Loading...

امامِ ہمام حضرت شیخ عبد الرحمن سراج حنفی رحمۃ اللہ علیہ|مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی

امامِ ہمام حضرت شیخ عبد الرحمن سراج حنفی رحمۃ اللہ علیہ
عنوان: امامِ ہمام حضرت شیخ عبد الرحمن سراج حنفی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

شیخ عبد الرحمن بن عبد اللہ سراج ۱۲۴۹ھ میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔

تعلیم و تربیت

حفظِ قرآن مجید اور دیگر علوم مکہ مکرمہ کے اجلہ علمائے کرام سے پڑھے، ان میں آپ کے والد شیخ علمائے مکہ و مفتیِ احناف شیخ عبد اللہ سراج (وفات ۱۲۶۲ھ)، مفتیِ مکہ شیخ جمال عبد اللہ جو آپ کے والد شیخ عبد اللہ سراج کی وفات کے بعد “شیخ علمائے مکہ” کے منصب پر فائز ہوئے، صاحبِ التالیف الشہیرہ و شیخ علمائے مکہ السید احمد زینی دحلان، مدرسہ صولتیہ کے بانی شیخ محمد رحمت اللہ کیرانوی ہندی شامل ہیں۔ شیخ عبد الرحمن سراج کے تمام اساتذہ اس دور میں علمائے مکہ مکرمہ کے سردار تھے، آپ نے حصولِ علم میں پوری لگن سے کام لیا اور علم و فضل میں ممتاز مقام پایا۔

درس و تدریس

تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ نے مسجد الحرام میں اپنا حلقۂ درس قائم کیا جہاں طالبانِ علم کی کثیر تعداد آپ سے فیضیاب ہوئی اور سندات حاصل کیں۔

مسندِ افتا

اسی دوران آپ کے شیخ و استاد، مفتیِ احناف شیخ جمال عبد اللہ زیارتِ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مدینہ منورہ گئے تو ان کی عدم موجودگی میں مفتیِ احناف کی مسند شیخ عبد الرحمن سراج کے سپرد ہوئی جس کی ذمہ داریاں آپ نے بخیر و خوبی انجام دیں، اور جب تھوڑے ہی عرصہ بعد شیخ جمال عبد اللہ نے وصال فرمایا تو امیرِ مکہ عبد اللہ بن عون الشریف نے مفتیِ احناف کے منصب پر آپ کے تقرر کے احکامات جاری کیے۔

ہجرت

۹ ذوالحجہ ۱۲۹۹ھ / ۱۸۸۲ء کو شریف عون رفیق مکہ مکرمہ کے امیر مقرر ہوئے، شریف عون رفیق غریب الاطوار اور بد مزاج آدمی تھا اس نے اپنے عجیب اعمال و افعال کی وجہ سے چند ہی سالوں میں اہل مکہ کے لیے سانس لینا دو بھر کر دیا، بالآخر تنگ آ کر شہریوں نے سلطان عبد الحمید خلیفۂ عثمانی کے نام ایک درخواست لکھی اور اس میں تمام حالات درج کر کے اس پر متعدد شہریوں کے علاوہ مندرجہ ذیل اکابر علمائے مکہ نے تائیدی دستخط ثبت کیے جن میں آپ بھی تھے۔ پھر حکومت کی طرف سے اس میں حصہ لینے والوں کی گرفتاریاں ہونے لگیں جس کے سبب آپ ہجرت پر مجبور ہوئے اور جدہ میں ایک جھونپڑی میں قیام پذیر ہوئے پھر وہاں سے مصر چلے آئے۔

