Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اگر مکاتب و مدارس ختم ہو گئے تو ؟

اگر مکاتب و مدارس ختم ہو گئے تو ؟
عنوان: اگر مکاتب و مدارس ختم ہو گئے تو ؟
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی
منجانب: جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی

مکاتب و مدارس کی حفاظت ہماری ذمہ داری

الحمد اللّٰه اسلام کی بقا، قرآنِ کریم کی حفاظت اور سنتِ نبوی کی اشاعت میں جس ادارے نے ہر دور میں بنیادی کردار ادا کیا، وہ ہمارے مکاتب و مدارس ہیں۔ جس طرح انسان کی زندگی کے لیے ہوا اور پانی ناگزیر ہیں، اسی طرح ایک زندہ دل مسلمان کی دینی زندگی کے لیے مکاتب و مدارس کا وجود ناگزیر ہے۔ انہی مکاتب میں ہمارے ننھے بچے قرآنِ مجید ناظرہ پڑھتے ہیں، بنیادی عقائد، نماز، روزہ، طہارت اور دیگر ضروری دینی مسائل سیکھتے ہیں، جبکہ انہی مدارس میں مستقبل کے ائمہ، خطباء، حفاظ، قراء، مفتیانِ کرام اور مدرسین تیار ہوتے ہیں، جو آگے چل کر امت کی دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔

ذرا تصور کیجیے، اگر خدانخواستہ مکاتب و مدارس کا وجود ختم کر دیا جائے تو ہماری آنے والی نسلیں قرآنِ کریم کس سے سیکھیں گی؟ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر احکامِ شرعیہ کون سکھائے گا؟ نکاح کون پڑھائے گا؟ جمعہ و عیدین کی امامت کون کرے گا؟ نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا؟ عوام کے شرعی مسائل کا حل کون بتائے گا؟ جب اسلام اور مسلمانوں پر اعتراضات کیے جائیں گے تو قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کا مدلل جواب کون دے گا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر ہر دردِ دل رکھنے والے مسلمان کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

آج ارتداد، بے دینی اور فکری گمراہی کے فتنے مختلف انداز میں پھیل رہے ہیں۔ ایسے نازک دور میں مدارسِ اہلِ سنت ہی وہ مضبوط قلعے ہیں جہاں قرآن و سنت کی صحیح تعلیم، عقائدِ اہلِ سنت، عشقِ رسول ﷺ اور محبتِ صحابۂ کرام و اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی شمع روشن رکھی جاتی ہے۔ اگر یہ قلعے کمزور ہو جائیں تو آنے والی نسلوں کا دین محفوظ رکھنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں کے دینی اداروں پر بھی سخت آزمائشیں آئیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مسلمانوں کے اخلاص کی برکت سے مدارس کا چراغ کبھی بجھ نہ سکا۔ ہمارے اسلاف نے اپنی محنت کی کمائی، اپنے مال اور اپنی دعاؤں کے ذریعے ان اداروں کو سنبھالا، اور آج بھی یہی جذبہ انہیں قائم رکھے ہوئے ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ جب تک اللہ چاہے گا، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں جو دین کے نام پر دھوکا دیتے ہیں، امانت میں خیانت کرتے ہیں یا مدارس کے نام پر ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ ایسے افراد یقیناً قابلِ مذمت ہیں، لیکن ان کی وجہ سے تمام مکاتب و مدارس یا تمام علماءِ کرام کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔ چند افراد کی غلطی کی سزا پورے نظام کو دینا نہ عقل مندی ہے اور نہ شریعت کا مزاج۔

یاد رکھیے! اگر جسم کے کسی حصے میں پھوڑا ہو جائے تو پورا عضو نہیں کاٹا جاتا بلکہ صرف اسی خرابی کا علاج کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کہیں کسی فرد سے خیانت یا بدعنوانی سرزد ہو تو اس کی اصلاح کی جائے، اس کے خلاف شرعی اور قانونی طریقے اختیار کیے جائیں، مگر اس بہانے پورے دینی نظام کو بدنام کرنا کسی صورت درست نہیں۔

رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں اسے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔" [صحیح مسلم]

لہٰذا اگر کہیں کوئی خرابی نظر آئے تو اس کی اصلاح کی کوشش کیجیے، مگر سوشل میڈیا پر اپنے ہی دینی اداروں کی تذلیل اور رسوائی کا ذریعہ نہ بنیے۔ یاد رکھیے! مدارس ہمارے اپنے ہیں، ان کی عزت ہماری عزت اور ان کی بقا ہمارے دین کی بقا سے وابستہ ہے۔

