| عنوان: | شراب کی لعنت اور اس کے مہلک اثرات (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مبارک حسین مصباحی |
| پیش کش: | محمد کوثر العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
ہندوستان میں گجرات، ناگالینڈ، لکش دیپ اور منی پور کے بعض حصوں کے بعد اب بہار میں بھی مکمل پابندی
کیرل میں 30 مئی 2013ء سے شراب کے نئے لائسنس کا سلسلہ بند
مقامِ مسرت ہے کہ بہار حکومت کے موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے انتخابی وعدے ”شراب پر پابندی“ کو عملی جامہ پہنا دیا۔ یکم اپریل 2016ء کو پہلے دیسی شراب پر پابندی عائد کی اور اس کے بعد 5 اپریل کو انگریزی شراب پر بھی پابندی عائد کر دی۔ دراصل جولائی 2015ء کو پٹنہ میں منعقدہ ”گرام وارتا پروگرام“ میں نتیش کمار تقریر کر کے بیٹھے کہ ایک خاتون نے آواز بلند کی: ”وزیر اعلیٰ صاحب! شراب بند کرائیے، ہمارا گھر برباد ہو رہا ہے۔“ اس کے بعد مزید چند عورتیں اسی خاتون کی آواز میں آواز ملا کر کہنے لگیں: ”ہمارا مطالبہ بھی یہی ہے، جتنی جلد ہو سکے آپ شراب بند کرائیں۔“ ان آوازوں کو سن کر جناب وزیر اعلیٰ اٹھے اور بروقت یہ کہہ گئے کہ اگر اس الیکشن میں وزارتِ اعلیٰ کی کرسی مل گئی تو میں شراب ضرور بند کرا دوں گا۔ اس پُر اعتماد اعلان کے بعد پورا ہال تالیوں سے گونجنے لگا۔ الیکشن کے انتخابی جلسوں اور ریلیوں میں اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ کے اس اعلان کو ہلکے میں لیا، مگر بہار الیکشن جس دانش مندانہ انداز سے لڑا گیا اور جس بے دردی کے ساتھ بی جے پی وغیرہ کو شکست دے کر متحدہ محاذ نے کامیابی کا پرچم لہرایا، اس نے نہ صرف ہندوستان کو بلکہ دنیا کے بیشتر علاقوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر جناب نتیش کمار نے شراب بندی کے مدعا کو اپنے سات فیصلوں میں شامل کیا، اور حکومت کی تشکیل کے بعد یکم اپریل سے 5 اپریل 2016ء تک شراب پر مکمل پابندی کا اعلان کر دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار سرکار کی کوشش ہوگی کہ نشہ کرنے کے لیے جو رقم خرچ ہوتی ہے وہ اب تعلیم و تربیت اور مقوی غذاؤں پر خرچ ہو۔ ان حالات سے خواتین میں خوش حالی آئے گی اور خاندانی ترقی میں تیزی آئے گی۔ آپ نے مزید کہا کہ ہم نے چیف سکریٹری اور پروڈکٹ ڈپارٹمنٹ کو نئی پالیسی بنانے کی ہدایت دے دی ہے۔ بہار میں شراب کی 592 دکانیں ہیں، جنہیں یکم اپریل 2016ء سے بند کر دیا گیا ہے۔
اس میں شبہہ نہیں کہ بہار میں جس طرح مہا دلتوں کا ایک بڑا ووٹ بینک وزیر اعلیٰ نے بنایا ہے، اب اسی طرح عورتوں کا بھی ایک بہت بڑا ووٹ بینک بن جائے گا۔ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ شراب پر پابندی سے ظاہری طور پر تو خسارہ ہے، گزشتہ برس بہار کو شراب کی فروخت سے 3300 کروڑ کی آمدنی ہوئی مگر یہ خسارہ واقعی خسارہ نہیں ہے۔ اس آمدنی سے کئی گنا زیادہ رقمیں اسی سے متعلق دیگر صیغوں پر خرچ ہو جاتی ہیں۔
شراب نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر لمبے اخراجات ہوتے ہیں، اس کے باوجود بھی صحت و عافیت یقینی نہیں ہوتی۔ اسی طرح شراب نوشی فتنہ و فساد کا سبب بھی بنتی ہے۔ ایک شراب خانے میں ایک ہندو اور ایک مسلمان گئے، دونوں نے خوب شراب پی اور باہم جھگڑنے لگے۔ ایک دوسرے کو گالی گلوچ کرنے لگے، بات آگے بڑھی اور شہر کے مختلف علاقوں میں غلط پیغام یہ چلا گیا کہ بازار میں ہندو مسلم فساد ہو گیا ہے اور پھر شہر میں واقعی ہندو مسلم فساد شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف جانی نقصان ہوتا ہے بلکہ لاکھوں کا مالی نقصان بھی ہو جاتا ہے۔ اسی طرح زنا کاری، بدکاری، قتل و غارت گری، چوری، ڈاکہ زنی، سیاسی اور سماجی برائیاں پھیلنے لگتی ہیں۔ اسی طرح شراب نوشی سے پاگل ہو کر فصلوں اور آشیانوں میں آگ لگا دینا، بیویوں کو طلاق دے دینا، غیر محرم لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ وغیرہ تباہ کاری کے ہزار راستے ہیں۔ اس قسم کے جرائم اور شرابیوں سے متعلق خبریں آئے دن پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔
ملک کی متعدد ریاستوں میں شراب کی فروخت پر پابندی ہے۔ ان میں گجرات، ناگالینڈ، لکش دیپ اور منی پور کے کچھ حصے شامل ہیں۔ کیرالہ میں 30 مئی 2013ء کے بعد سے شراب کی دکانوں کا لائسنس ملنا بند ہو گیا ہے۔ چند ریاستوں میں پابندی عائد ہوئی تھی، لیکن عمل نہیں ہو سکا۔ ان میں آندھرا پردیش، ہریانہ اور میزورم شامل ہیں۔ 1977ء میں بہار میں بھی پابندی عائد ہوئی تھی، مگر افسوس کہ بعض وجوہ سے یہ پابندی ٹوٹ گئی، لیکن اس بار لگتا ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ اسے باقی رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے، اس لیے کہ اس بار انہیں عورتوں کے ووٹ بینک کا بھرپور احساس ہو گیا ہے۔
ماقبل کی گفتگو کا حاصل صرف اتنا ہے کہ اسلام نے تقریباً ساڑھے چودہ سو برس قبل شراب کے تعلق سے جن حقائق کا انکشاف کیا تھا، دنیا شعوری یا لاشعوری طور پر ان تمام حقائق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتی رہی ہے۔ گجرات، ناگالینڈ، لکش دیپ اور بہار وغیرہ میں جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان کے پسِ پشت اسلام کی دعوت و تبلیغ کا اثر ہو یا نہ ہو مگر کم از کم ان حقائق کو تو ہندوستان کا ایک طبقہ تسلیم کر رہا ہے۔ بلکہ سچی بات یہ ہے کہ دنیا ضد اور ہٹ دھرمی سے کنارہ کش ہو کر جب غور کرتی ہے تو اسے ہر ہری چیز ہری ہی نظر آتی ہے۔ اسی طرح آپ زنا کاری کی لعنت کو دیکھ لیجیے، ہندوستان کی پارلیمنٹ وغیرہ میں متعدد بار بڑے بڑے سیاست دانوں نے اس آواز کو اٹھایا ہے کہ اس کو مکمل ختم کرنے کے لیے لازم ہے کہ اسلامی قانون نافذ کیا جائے۔
شراب کی تعریف
لغت میں ہر پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں اور اصطلاحِ فقہا میں شراب اسے کہتے ہیں جس سے نشہ ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی قسمیں ہیں۔ خمر انگور کی شراب کو کہتے ہیں، یعنی انگور کا کچا پانی جس میں جوش آ جائے اور شراب پیدا ہو جائے۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں جھاگ پیدا ہو، اور ہر شراب کو مجازاً خمر کہہ دیتے ہیں۔ [بہارِ شریعت، ج: 3، ص: 517، بحوالہ الفتاویٰ الہندیہ، کتاب الاشربہ، الباب الاول فی تفسیر الاشربہ، ج: 5، ص: 410 / درمختار، کتاب الاشربہ، ج: 10، ص: 33]
امام حافظ محمد بن احمد ذہبی (متوفیٰ: 748ھ) ”کتاب الکبائر“ میں فرماتے ہیں کہ ہر اس شے کو خمر کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ دے، چاہے وہ تر ہو یا خشک، کھائی جاتی ہو یا پی جاتی ہو۔ [کتاب الکبائر، ص: 94]
شراب کی حرمت کا تدریجی سفر
اسلام نے شراب کی حرمت میں تدریجی سفر طے کیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس وقت عام طور پر عرب شراب نوشی میں مبتلا رہتے تھے۔ بیک وقت اس کی حرمت کا حکم شاید ان کے لیے بارِ گراں ہوتا، اس لیے شراب کے تعلق سے چار آیات کا نزول ہوا۔