دنیا کی خاطر اپنے دین کو بیچا نہیں کرتا

کسی موقع پر برطانوی حکومت کا ایک نمائندہ شیخ عبد الرحمن سراج کے پاس ایک جھونپڑی میں وارد ہوا، اور آپ سے عرض کیا: حکومتِ برطانیہ کی یہ خواہش ہے کہ آپ ایک فتویٰ جاری کر دیں کہ اسلامی ممالک میں بیک وقت دو خلفا کا مسند نشین ہونا یا دو خلافتوں کا وجود اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں اور اگر آپ یہ فتویٰ لکھ کر ہمیں دے دیں تو حکومتِ برطانیہ آپ کو ہندوستان میں “قاضی القضاۃ” کا اعلیٰ ترین منصب پیش کرے گی، اور فی الفور آپ کی تقرری کے احکامات جاری کر کے آپ کو بحفاظت ہندوستان پہنچا دیا جائے گا، شیخ عبد الرحمن سراج اور برطانوی نمائندے کے درمیان جب یہ گفتگو ہو رہی تھی تو آپ کے نو عمر بیٹے شیخ عبد اللہ سراج وہیں موجود تھے، انہوں نے اپنے والد کی پیرانہ سالی اور مرض کو ذہن میں لاتے ہوئے آپ سے عرض کیا: والد محترم! آپ یہ فتویٰ جاری کر دیں تاکہ ہمیں ان پیش آمدہ مصائب سے نجات ملے، جواباً آپ نے برق آلود نگاہوں سے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے ایک زوردار تھپڑ ان کے گال پر رسید کیا اور برطانوی نمائندے کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرمایا: آپ جا کر اپنے افسر سے کہہ دیجیے کہ میں دنیا کی خاطر اپنے دین کو بیچا نہیں کرتا، آپ کا یہ دو ٹوک جواب سن کر نمائندہ چپ چاپ اٹھا اور جھونپڑی سے باہر نکل گیا۔

وفات

شیخ عبد الرحمن سراج کو بیماری نے گھیر رکھا تھا ساتھ ہی ساتھ اپنے وطنِ عزیز حجازِ مقدس سے جدائی، اپنے اہل و عیال اور احباب سے بچھڑنے کا ملال، نتیجہً ۱۳۱۲ھ میں چھیاسٹھ برس کی عمر میں یہ بے مثل عالمِ دین حق کی خاطر آواز بلند کرنے میں کسی قسم کا ڈر خوف و خطر میں نہ لانے والے، رعایا پر ظلم رکوانے کے لیے مناصبِ جلیلہ اور ذاتی اعزاز و اکرام کو خیر باد کہنے والے ایک بھرپور زندگی گزار کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

القاب و خطابات

مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے پہلے سفرِ حج ۱۲۹۶ھ / ۱۸۷۸ء کے موقع پر جن تین علمائے مکہ مکرمہ سے شاگردی کا شرف حاصل کیا، شیخ عبد الرحمن سراج حنفی رحمۃ اللہ علیہ ان میں سے ایک ہیں، فاضل بریلوی نے اپنی کتاب “الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ” (۱۳۲۴ھ) میں آپ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

“مَوْلَانَا الْإِمَامُ الْهُمَامُ سِرَاجُ اللّٰهِ فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ ابْنُ الْمَوْلَى عَبْدِ اللّٰهِ السَّرَاجِ مُفْتِي الْحَنَفِيَّةِ بِمَكَّةَ التَّحِيَّةِ رَحِمَهَا اللّٰهُ تَعَالَى” [الاجازات المتینہ، ص: ۱۰]

“الْمَوْلَى الْأَجَلُّ الْفَقِيهُ الْأَبَجَلُّ دُرَّةُ التَّاجِ وَبَدْرُ الْوَاجِ مُفْتِي الْحَنَفِيَّةِ بِمَكَّةَ الْمَحْمِيَّةِ سَيِّدُنَا الشَّيْخُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ السَّرَاجُ ابْنُ الْمُفْتِي الْأَجَلِّ عَبْدِ اللّٰهِ السَّرَاجِ الْوَهَّاجِ” [ایضاً، ص: ۱۹]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!