| عنوان: | یہ آخری صدی نہیں، کتابوں سے عشق کی!!! |
|---|---|
| تحریر: | محمد ارقم رضا ازہری |
کبھی کبھی بعض جملے اپنی دلکشی کی وجہ سے اتنے مشہور ہو جاتے ہیں کہ لوگ انہیں حقیقت سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ وہ محض ایک خیال، ایک تاثر یا ایک جذباتی تبصرہ ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک جملہ یہ بھی ہے:
”یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔“
سننے میں یہ جملہ نہایت پرکشش معلوم ہوتا ہے۔ اس میں ایک طرح کا نوحہ بھی ہے اور ایک تہذیبی افسوس بھی۔ مگر جب اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے حقیقت سے زیادہ مایوسی کارفرما ہے۔
اس جملے کے قائلین عموماً یہ دلیل دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا، موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو کتابوں سے دور کر دیا ہے۔ لوگوں کی توجہ مختصر تحریروں، ویڈیوز اور مصروفیات میں بٹ گئی ہے، لہٰذا کتابوں کا زمانہ اب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہے؟
اگر ہم تاریخ کو تعصب سے پاک نگاہوں سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ سوشل میڈیا سے پہلے بھی دنیا کا ہر فرد کتابوں کا عاشق نہیں تھا۔ ہر دور میں کتابیں پڑھنے والے محدود رہے ہیں۔ بڑے بڑے ادوارِ علم میں بھی اکثریت مطالعہ کرنے والوں کی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں مصروف لوگوں کی تھی۔ علم و ادب کی شمع ہمیشہ ایک مخصوص طبقے نے روشن رکھی ہے، اور انہی چند لوگوں کے دم سے تہذیبیں زندہ رہی ہیں۔
لہٰذا یہ تصور کہ ماضی میں سب لوگ کتابیں پڑھتے تھے اور اب کسی کو کتابوں سے دلچسپی نہیں رہی، تاریخی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
بلکہ اگر حقیقت دیکھی جائے تو کتاب آج پہلے سے زیادہ عام ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے علم تک رسائی کو آسان بنایا ہے۔ لاکھوں کتابیں چند لمحوں میں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی لائبریریاں ایک طالبِ علم کے ہاتھ میں موجود موبائل فون تک پہنچ چکی ہیں۔
مگر اس کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسکرینوں کے آنے سے کاغذی کتابوں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے، جبکہ زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں کتابیں ہر سال شائع ہو رہی ہیں۔ کتاب میلے پہلے سے زیادہ بڑے پیمانے پر منعقد ہو رہے ہیں۔ ناشرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ علمی، ادبی، تاریخی اور مذہبی موضوعات پر مسلسل نئی کتابیں منظرِ عام پر آ رہی ہیں۔
چنانچہ یہ کہنا کہ اب صرف اسکرین پر کتاب باقی رہ گئی ہے، درست نہیں۔ اسکرین نے کتاب کا دائرہ وسیع کیا ہے، اس کی جگہ نہیں لی۔ آج بھی بے شمار لوگ وہی لذت محسوس کرتے ہیں جو ورق پلٹنے، حاشیے لگانے، پسندیدہ اقتباسات پر نشان لگانے اور کتاب کی خوشبو میں ڈوب جانے سے حاصل ہوتی ہے۔ کتابِ کاغذی محض علم کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور روحانی تجربہ بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسکرین اور کاغذ ایک دوسرے کے دشمن نہیں، بلکہ علم کی دو مختلف راہیں ہیں۔ ایک نے رسائی کو آسان بنایا ہے اور دوسرے نے روایت کو زندہ رکھا ہے۔
البتہ اگر کوئی یہ کہے کہ اب ماضی جیسے مصنفین پیدا نہیں ہوں گے تو اس بات میں ایک حد تک وزن ضرور موجود ہے۔
اسلامی روایات اور تاریخی مشاہدات دونوں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علم میں کمی واقع ہوگی۔ اہلِ علم کے انتقال کے ساتھ علوم بھی اٹھتے جائیں گے۔ وہ عظیم شخصیات جنہوں نے اپنی زندگیاں علم کے لیے وقف کر دیں، جنہوں نے سینکڑوں جلدوں پر مشتمل شاہکار تصنیف کیے، جن کی وسعتِ مطالعہ اور گہرائیِ فکر آج بھی حیران کرتی ہے، ان جیسی شخصیات کا ظہور یقیناً دشوار سے دشوار تر ہوتا جائے گا۔
مگر یہاں ایک بنیادی مغالطہ پیدا ہوتا ہے۔
علماء اور مصنفین کے معیار میں کمی کا امکان، کتابوں سے عشق کے خاتمے کی دلیل نہیں بن سکتا۔
ایک باغ میں اگر پہلے جیسے تناور درخت پیدا نہ ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ باغ میں پھول کھلنا بند ہو گئے ہیں۔
ممکن ہے مستقبل میں ایسے مصنف کم ہوں جو صدیوں تک یاد رکھے جائیں، ممکن ہے علمی عظمت کے وہ مینار کم نظر آئیں جو ماضی میں دکھائی دیتے تھے، لیکن جب تک علم باقی ہے، اس کے طالب بھی باقی رہیں گے؛ اور جب تک طالبِ علم باقی ہیں، کتاب بھی باقی رہے گی۔
کتاب انسان کی فطرت سے جڑی ہوئی چیز ہے۔ انسان سوال کرتا ہے، تلاش کرتا ہے، سیکھتا ہے، سمجھتا ہے اور پھر اپنے تجربات اگلی نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔ یہی کتاب کا بنیادی مقصد ہے۔ جب تک انسان سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کتاب اس کی ضرورت رہے گی۔
شاید اس لیے تاریخ میں سلطنتیں ختم ہو گئیں، زبانیں بدل گئیں، حکومتیں مٹ گئیں، مگر کتاب باقی رہی۔ قلم کی روشنائی نے تلواروں کی دھار سے زیادہ عمر پائی۔ کاغذ کے اوراق نے محلات سے زیادہ بقا حاصل کی۔ اور علم کے خزانے نسل در نسل منتقل ہوتے رہے۔
اس لیے میرے نزدیک زیادہ درست جملہ یہ ہے کہ:
”یہ آخری صدی نہیں کتابوں سے عشق کی؛ بلکہ کتابوں سے عشق اس وقت تک باقی رہے گا جب تک زمین پر علم کا ایک چراغ بھی روشن ہے۔“
ہاں، یہ ممکن ہے کہ مطالعے کے انداز بدل جائیں، کتابوں کی صورتیں بدل جائیں، مصنفین کے معیار میں کمی آ جائے، اہلِ علم کی تعداد کم ہو جائے، لیکن کتاب سے محبت کبھی ختم نہیں ہوگی۔
کیونکہ کتاب محض کاغذ نہیں، شعور ہے۔
کتاب محض روشنائی نہیں، تہذیب ہے۔
کتاب محض الفاظ نہیں، نسلوں کا حافظہ ہے۔
اور جب تک انسان اپنے حافظے، اپنی تہذیب اور اپنے شعور سے محبت کرتا رہے گا، تب تک کتابوں سے عشق بھی زندہ رہے گا۔
لہٰذا میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ:
یہ آخری صدی نہیں کتابوں سے عشق کی؛ بلکہ کتابوں سے عشق شاید زمین پر علم کے آخری دن تک انسانیت کے ساتھ زندہ رہے گا۔
