| عنوان: | بقیۃ السلف حضرت مولانا شاہ امین احمد فردوسی رحمۃ اللہ علیہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
آپ کی ولادت ۲۳ رجب المرجب ۱۲۴۸ھ مطابق ۱۶ دسمبر ۱۸۳۲ء، دوشنبہ بوقتِ شب بمقام آبائی مکان محلہ خانقاہ بہار شریف ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب یہ ہے:
شاہ امین احمد فردوسی بن شاہ امیر الدین بن شاہ ولی اللہ بن شاہ علیم الدین درویش بن حضرت مخدوم بھیک فردوسی صاحب سجادہ حضرت مخدومِ جہاں۔
اسمِ گرامی
تاریخی نام بہ لحاظِ سنِ ہجری “اخترِ مجد” ہے، اصل نام “امین الدین”، خود اختیار کردہ نام و عرفیت “امین احمد”، لقب “جنابِ حضور”، تخلص فارسی شاعری میں “ثبات” اور اردو شاعری میں “شوق”۔
تکمیلِ درسیات
۱۲۶۹ھ / ۱۸۵۲ء بعمر ۲۱ سال حضرت مولانا محمد موسیٰ قدس سرہ، مولوی عبد الرحیم، ملک مولوی عنایت حسین، مولانا حاجی سید وزیر الدین اور خان صاحب استاذِ فارسی کے زیرِ نگرانی تکمیلِ درسیات کی۔
بیعت و ارادت
۷ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ مطابق ۱۱ جون ۱۸۵۶ء یک شنبہ سلسلۂ طریقت فردوسیہ شعیبیہ میں بدستِ حق پرست حضرت شاہ جمال علی، سجادہ نشیں خانقاہ شیخ پورہ بیعت سے شرف یاب ہوئے۔
مسندِ سجادگی پر
۱۲۸۷ھ / ۱۸۷۰ء ۴۰ برس کی عمر میں سجادگی کا شرف حاصل ہوا اور ۲۳ ویں سجادہ نشیں خانقاہ معظم بہار شریف کی حیثیت سے اس منصب پر آئے اور تاحینِ حیات فائز رہے۔
تصنیفات
مثنوی “گلِ بہشتی”، مثنوی “سلسلۃ اللآلی”، مثنوی “روضۃ النعیم”، مثنوی “عبرت افزا”، “شہد و شیر” اور مثنوی “علمِ نجوم و رمل” بھی ان کی یادگار ہے اور اردو غزل میں “چوپائیوں” کے نام سے ایک مجموعہ بھی ہے۔
وفات
۵ جمادی الثانی ۱۳۲۱ھ مطابق ۲۹ اگست ۱۹۰۳ء بروز شنبہ بوقت ایک بج کر ۵۵ منٹ شب بمقام بہار شریف، مزارِ اقدس آستانہ مخدوم جہاں رحمۃ اللہ علیہ کے احاطہ میں ہے۔
القابات و خطابات
بقیۃ الاولیاء۔
جب صلحِ کلیت تحریک “تحریکِ ندوہ” کے مفاسد ظاہر ہوئے تو علمائے اہل سنت نے اس کی سخت مخالفت کی، انہی میں ایک ندوہ شکن ندوہ فگن حضرت قاضی عبد الوحید فردوسی رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے جن کی تحریک پر “تحریکِ ندوہ” کی مخالفت میں پٹنہ میں اجلاس ہوا جس میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ اور تاج الفحول حضرت عبد القادر بدایونی رضی اللہ عنہ کی بھی آمد ہوئی۔ اسی موقع پر اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نے قصیدۂ دالیہ “آمال الابرار” منظوم فرمایا جو قاضی عبد الوحید فردوسی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے پیش ہوا۔ اس قصیدے میں اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ نے پہلے “ندوہ” کے مفاسد و خرافات بیان فرمائے اس کے بعد “ندوہ” کے مخالف علمائے اہل سنت کے اسمائے گرامی شمار کرائے جن میں سب سے پہلا نام آپ ہی کا نامِ نامی اسمِ گرامی بیان فرمایا اور اس خطاب کے ساتھ بیان فرمایا۔ امامِ اہل سنت لکھتے ہیں:
بَقِيَّةُ الْأَوْلِيَاءِ أَمِينُ أَحْمَدْ
أَمِينُ أَحْمَدَ أَمْنٌ حَمُودٌ
شَمَائِلُهُ تُذَكِّرُنَا الصَّحَابَةَ
سَحَابَةٌ عَلَى كُلٍّ تَجُودُ
[قصیدہ آمال الابرار و آلام الاشرار، مطبع حنفیہ عظیم آباد، ص: ۱۰]