پہلی آیتِ کریمہ:
وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ [سورۃ النحل: 67]
ترجمہ: اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق، بے شک اس میں نشانی ہے عقل والوں کے لیے۔
اس آیتِ کریمہ کے نزول کے بعد بھی مسلمان شراب پیتے رہے، اس لیے کہ یہ ان کے لیے حلال تھی۔ امیر المومنین حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا: ”یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہمیں شراب کے بارے میں واضح حکم دیجیے، کیوں کہ یہ عقل کو ختم کرنے والی اور مال کو ضائع کرنے والی ہے۔“ تو ارشادِ ربانی ہوا:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ [سورۃ البقرۃ: 219]
ترجمہ: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی، اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔
اس آیتِ کریمہ کے نزول کے بعد کچھ حضرات نے ”إِثْمٌ كَبِيرٌ“ (بڑا گناہ) کی وجہ سے شراب چھوڑ دی اور کچھ لوگ اس فرمان ”وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ“ (لوگوں کے کچھ دنیوی نفع) کی وجہ سے پیتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک بار حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھانا تیار کر کے کچھ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو دعوت دی اور انہیں شراب بھی پیش کی۔ انہوں نے شراب پی تو ہوش میں نہ رہے، مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو ان میں سے ایک صحابی نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے اور انہوں نے ان آیاتِ مبارکہ ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ “ میں ”لَا أَعْبُدُ“ کے بجائے ”أَعْبُدُ“ پڑھا، یعنی اعبد سے پہلے حرف ”لَا“ کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ [سورۃ النساء: 43]
ترجمہ: اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو۔
اس آیتِ کریمہ کے نازل ہونے کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ اس میں شراب کی حرمت صرف نماز کے اوقات میں تھی، مگر صحابۂ کرام کے ایک گروہ نے مطلقاً شراب کو ترک کر دیا، جب کہ ایک گروہ نماز کے اوقات میں شراب نوشی سے محفوظ رہتا تو باقی اوقات میں کچھ شوق پورا کر لیتا۔
ایک مرتبہ حضرت سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کی دعوت کی اور کھانے کے لیے اونٹ کا سر بھونا۔ سب نے کھانا کھایا اور شراب بھی پی، ان پر نشہ طاری ہو گیا، باہم فخر و مباہات کرنے اور ایک دوسرے پر طعنہ زنی کرنے لگے۔ اسی دوران ایک قصیدہ پڑھا جس میں حضراتِ انصار کی ہجو تھی۔ اس کے ردِ عمل میں ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی لی اور ایک صحابی کے سر پر مار دی، وہ شدید زخمی ہو گئے اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں شکایت کی۔ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خدا کی بارگاہ میں عرض کیا: ”اے اللہ عزوجل! ہمیں شراب کے متعلق واضح حکم عطا فرما۔“ اس کے بعد یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ [سورۃ المائدہ: 90، 91]
ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے، تو کیا تم باز آئے۔
یہ حکم تین ہجری غزوۂ احزاب کے کچھ دن بعد نازل ہوا تو آپ ﷺ نے عرض کی: ”اے اللہ عزوجل! ہم اس سے رک گئے۔“ [معالم التنزیل للبغوی، البقرۃ تحت الآیۃ: 219، ج: 1، ص: 104]
(پیارے قارئین کرام! اس سے آگے مطالعہ کے لیے قسط دوم ملاحظہ فرمائیں)
