Loading...

بدر الشریعہ علامہ خواجہ احمد حسین امروہوی

بدر الشریعہ علامہ خواجہ احمد حسین امروہوی
عنوان: بدر الشریعہ علامہ خواجہ احمد حسین امروہوی
تحریر: مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ولادت با سعادت

صاحبِ جود و سخا، مجمع السلاسل بدر الشریعہ حضرت علامہ مولانا خواجہ احمد حسین قادری رضوی بن شیخ المشائخ حضرت صوفی حافظ محمد عباس علی خاں نقشبندی مجددی قادری امروہوی رحمۃ اللہ علیہ ۲۴ شعبان المعظم ۱۲۸۹ھ کو اپنے وطن امروہہ ضلع مراد آباد (یوپی) میں پیدا ہوئے۔

تعلیم و تربیت

آپ کی تربیت علمی ماحول میں ہوئی، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی آپ کے قریبی رشتہ دار تھے، مولوی احمد حسن امروہوی (م ۱۳۱۳ھ) شاگردِ خاص مولوی قاسم نانوتوی نے آپ کی ذہانت و فطانت سے متاثر ہو کر خود آپ کو اپنے مدرسے میں داخلہ کرایا۔ تذکرۃ الکرام میں مرقوم ہے کہ مولوی احمد حسن امروہوی حضرت بدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ کو "علامہ بایزید" کے لقب سے پکارتے تھے اور آپ کی شاگردی پر فخر کرتے تھے، مگر آپ اپنے استاذ کے عقائد سے قطعی متاثر نہ ہوئے، بلکہ علی الاعلان استاذ کے عقائد و نظریات کی تردید کرتے رہے، یہ آپ کے جدِ اعلیٰ حضرت شیخ جان محمد خاں قادری بلخی خلیفہ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کا فیض و اثر تھا، آپ نے حضرت مفتی لطف اللہ علی گڑھی اور شیخ الاسلام مولانا انوار اللہ فاروقی حیدرآبادی سے بھی علمی استفادہ کیا۔

بیعت و خلافت

آپ اپنے والد ماجد حضرت حافظ محمد عباس علی خاں قادری نقشبندی امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدِ باصفا اور خلیفہ اعظم تھے، حضرت سید معروف علی شاہ قادری حیدرآبادی نے بھی شرفِ خلافت سے سرفراز فرمایا تھا اور سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں سیدنا مجددِ اعظم امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت و خلافت حاصل تھی۔

واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ۲۴ رمضان المبارک ۱۳۳۱ھ میں بریلی شریف سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ کو سرکارِ غوثیت مآب رضی اللہ عنہ سے آپ کو اجازتِ تامہ عطا کرنے کی ہدایت ہوئی، سیدنا اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ شریف اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور ”تاج الفیوض“ فی البدیہہ تاریخ رقم فرمائی۔

محاسن و کمالات

آپ پچاس سال تک بسلسلہ ارشاد و ملازمت حیدرآباد دکن میں مقیم رہے، آپ نے ۱۸۹۴ء میں ”مطبع انتظامی“ کے نام سے امروہہ میں ابتداً پرنٹنگ پریس کی بنیاد ڈالی، اور ”گلدستۂ نسیم چمن“ نامی ایک رسالہ بھی جاری کیا، آپ بلند پایہ سخن گو تھے، اردو کے علاوہ عربی، فارسی شعر و ادب میں خاصا عبور حاصل تھا، احمد تخلص فرماتے۔

[تذکرہ خلفائے اعلیٰ حضرت، پروفیسر مجید اللہ قادری، ص: ۱۲۸]

تصانیف و تالیفات

آپ کی گراں قدر تصانیف حسبِ ذیل ہیں:

  • سنن احمدیہ معروف بہ فتاویٰ محبوبیہ (عبادات پر احادیث و اقوالِ صوفیہ کا بہترین مرقع)
  • عوامل احمدیہ
  • تصحیح ترجمہ روضہ قیومیہ
  • سوانح مولانا روم
  • سوانح حضرت خواجہ باقی باللہؒ
  • سوانح حضرت حکیم بادشاہ الٰہ آبادی
  • جواہر مجددیہ (سیرت حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ)
  • جواہر معصومیہ (سیرت حضرت خواجہ معصوم مجددی رحمۃ اللہ علیہ)
  • ترجمہ حضرات القدس
  • ترجمہ معرفۃ الحق
  • ترجمہ عقائد مجددیہ
  • اسرار الجلی فی ذکر الخفی
  • کحل الجواہر
  • وظائف احمدیہ
  • معارف احمدیہ

[ایضاً، ص: ۱۲۸]

وصالِ مبارک

آپ کی قابلِ رشک شخصیت ۲۷/ رجب المرجب ۱۳۶۱ھ / ۱۱ اگست ۱۹۴۲ء بروز شنبہ اجمیر شریف سے واپس ہوتے ہوئے دہلی میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئی، نمازِ جنازہ حضرت مفتی شاہ مظہر اللہ مجددی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ خطیب و امام جامع مسجد فتح پوری نے پڑھائی اور دوسرے دن اپنے وطن میں والدِ ماجد کے پہلو میں رشد و ہدایت کا یہ آفتاب روپوش ہو گیا۔ مولانا مسعود الحسن صاحب نے یہ تاریخِ وصال کہی: ”پیرِ کامل بود، خلد نشیں“ ۱۳۶۱ھ۔

القاب و خطابات

خواجہ احمد حسین امروہوی اپنے وقت کے ایک عظیم عالمِ دین تھے، آپ کو امامِ اہلِ سنت نے اپنی اجازت و خلافت سے بھی نوازا اور ”تاج الفیوض“ کا لقب بھی عطا فرمایا جس کا واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے:

”۲۴/ رمضان المبارک ۱۳۴۱ھ میں بریلی شریف سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ کو سرکارِ غوثیت مآب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کو اجازتِ تامہ عطا کرنے کی ہدایت ہوئی، سیدنا اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ شریف اتار کر آپ کو مرحمت فرمایا، اور ”تاج الفیوض“ فی البدیہہ تاریخِ رقم فرمائی۔“

[تذکرہ علمائے اہل سنت، ص: ۴۷]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!