Loading...

حضرت مولانا محمد حسن رضا خان بریلوی

قوتِ بازوئے رضا حضرت مولانا محمد حسن رضا خان بریلوی
عنوان: قوتِ بازوئے رضا حضرت مولانا محمد حسن رضا خان بریلوی
تحریر: مولانا محمد عطاءالنبی حسینی مصباحی
پیش کش: زہرہ یاسمین
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

نام و نسب

اسمِ گرامی: محمد حسن رضا خان۔ لقب: شہنشاہِ سخن، استاذِ زمن، تاجِ دارِ فکر و فن۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے: محمد حسن رضا خان بن مولانا مفتی نقی علی خان، بن مولانا رضا علی خان۔

تاریخِ ولادت

آپ ۲۲ ربیع الاول ۱۲۷۶ھ مطابق ۱۹ اکتوبر ۱۸۵۹ء کو حضرت مولانا نقی علی خان کے گھر پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم

ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد اور برادرِ اکبر سیدی اعلیٰ حضرت سے حاصل کی۔ نعت گوئی کی تعلیم بھی اپنے برادرِ اکبر سے پائی، اور کلامِ مجاز میں بلبلِ ہندوستان حضرت داغ دہلوی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ داغ دہلوی کے قیامِ رام پور کے دوران آپ اُن کے پاس حاضر ہوا کرتے۔ داغ دہلوی کو آپ سے خاص اُنس تھا اور اکثر پیارے شاگرد کہہ کر خطاب کیا کرتے۔

بیعت و خلافت

سراج العارفین سید ابوالحسین احمد نوری قادری برکاتی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور سندِ خلافت سے شرف یاب ہوئے۔

تصنیف و تالیف

مولانا حسن رضا کو خدائے بخشندہ نے ایک سیال وفیاض قلم عطا فرمایا تھا۔ موصوف نے نثر و نظم میں بہت سی گراں قدر یادگار اپنے پیچھے چھوڑی ہیں۔ آپ کے نثری رسائل کی تعداد بارہ سے متجاوز ہے:

  • (۱) دینِ حسن
  • (۲) نگارستانِ لطافت
  • (۳) تَرَکِ مرتضوی
  • (۴) آئینۂ قیامت
  • (۵) بے موقع فریاد کے مہذب جواب
  • (۶) سوالات حقائق نما بر رؤس ندوۃ العلما
  • (۷) فتاویٰ القدوۃ الکشف دفین الندوہ
  • (۸) ندوہ کا نتیجہ رودادِ سوم کا نتیجہ
  • (۹) ہدایت نوری بجواب اطلاعِ ضروری
  • (۱۰) اظہارِ روداد
  • (۱۱) کوائفِ اخراجات
  • (۱۲) باقیاتِ حسن (آپ کے بکھرے ہوئے شہ پاروں کا مجموعہ)

یوں ہی نظم کے میدان میں آپ نے پانچ لاجواب مجموعے پیش فرمائے ہیں:

  • (۱) ذوقِ نعت
  • (۲) وسائلِ بخشش
  • (۳) صمصامِ حسن
  • (۴) قندِ پارسی
  • (۵) ثمرِ فصاحت

مولانا حسن رضا اور دارالعلوم منظر اسلام

منظر اسلام کے بنا و قیام سے انتظام و انصرام تک تمام معاملات میں مولانا حسن رضا کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ منظر اسلام کے اصل محرک تو ملک العلماء ظفر الدین بہاری تھے۔ انہوں نے مولانا حسن رضا، حامد رضا خان اور پھر ان کی وساطت سے ایک سید زادہ بزرگ جناب سید امیر احمد صاحب کو ہم نوا بنایا اور سید صاحب کے ذریعہ قیام مدرسہ کے لیے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کو قائل کرنے کی سعی کی۔ چناں چہ جناب تحصیل دار رحیم یار خاں صاحب رئیس اعظم بریلی کے عالی شان مکان پر واقع محلہ گلاب نگر میں مدرسہ اہل سنت و جماعت قائم ہوا۔ مولانا حسن رضا نے اس کا تاریخی نام "منظرِ اسلام" [۱۳۲۲ھ] تجویز فرمایا اور آپ ہی اس مدرسہ کے پہلے منتظم ہوئے، اور مولانا حامد رضا خان پہلے مہتمم قرار پائے۔ جب کہ مولانا ظفر الدین بہاری کو اس مدرسہ کے پہلے طالب علم ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

