| عنوان: | خاتم الاکابر حضرت مخدوم شاہ آلِ رسول مارہروی |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
ولادتِ باسعادت
آپ کی ولادتِ باسعادت ماہِ رجب المرجب 1209ھ میں مارہرہ شریف میں ہوئی۔
اسمِ مبارک
آپ کا نامِ نامی آلِ رسول ہے اور لقب خاتم الاکابر ہے۔
والدِ ماجد
آپ کے والدِ ماجد کا نامِ نامی سید شاہ آلِ برکات ستھرے میاں صاحب قدس سرہ ہے۔
تعلیم و تربیت
آپ کی تعلیم و تربیت والدِ ماجد کی آغوشِ شفقت میں ہوئی اور انہی کی نگرانی میں آپ کی نشوونما ہوئی۔ آپ نے ابتدائی کتب حضرت عین الحق شاہ عبد المجید بدایونی اور حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی بدایونی قدس سرہما سے خانقاہِ برکاتیہ میں پڑھیں۔ اس کے بعد فرنگی محل کے علمائے کرام، مولانا انوار فرنگی محلی، حضرت مولانا عبد الواسع سیدن پوری اور حضرت مولانا شاہ نور الحق رزاقی لکھنوی عرف ملا نور سے معقولات، علمِ کلام، فقہ اور اصولِ فقہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی۔
سلسلۂ رزاقیہ کی سند و اجازت حاصل فرمائی۔ 1226ھ میں حضرت مخدوم شیخ العالم عبد الحق رودولوی (متوفیٰ: 870ھ) کے عرسِ مبارک کے موقع پر مشاہیر علما و مشائخ کی موجودگی میں دستارِ فضیلت سے سرفراز فرمایا گیا اور اسی سنہ میں حضرت اچھے میاں قدس سرہ کے ارشاد کے بموجب حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے درسِ حدیث میں شریک ہوئے۔ صحاحِ ستہ کا دورہ کرنے کے بعد سلاسلِ حدیث و طریقت کی سندیں مرحمت ہوئیں، اور سندِ علمِ ہندسہ دو مقالہ اقلیدس سنا کر مولانا شاہ نیاز احمد صاحب بریلوی سے حاصل کی۔ آپ نے فنِ طب اپنے والدِ ماجد سید شاہ آلِ برکات ستھرے میاں قدس سرہ اور حکیم فرزند علی خاں موہانی سے عملاً و علماً حاصل فرمایا۔ [برکاتِ مارہرہ، نورِ مدائحِ حضور، ص: 81]
بیعت و خلافت
حضرت کو خلافت و اجازت حضور سیدی اچھے میاں قدس سرہٗ سے حاصل تھی، والدِ ماجد نے بھی اجازت مرحمت فرمائی تھی مگر مرید حضرت اچھے میاں قدس سرہٗ کے سلسلے میں فرماتے تھے۔
آپ کا مثالی کارنامہ
آپ نے اپنے دور میں خانقاہِ برکاتیہ کی بڑی خدمات انجام دی ہیں۔ مدرسہ، مدرسین، مشائخ، حجرات اور خلواتِ فقراء تعمیر کرائے۔ عالم، حافظ، قاری اور طبیب درگاہِ شریف میں متعین کیے، ایک محاسب مقرر فرمایا جو تمام حسابات درگاہِ شریف رکھے۔ خود آستانے کی خدمات مقرر فرمائیں، مسجد میں امام و مؤذن مقرر فرمایا۔ پہلے اکثر خدمات درگاہ و خانقاہ و مسجد، مریدین و خلفا کے سپرد تھیں، جو عقیدتاً بلا معاوضہ کرتے تھے مگر حضرت نے وہ تمام کام اپنے ذمے لے لیے اور خود ہی انجام دینے لگے۔
آخری وصیت
وقتِ رحلت آپ سے لوگوں نے استدعا کی کہ حضور! کچھ وصیت فرما دیجیے؟ بہت اصرار پر فرمایا: "مجبور کرتے ہو تو لکھ لو یہ ہمارا وصیت نامہ ہے۔"
أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ.
"بس یہی کافی ہے اور اس میں دین و دنیا کی فلاح ہے۔" [نورِ مدائحِ حضور، ص: 91]
تاریخِ وصال
آپ نے 18 ذی الحجہ 1296ھ بروز چہار شنبہ مارہرہ شریف میں وصال فرمایا۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ.
