Loading...

مفتیِ اعظم ہند مفتی مصطفیٰ رضا خاں بریلوی (قسط اول)

حامیِ سنت مفتیِ اعظم ہند مفتی مصطفیٰ رضا خاں بریلوی (قسط اول)
عنوان: حامیِ سنت مفتیِ اعظم ہند مفتی مصطفیٰ رضا خاں بریلوی (قسط اول)
تحریر: مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی
پیش کش: محمد کوثر العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

ولادت با سعادت

حضور مفتیِ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں بریلوی نوری بن امام احمد رضا خاں بریلوی بن امام العلما علامہ نقی علی خاں بریلوی علیہم الرضوان کی ولادت مبارکہ ۲۲ / ذی الحجہ ۱۳۱۰ھ ۔ ۷ / جولائی ۱۸۹۳ء بروز جمعہ بوقتِ صبح صادق امام احمد رضا کے حقیقی برادر علامہ حسن رضا خاں حسن بریلوی قدس سرہ کے دولت کدہ واقع محلہ رضا نگر سوداگران شہر بریلی شریف میں ہوئی۔

اسمِ گرامی

حضرت مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ کا پیدائشی اور اصلی نام محمد ہے، اسی اسمِ پاک پر آپ کا عقیقہ ہوا، غیبی نام آلِ رحمن ہے، پیر و مرشد نے آپ کا نام ابو البرکات محی الدین جیلانی تجویز کیا اور والد گرامی امام احمد رضا نے عرفی نام مصطفیٰ رضا رکھا، فنِ شاعری میں آپ اپنا تخلص نوری فرماتے تھے، عرفی نام اس قدر مشہور ہوا کہ خاص و عام میں آپ کو اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

تعلیم و تربیت

حضرت مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ نے قرآن کی تعلیم اپنے والد ماجد، عمِ محترم حضرت مولانا محمد رضا خاں، برادرِ مکرم حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں سے پائی اور فارسی اور ابتدائی عربی کی تعلیم بھی انہی حضرات سے حاصل کی۔ پھر جب مدرسہ اہل سنت قائم ہوا تو اپنے والدِ معظم اور آپ کے علاوہ برادرِ اکبر حجۃ الاسلام، استاذ الاساتذہ مولانا رحم الٰہی منگلوری، شمس العلما مولانا ظہور الحسین فاروقی رام پوری اور شیخ العلما سید بشیر احمد علی گڑھی سے بقیہ تعلیم کی تکمیل کرتے ہوئے آپ نے ۱۳۲۸ھ / ۱۹۱۰ء میں بعمر ۱۸ / سال خدا داد ذہانت، ذوقِ مطالعہ، لگن و محنت کے نتیجے میں جملہ علوم و فنون پر عبور حاصل کر کے مرکزِ اہل سنت دار العلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے تکمیل و فراغت پائی۔

درس و تدریس

حضرت مفتیِ اعظم باقاعدہ درسِ نظامی کے جملہ علوم و فنون سے فراغت کے بعد ۱۳۲۸ھ میں جامعہ منظرِ اسلام میں مسندِ تدریس کو زینت بخشی اور باضابطہ درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمۃ نے ۱۳۲۸ھ / ۱۹۱۰ء سے ۱۳۵۶ھ / ۱۹۳۷ء تک جامعہ رضویہ منظر اسلام میں مسند تدریس کو زینت بخشی۔ پھر جامعہ رضویہ مظہر اسلام کے قیام کے بعد مظہر اسلام میں بھی مسند تدریس پر جلوہ فرما ہوئے اور درس و تدریس کا یہ سلسلہ ۱۳۶۵ھ تک تقریباً چالیس سال جاری رہا۔

بیعت و خلافت

حضرت مفتی اعظم کی ولادت کی خبر ملتے ہی شاہ ابو الحسین نوری علیہ الرحمہ نے سیدنا امام احمد رضا کی اجازت سے داخلِ سلسلہ فرمایا۔ ۲۵؍ جمادی الآخرہ ۱۳۱۱ھ میں حضرت سید شاہ ابو الحسین نوری قدس سرہ بریلی تشریف لائے اس وقت سرکار مفتی اعظم کی عمر شریف چھ ماہ تین یوم کی تھی، سیدنا تا جدارِ مارہرہ مطہرہ علیہ الرحمہ نے اپنی انگشتِ شہادت آپ کے دہنِ مبارک میں ڈالی۔ مفتی اعظم شیرِ مادر کی طرح چوسنے لگے۔ تاجدارِ مارہرہ مطہرہ نے داخلِ سلسلہ فرمایا اور تمام سلاسل کی اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا۔ نیز امام احمد رضا نے اپنے نورِ نظر حضرت مفتی اعظم کو جمیع اوراد و اشغال، اوفاق و اعمال اور جمیع سلاسلِ طریقت میں ماذون و محاذ بنایا۔