مولانا حسن رضا کے حسنِ انتظام سے قلیل عرصہ میں اس مدرسہ نے ریکارڈ ترقی کے منازل طے کیے۔ صرف تین سال کے عرصہ میں اس مدرسہ کے درس و تدریس، تربیت و تہذیب اخلاق اور حسنِ اہتمام و انصرام کی دھوم ملک بھر کے علماء و عوام میں پڑ گئی۔ مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری ملقب بہ "سراج الملة والدین" جو کہ مدرسہ کے ممتحن بھی تھے، مولانا حسن رضا کے حسنِ انتظام کو داد و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے رقم طراز ہیں:

"ہمتِ عالی اور توجہِ خاص منتظمِ دفتر جناب مولانا حسن رضا خان صاحب دام مجدہم سے امیدِ کامل ہے کہ اس مدرسہ مبارکہ سے جس کی نظیر اقلیمِ ہند میں کہیں نہیں ہے ایسے برکات فائض ہوں جو تمام اطراف و جوانب کی ظلمات اور کدورات کو مٹائیں اور ترویج عقائد حقہ منیفہ اور ملتِ بیضاء شریفہ حنیفہ کے لیے ایسی مشعلیں روشن ہوں جن سے عالم منور ہو"۔

[رُوداد سال دوم مدرسہ اہل سنت بنام کوائف اخراجات از مولانا حسن رضا، ص: ۵۱]

وصالِ مبارک

۲۲ رمضان المبارک ۱۳۲۶ھ مطابق ۱۹۰۸ء کو ۵۰ سال ۶ ماہ کی عمر میں وصال ہوا۔

القابات و خطابات

آپ کے مشہور القابات و خطابات درج ذیل ہیں:

  • (۱) قوتِ بازوئے من (رضا)
  • (۲) نجدی فگن
  • (۳) سُنّیہ را حرزِ جاں
  • (۴) نجدیہ را سر شکن

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے "ذوقِ نعت" کی تاریخ میں ایک شاہ کار قطعہ لکھا، قطعہ کیا ہے اعلیٰ حضرت کی شاعری شکوہ انداز، حسن کی یادیں، شاعری اور شخصیت کا حسین مرقع، ملی اور مذہبی خدمات، اپنے روابط اور حسن سے جذباتی لگاؤ کا واضح اظہار جو اعماقِ قلب سے زبانِ قلم پر اترا اور صفحۂ قرطاس پر بکھر گیا۔ آخری چار شعر ہر مصرع تاریخ، مصرع نصف کی تکرار، صنائع بدائع سے مملو، حسن و جمال کی تصویر دیکھیے:

قوتِ بازوئے من سُنّی نجدی فگن
حاجی و زائرِ حسن، سلمہٗ ذوالمنن
نعت چہ رنگیں نوشت، شعر خوش آئیں نوشت
شعر مگو دیں نوشت، دور ز ہر ریب و ظن
شرع ز شعرش عیاں، عرش بہ بیتش نہاں
سُنّیہ را حرزِ جاں، نجدیہ را سر شکن
قلقلِ ایں تازہ جوش، بادہ بہ ہنگامِ نوش
نور فشاند بگوش، شہد چکاں در دہن
کلکِ رضا سالِ طبع، گفت بہ افضالِ طبع
زاں کہ از اقوالِ طبع، کلک بود نغمہ زن
"اوج بہیں محمدت، جلوہ گہِ مرحمت"
"عافیتِ عاقبت باد نوائے حسن"
"بادِ نوائے حسن، بابِ رضائے حسن"
"بابِ رضائے حسن، باز بہ جلبِ منن"
"باز بہ جلبِ منن، بازوئے بختِ قوی"
"بازوئے بختِ قوی، نیک حجابِ محن"
"نیک حجابِ محن، فضلِ عفو و نبی"
"فضلِ عفو و نبی، حبلِ وی و حبلِ من"

[ماہ نامہ سنی دنیا بریلی شریف کا حسن بریلوی نمبر، ص: ۵]

[امام احمد رضا اور القاب نوازی | صفحات: ۱۴۵ تا ۱۴۸]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!