مزارِ شریف
آپ کا مزارِ شریف مارہرہ میں مشرقی دالان درگاہِ گنبدِ حضور صاحب البرکات میں بالیں مزار حضرت شاہ حمزہ قدس سرہٗ مرجعِ خلائق ہے۔
القابات و خطابات
-
آقائے نعمت
-
دریائے رحمت
-
سید الواصلین
-
سند الکاملین
-
قطبِ اوانہ
-
امامِ زمانہ
-
تاج دارِ مسندِ مارہرہ
-
مجمع الطریقین
-
مرجع الفریقین
-
اعرف العرفاء
-
مرجع الاولیاء
-
معدن البرکات مخزن الحسنات
-
اعلیٰ حضرت
اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والدِ محترم علامہ نقی علی خان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت و ارادت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے پیر و مرشد حضرت سیدنا آلِ رسول مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو درج ذیل خطابات سے یاد کیا، آپ لکھتے ہیں:
"جمادی الاولیٰ 1294ھ کو مارہرہ مطہرہ میں دستِ حق پرست، حضرت آقائے نعمت، دریائے رحمت، سید الواصلین، سند الکاملین، قطبِ اوانہ، و امامِ زمانہ حضورِ پرنور سیدنا و مرشدنا مولانا و مأوانا ذُخْرَتِي لِيَوْمِي وَغَدِي حضرت سیدنا شاہ آلِ رسول احمدی تاج دارِ مسندِ مارہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ وافاض علینا من برکاتہ ونعماہ پر شرفِ بیعت حاصل فرمایا۔ حضورِ پیر و مرشدِ برحق نے مثالِ خلافت و اجازتِ جمیع سلاسل و سندِ حدیث عطا فرمائی۔ یہ غلامِ ناکارہ بھی اسی جلسے میں اس جناب کے طفیل ان برکات سے شرف یاب ہوا۔ والحمد لله رب العالمین۔" [اذاقۃ الآثام لمانعی عمل المولد والقیام، علامہ نقی علی خان، ص: 32]
اور "الاجازات المتینہ" میں لکھتے ہیں:
وَتِلْكَ الْعُلُومُ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ: اَلْقِرَاءَةُ، وَالتَّجْوِيدُ، وَالتَّصَوُّفُ، وَالسُّلُوكُ، وَالْأَخْلَاقُ، وَأَسْمَاءُ الرِّجَالِ، وَالسِّيَرُ، وَالتَّوَارِيخُ، وَاللُّغَةُ، وَالْأَدَبُ بِفُنُونِهِ عَلَى الْإِطْلَاقِ. فَأَجَزْتُكُمْ بِقِسْمِي هَذِهِ الْعُلُومَ الْجَلَائِلَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْمُتُونِ وَالشُّرُوحِ وَالْحَوَاشِي وَالرَّسَائِلِ لِلْعُلَمَاءِ الْمُتَقَدِّمِينَ وَالْمُتَأَخِّرِينَ، مِنْ كُلِّ مَا أَرْوِيهِ مِنْ مَشَايِخِي الْأَكْرَمِينَ، كَحَضْرَةِ مَوْلَايَ وَمُرْشِدِي وَسَيِّدِي وَسَنَدِي وَكَنْزِي وَذُخْرَتِي لِيَوْمِي وَغَدِي، مَجْمَعِ الطَّرِيقَيْنِ وَمَرْجِعِ الْفَرِيقَيْنِ، مِنَ الْعُلَمَاءِ وَالْعُرَفَاءِ الْأَطَاهِرِ، مُلْحِقِ الْأَصَاغِرِ بِالْأَكَابِرِ، سَيِّدِنَا الشَّاهِ آلِ الرَّسُولِ الْأَحْمَدِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِالرِّضَى السَّرْمَدِيِّ - عَنْ شُيُوخٍ أَجِلَّاءَ، مِنْهُمُ الشَّاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ الدِّهْلَوِيُّ، عَنْ أَبِيهِ الشَّاهِ وَلِيِّ اللَّهِ الْمُحَدِّثِ الْمُكْثِرِ الْقَوِيِّ. [الاجازات المتینہ، امام احمد رضا خان، مطبوعہ: مطبع قادری، بریلی شریف، ص: 18]
نیز فتاویٰ رضویہ شریف میں آپ لکھتے ہیں:
"ہاں ہاں یہ ادنیٰ خاک بوسیِ آستانِ رفیع غلامانِ منبعِ بندگانِ بارگاہِ عرفان پناہِ اقدس حضرت آقائے نعمت، دریائے رحمت..."
أَعْرَفِ الْعُرَفَاءِ الْكِرَامِ، مَرْجِعِ الْأَوْلِيَاءِ الْعِظَامِ، السَّحَابِ الْهَامِرِ، اَلْمُرْتَضَى الْقَادِرِ، وَالْعُبَابِ الزَّاخِرِ بِالْفَضْلِ الْبَاهِرِ، ذُو الْقُرْبِ الزَّاهِرِ، وَالْعُلُوِّ الظَّاهِرِ، وَالنَّسَبِ الطَّاهِرِ، مُلْحِقِ الْأَصَاغِرِ بِالْجِلَّةِ الْأَكَابِرِ، مَعْدِنِ الْبَرَكَاتِ، مَخْزَنِ الْحَسَنَاتِ، مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ الْكَائِنَاتِ، عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ، وَارِثِ النَّجَدَاتِ مِنْ حَمْزَةَ الْحَمَزَاتِ، الْقَمَرِ الْمُسْتَبِينِ بِالنُّورِ الْمُبِينِ مِنْ شَمْسِ الدِّينِ، أَبِي الْفَضْلِ الْعَظِيمِ وَالشَّرَفِ الْكَرِيمِ، سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا وَمَلْجَأَنَا وَمَأْوَانَا، شَيْخِي وَمُرْشِدِي، كَنْزِي وَذُخْرِي لِيَوْمِي وَغَدِي، أَعْلَى حَضْرَتِ سَيِّدِنَا السَّيِّدِ الشَّاهِ آلِ رَسُولٍ الْأَحْمَدِيِّ، فَاطِمِيٍّ، حُسَيْنِيٍّ، قَادِرِيٍّ، بَرَكَاتِيٍّ، وَاسِطِيٍّ، بِلْگِرَامِيٍّ، مَارَهْرَوِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَأَجْزَلَ وَأَعْظَمَ قُرْبَهُ مِنْهُ، وَأَشْرَقَ عَلَيْنَا مِنْ نُورِهِ التَّامِّ، وَأَفَاضَ عَلَيْنَا مِنْ بَحْرِهِ الطَّامِّ، وَجَعَلَنَا مِنْ خَدَمِهِ فِي دَارِ السَّلَامِ، بِفَضْلِ رَحْمَةٍ عَلَيْهِ وَعَلَى آبَائِهِ الْكِرَامِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ أَبَدَ الْآبِدِينَ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 5، ص: 166]
