| عنوان: | حامیِ سنت مفتیِ اعظم ہند مفتی مصطفیٰ رضا خاں بریلوی (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | محمد کوثر العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
وصال مبارک
آپ کا وصال ۱۴؍ محرم الحرام ۱۴۰۲ھ، ۱۲؍ نومبر ۱۹۸۱ء بانانوے (92) سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد رات ایک بجکر ۴۰؍ منٹ پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے، اگلے روز نمازِ جمعہ کے بعد اسلامیہ کالج کے وسیع میدان میں تین بجکر پندرہ منٹ پر نمازِ جنازہ ہوئی جس کی امامت سرکارِ کلاں سید مختار اشرف اشرفی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین خانقاہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف نے فرمائی۔ نمازِ جنازہ میں تقریباً پچیس لاکھ کا مجمع ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح امنڈ آیا تھا اور تقریباً چھ بجے امام احمد رضا کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔
القابات و خطابات
آپ کے معروف القابات و خطابات درج ذیل ہیں:
- (۱) ولد عزیز
- (۲) حامی سنت
- (۳) مفتی شرع
حضور مفتی اعظم ہند امام اہل سنت کے چھوٹے صاحب زادے تھے، امام اہل سنت نے آپ کو درج بالا جن خطابات سے یاد فرمایا ان کی قدرے تفصیل یہ ہے:
ولد عزیز
اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیمم کے تعلق سے ایک رسالہ تحریر فرمایا جس میں حضور مفتی اعظم ہند نے آپ کو ایک قید کے اضافہ کا مشورہ دیا جس کا ذکر کرتے ہوئے آپ اپنے صاحب زادے کو ”ولد عزیز“ جیسے پیار بھرے خطاب سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ولد عزیز مولوی مصطفیٰ رضا خان سلمہ ذوالجلال و رقاہ الی مدارج الکمال نے یہاں ایک تقیید حسن کا مشورہ دیا کہ صاحب آب کے پاس اس وقت کے بعد نیا پانی اور نہ آگیا ہو ورنہ آب کثیر میں سے دے دینا اس ظن و شک کو کہ قلتِ آب کی حالت میں تھا دفع نہ کرے گا و کان ذلک عند تبییض الرسالۃ للطبع فی ۱۶ من المحرم الحرام ۱۳۳۶ھ وللہ الحمد“۔
[فتاویٰ رضویہ، ج: ۴، ص: ۷۳]
اسی کے چند سطر کے بعد پھر اسی خطاب سے حضور مفتی اعظم کو یوں یاد فرماتے ہیں:
”آیا اسی مشورہ ولد عزیز کے قیاس پر یہاں بھی کہا جائے کہ اگر یہ نہ دینا اس بنا پر ہو کہ اتنی دیر میں پانی اس کے پاس خرچ ہو کر کم رہ گیا تو یہ منع اس ظنِ عطا کی خطا نہ بتائے گا“۔
[ایضاً، ص: ۷۳]
حامی سنت
امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے پچاس خلفاے کرام کی فہرست میں آپ کے نام کے ساتھ ”حامی سنت“ کا خطاب ذکر فرمایا۔ چناں چہ فہرست خلفا میں ہے:
”صاحب زادہ جناب مولانا مولوی محمد مصطفیٰ رضا خان صاحب محلہ سوداگران، بریلی۔ عالم فاضل مفتی کامل مناظر مصنف حامی سنت و مجاز طریقت“۔
مفتی شرع
امام احمد رضا خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی حیات میں مسلم مسائل کے حل کے لیے قاضی شرع کا انتخاب فرمایا تھا اسی مجلس میں آپ نے دو اشخاص کو معاونت کے لیے مفتی شرع بھی مقرر فرمایا۔ وہ دو اشخاص کون ہیں، برہانِ ملت رحمہ اللہ علیہ کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:
”اُس (حضور صدر الشریعہ کو قاضی شرع کا اختیار دینے) کے بعد حضور (امامِ اہل سنت) نے اس خادمِ برہان کو بلایا اور اپنے دستِ مبارک میں میرا داہنا ہاتھ لے کر اس مسند پر صدر الشریعہ کے متّصل بٹھا کر مجھ سے فرمایا: ”میں نے تمھارے فتوے کو دیکھا، افتا کے لیے تمھارے دماغ کو بہت مستعد پایا، میں تمھیں مسندِ افتا پر بٹھا کر دار القضا شرعی کے لیے مفتی مقرر کرتا ہوں۔“ اس کے بعد حضرت مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ کے ہاتھ کو اپنے دست میں لے کر میرے پہلو میں بٹھایا اور یہی کلمات جو مجھ سے فرمائے تھے؛ ان سے فرما کر پھر ہم دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دار القضا شرعی کے لیے قاضی شرع مولانا امجد علی کو اور آپ دونوں کو ان کی اعانت اور فتویٰ دینے کی اجازت دیتا ہوں۔ آج سے تم دونوں ہندوستان کے دار القضا شرعی مرکز بریلی میں مفتیِ شرع کی حیثیت سے مقرر کیے جاتے ہو“۔
[تذکرہ اعلیٰ حضرت بزبان صدر شریعت از محمد عطاء الرحمن، ص: ۷۲]
