور میلاد پر مال خرچ کرتا ہے!
2. امام شیبانی کا فتویٰ: حدائق الانوار (صفحہ: 130): امام شیبانی (جن کا وصال صدیاں پہلے ہوا) لکھتے ہیں: "علماء کی ایک بڑی جماعت نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اچھی نیت کے ساتھ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا ایک اچھا اور پسندیدہ (محمود) عمل ہے"۔
3. تاریخِ ابن کثیر کا گواہ: البدایہ والنہایہ (جلد 15، صفحہ 193): حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے بہنوئی شاہِ اربل ملک المظفر میلاد النبی ﷺ کے موقع پر عظیم الشان دسترخوان بچھاتے تھے، جس میں 5000 پکی ہوئی بکریاں، 10 ہزار مرغیاں، 30 ہزار مٹھائی کے تھال شامل ہوتے تھے، اور وہ صوفیاء و علماء کو خلعت اور ہدایا پیش کرتے تھے۔
4. امام حسن بصری کا قول: الدُرّ المنظم: امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "کاش میرے پاس جبلِ احد کے برابر سونا ہوتا، تو میں اسے میلادِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے میں خرچ کر دیتا"۔
5. شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا موقف: الدُرّ الثمین / اسلامی مہینوں کے فضائل و احکام: شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں جس گھر میں حضور ﷺ کی ولادت ہوئی، وہاں لوگ ربیع الاول میں جمع ہو کر درود و سلام پڑھتے اور ولادت کے معجزات کا تذکرہ کرتے تھے، اور انہوں نے خود وہاں برکات کا مشاہدہ کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی پیدائش کی خوشی مل کر منانا ایک ایسا عمل ہے جس کی اصل صحابہ کے زمانے سے موجود ہے۔
دعا و خاتمہ
مقالہ ہذا کا مقصد حق بات کو دلائل و براہین کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ ماننا یا نہ ماننا ہر شخص کا اپنا اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہم سب کو حق کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے بچنے کی توفیق دے۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
