| عنوان: | لوگ کیا کہیں گے؟ |
|---|---|
| تحریر: | سائرہ الطاف امجدی |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
اسی ایک جملے نے نہ جانے کتنے خواب ختم کر دیے، نہ جانے کتنے دل توڑ دیے، نہ جانے کتنی زندگیاں برباد کر دیں، کتنے گھر اجاڑے، کتنی بستیاں ویران کیں، کتنے دلوں کو روندا اور نہ جانے کتنی زندگیوں کو خستہ حال بنا دیا۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ “لوگ کیا کہیں گے؟”
کسی نے اپنی پسند کو چھوڑ دیا، کیونکہ “لوگ کیا کہیں گے؟” کسی نے پردہ کرنا چاہا، مگر چھوڑ دیا، کیونکہ “لوگ کیا کہیں گے؟” کسی نے نیکی کی راہ اپنانی چاہی، مگر رک گیا، کیونکہ “لوگ کیا کہیں گے؟” کسی نے حق بات کہنی چاہی، مگر خاموش رہا، کیونکہ “لوگ کیا کہیں گے؟”
صرف اس ایک جملے نے نہ جانے آج کتنی زندگیوں کو ویران کر دیا، صحیح فیصلہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے روک دیا۔
آج اس دور کو لوگ “پروفیشنل زمانہ” کہتے ہیں، حالانکہ یہی دور تباہی و بربادی کی طرف رواں دواں ہے۔ اس پرفتن زمانے میں اگر کوئی دین کی راہ پر چلنا چاہے یا علم دین حاصل کرنے کے لیے نکلے، تو اس کے دل میں بھی یہی خیال آتا ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے؟” اَللّٰهُ أَكْبَرُ!
تو کیا ایسے دور کو پروفیشنل کہا جاتا ہے جہاں لوگوں کا ڈر ہو؟ جہاں علم دین سیکھنے کے لیے دل میں لوگوں کا خوف بسا ہو، بجائے اس کے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف ہو اور صرف اللہ کی رضا کے لیے علم دین حاصل کیا جائے، اپنی آخرت کو سنوارا جائے؟ لیکن نہیں… “لوگ کیا کہیں گے؟”
یہ “لوگ” کون ہیں؟
جو نہ تیرے رب کے سامنے تیرے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے، نہ قبر میں تیرے ساتھ آئیں گے، نہ قیامت کے دن تیرا ہاتھ پکڑیں گے، بلکہ یہی لوگ سب سے پہلے تجھے بھول جائیں گے۔
تو آج ہم کن لوگوں کے لیے اپنے جذبات، اپنے احساسات اور اپنے خوابوں کو ختم کر رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی رائے کبھی ختم نہیں ہوتی، ان کا کہنا کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ لیکن آپ اپنے اندر کے ہنر، اپنی صلاحیتوں اور اپنے جذبات کو ان لوگوں کے لیے ختم کر رہے ہیں جو نہ آج آپ کے ہیں اور نہ کل آپ کے ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار عظیم نعمتوں سے نوازا ہے، مگر آپ ان نعمتوں کا اظہار کرنے کے بجائے صرف اس خوف میں گھٹ گھٹ کر جی رہے ہیں کہ “لوگ کیا کہیں گے؟”
آج ہم سب اگر اس خوف سے باہر نکل کر یہ سوچیں کہ “رب کیا کہے گا؟” رب کے سامنے کیا منہ دکھائیں گے؟ جس رب نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا، ہمیں سب کچھ دیا اور اتنی خوبصورت زندگی عطا فرمائی، کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جب وہ رب پوچھے گا تو ہم کیا جواب دیں گے؟ لیکن افسوس! آج ہماری زندگی کا معیار یہ بن چکا ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے؟”
حالانکہ وہ لوگ نہ اپنی عبادتیں ہمیں دے سکتے ہیں، نہ اپنی ریاضتیں، نہ اپنی نیکیاں۔ لیکن وہ رب، جس نے ہم سے بے شمار وعدے کیے اور ہمیں ہر چھوٹی بڑی نعمت سے نوازا، اس کی رضا حاصل کرنا ہی ہماری زندگی کا مقصد ہونا چاہیے۔
اگر انسان کا مقصد نیک ہو، کردار اچھا ہو اور عمل شریعت کے مطابق ہو، تو پھر لوگوں کی بے جا تنقید سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
خدارا! اس جملے “لوگ کیا کہیں گے؟” کو اپنی زندگی سے کوسوں دور کر دیجیے۔ جب ہم اپنے دل و دماغ سے اس خوف کو نکال دیں گے تو، ان شاء اللہ، ہماری زندگی کامیابی کی طرف بڑھنے لگے گی۔ البتہ ہر کام نیکی، عدل، انصاف اور شریعت کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ غیر شرعی یا غیر قانونی کام کر کے یہ سوچ لیا جائے کہ “کون لوگ؟ کون چار لوگ؟” کیونکہ کل اپنے رب کو بھی جواب دینا ہے۔
اللہ رب العزت ہم سب کو شریعت مطہرہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم تمام امت محمدیہ کو ہمیشہ ہمیش ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
(اپنا تجربہ)
کامیاب وہی ہے جو “لوگ کیا کہیں گے؟” کے خوف سے نکل کر “اللہ کیا فرمائے گا؟” کو اپنی زندگی کا معیار بنا لے۔