موجودہ حالات اور مدارس کا سروے

آج کل ملک کی مختلف ریاستوں میں مدارس کے سروے کے نام پر جو صورتِ حال پیدا کی جا رہی ہے، اس نے اہلِ مدارس میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر حکومت کا مقصد صرف یہ جاننا ہے کہ تعلیمی ادارے مقررہ قوانین کے مطابق چل رہے ہیں یا نہیں، تو یہ اصول تمام تعلیمی اداروں پر یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ صرف مدارسِ اسلامیہ کو الگ نشانہ بنانا انصاف کے تقاضوں سے نہیں اور اس سے عام مسلمانوں کے دلوں میں بے چینی پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔

مدارس کسی فرد یا جماعت کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کی امانت ہیں۔ ان کی عمارتیں، کتب خانے، طلبہ کی رہائش اور دیگر ضروریات مسلمانوں کے حلال مال اور ان کے تعاون سے پوری ہوتی ہیں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے بچے بھی دینی تعلیم سے محروم نہ رہیں۔ یہی بچے آگے چل کر قوم کی دینی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔

اسی طرح اگر سرکاری ادارے قانونی تقاضوں کے مطابق ضروری دستاویزات طلب کریں تو جہاں تک شریعت اور قانون اجازت دیتے ہوں، ذمہ دارانِ مدارس کو حکمت اور وقار کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے، کیونکہ شفاف نظام ہمیشہ اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔ البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی جائز کارروائی کو مسلمانوں کو بدنام کرنے یا مدارس کو مشکوک بنانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

جدید تعمیرات اور ہاسٹل کا نظام

جدید تعمیراتی ضابطوں کی پاس داری کا لحاظ رکھیں، تنگ وتاریک کمروں کی تعمیر نہ کریں، خاص طور سے جن مدارس میں ہاسٹل کا نظام ہو انھیں تعمیرات میں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ابھی تو صرف حکومتی عملے دستاویزات طلب کر رہے ہیں، مستقبل میں مدارس کے ہاسٹل کے نظام پر بھی سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے بہت سارے مدارس ایسے ہیں جہاں طلبہ کی معقول رہائش اور ایک اقامتی ہاسٹل میں جو سہولیات ہو نی چاہئیں ان کا فقدان ہو تا ہے، ذمے داران مدارس ان امور پر بالکل توجہ نہیں دیتے، کمرے تنگ وتاریک، بر آمدے چھوٹے، چھت بغیر ریلنگ کے، صفائی کا کوئی نظم ونسق نہیں، بیت الخلا کی حالت نا گفتہ بہ، ان کے نہانے دھونے اور کپڑے سکھانے کا کوئی مناسب انتظام نہیں، چھوٹے چھوٹے کمروں میں ایک درجن سے زائد طلبہ کا قیام، یہ وہ مسائل ہیں جو اکثر مدارس میں قدر مشترک ہیں۔ ظاہر ہے کسی ہاسٹل کے جو حکومتی ضوابط ہیں، ہمارے مدارس کے یہ ہاسٹل ان ضابطوں کو پورا نہیں کر سکیں گے۔ مستقبل میں کبھی بھی مدارس کے یہ غیر معیاری ہاسٹل نشانے پر آسکتے ہیں۔ اس لیے قبل از وقت ایسے ہاسٹلوں کے معیار کو درست کر نے پر توجہ کی سخت ضرورت ہے۔

حالات کا جبری تقاضا ہے کہ اہل مدارس پوری مضبوطی اور استحکام کے ساتھ مدارس کے نظام کو باقی رکھیں، مدراس اسلامیہ سے مسلم سماج کی کم ہوتی دل چسپی کا ازالہ کریں، اسلامی بچے بچیوں کو عمدہ تعلیم وتر بیت کے زیور سے آراستہ کریں، مدارس کو تجارتی نقطۂ نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ان کے قیام کے اعلیٰ مقاصد پر ہمیشہ نظر رکھیں اور ماضی میں مدارس اسلامیہ کی شاندار تاریخ کو سامنے رکھ کر عظمت رفتہ کی بحالی کی کوششیں تیز کردیں۔

اللہ تعالیٰ ہمارے تمام مکاتب و مدارس کو ہر شر، فتنے اور فساد سے محفوظ رکھے اور ان کی خدمات کو قبول فرمائے، اللہ ربّ العزّت ہمیں اپنے مکاتب و مدارس، علماءِ اہلِ سنت اور دینی اداروں کی صحیح قدر کرنے، ان کی خدمت و معاونت کرنے اور ہر قسم کے فتنوں سے ان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتمِ النبیین ﷺ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!