فتویٰ نویسی

۱۳۲۸ھ میں فراغت کے بعد پہلا قلم برداشتہ فتویٰ رضاعت کے مسئلے پر لکھا۔ جواب کی صحت پر امام احمد رضا نے مسرت کا اظہار فرمایا اور خود ہی مہر بنوا کر عطا کی امام احمد رضا کی کامیابی پر علامہ نقی علی خاں کو جو خوشی ہوئی تھی۔ امام احمد رضا کو چھوٹے شہزادے کی کامیابی پر بھی وہی خوشی ہوئی۔ ۱۳۲۸ھ سے ۱۳۴۰ھ تک ۱۲/ سال امام احمد رضا کی زیر نگرانی فتویٰ لکھا، اور تربیت بھی حاصل کی ۱۳۲۹ھ کو عمِ مکرم علامہ حسن رضا قادری کا وصال ہوا تو حجۃ الاسلام منظر اسلام کے مہتمم ہوئے اور علامہ مصطفیٰ رضا خاں نوری کو فتویٰ نویسی اور امام احمد رضا خاں کی اعانت تفویض ہوئی۔ پھر امام احمد رضا کے وصال کے بعد ۱۳۴۰ھ سے باضابطہ فتویٰ نویسی کا آغاز کیا۔

تصنیفات و تالیفات

حضرت مفتی اعظم نے ہزارہا مصروفیات کے باوجود اہل محبت کو علمی ذخیرہ سے مالامال فرمایا ہے۔ آپ کی تصنیفات و تالیفات میں سے چند کے اسماء یہ ہیں:

  • (۱) القسوۃ علی ادوار الحمر الکفرۃ
  • (۲) القول العجیب فی جواز التثویب
  • (۳) النکتہ علی مراہ کلکتہ
  • (۴) مقتل الکذب و الجھل
  • (۵) حجۃ واھرہ بوجوب الحجۃ الحاضرۃ
  • (۶) مقتل کذب وکید
  • (۷) وقعات السنان فی حلق المسماۃ بسط البنان
  • (۸) الموت الاحمر
  • (۹) طرق الھدیٰ والارشاد الی احکام الامارۃ والجھاد
  • (۱۰) فتاویٰ مصطفویہ
  • (۱۱) ادخال السنان الی حنک الحلقی بسط البنان
  • (۱۲) سامانِ بخشش عرف گلستانِ نعت نوری
  • (۱۳) طرد الشیطان (عمدۃ البیان)
  • (۱۴) صلیم الدیان لتقطیع حبالۃ الشیطان
  • (۱۵) وقایۃ اھل السنۃ عن مکر دیوبند والفتنۃ
  • (۱۶) الھی ضرب بہ اھل حرب
  • (۱۷) مسائلِ سماع
  • (۱۸) سیف القھار علی عبید الکفار
  • (۱۹) مسلک مراد آباد پر معترضانہ ریمارک
  • (۲۰) فصل الخلافۃ
  • (۲۱) کانگریسیوں کا رد
  • (۲۲) الرجم الدیانی علی راس الوسواس الشیطانی
  • (۲۳) نھاء السنان
  • (۲۴) تنویر الحجۃ بالتواء الحجۃ
  • (۲۵) داڑھی کا مسئلہ
  • (۲۶) وہابیہ کی تقیہ بازی
  • (۲۷) القثم القاصم للداسم القاسم
  • (۲۸) الکادی فی العادی والغادی
  • (۲۹) اشد الباس علی عابد الخناس
  • (۳۰) نورالفرقانین جندالالہ و احزاب الشیطان
  • (۳۱) شفاء العی فی جواب سوال بمبئی
  • (۳۲) الطاری الداری لھفوات عبد الباری
  • (۳۳) الملفوظ (امام اہل سنت کے ملفوظات کا مجموعہ چار حصے)
  • (۳۴) نفی العار عن معائب المولوی عبد الغفار
  • (۳۵) کشف ضلال دیوبند (حواشی و تکمیلات الاستمداد)
  • (۳۶) حاشیہ فتاویٰ رضویہ جلد اول
  • (۳۷) حاشیہ فتاویٰ رضویہ جلد پنجم
  • (۳۸) حاشیہ تفسیر احمدی
  • (۳۹) حاشیہ فتاویٰ عزیزی وغیرہ

پیارے قارئین کرام! اس سے آگے مطالعہ کے لیے قسط دوم اوپن (سرچ) کریں

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!