| عنوان: | جان و مال کا بیمہ اور ان کی شرعی حیثیت (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد نظام الدین رضوی |
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
(1) ڈائرکٹ، یا ظاہری ٹیکس
یہ ٹیکس آمدنی، یا دولت پر لگائے جاتے ہیں، ان ٹیکسوں کی شرح، یا در ٹیکس دہندہ کی ذاتی حالت وغیرہ کا لحاظ کر کے متعین کیا جاتا ہے، اس کے زمرے میں متعدد ٹیکس آتے ہیں جیسے:
-
(الف) آمدنی ٹیکس
-
(ب) دولت ٹیکس
-
(ج) ہبہ یا تحفہ ٹیکس
-
(د) ملکیت ٹیکس وغیرہ۔
(2) اِن ڈائرکٹ، یا باطنی ٹیکس
اشیاء کی بیع، کاروبار، اور درآمد و برآمد ٹیکس، آبکاری ٹیکس، فروخت ٹیکس وغیرہ۔ ہندوستان میں اس وقت “ظاہری ٹیکس قانون” خاص مرکزی ٹیکس قانون ہے۔ قانونِ انکم ٹیکس، قانونِ ملکیت ٹیکس، قانونِ ہبہ و تحفہ ٹیکس، اور قانونِ جائداد ٹیکس، ان سبھی قوانین کے تحت ٹیکس دینے کی کافی اہمیت ہے۔ اور مختلف قسم کی بچت میں حوصلہ دینے کے لیے ان ٹیکسوں کے متعلق قوانین میں خاص مراعات اور چھوٹ دینے کا اہتمام ہے۔ اس قسم کی بچت میں زندگی بیمہ پالیسی کے ذریعہ کی جانے والی بچت بھی شامل ہے۔
قانون کی دفعہ 5 (1) (6) کے مطابق کسی بھی بیمہ پالیسی (جس کی ادائیگی کا وقت نہ آیا ہو) سے حاصل شدہ رقم ٹیکس دہندہ کی اصلی دولت میں شامل نہیں کی جائے گی بشرطیکہ پالیسی کی قسط چکانے کی مدت دس سال، یا اس سے زیادہ ہو، اگر قسط دینے کی مدت دس سال سے کم ہے تو ٹیکس دہندہ کو اسی کے حساب سے پالیسی کی رقم کے لیے چھوٹ دی جائے گی، یہ چھوٹ، ٹیکس اور اس کی شرح دونوں ہی کے لیے ہے۔ [ایجنٹ کے ٹول، ص: 67 تا 70، ہندی سے ترجمہ]
واضح رہے کہ زندگی بیمہ کی وجہ سے مختلف اقسام کے ٹیکسوں میں چھوٹ، اور اس کے علاوہ دیگر فوائدِ مہمہ کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ نقصانات بھی جو زندگی بیمہ کی ایک بنیادی اور لازمی شرط کے وجود و عدم پر گردش کرتے ہیں وہ شرائط مجھے خاص زندگی بیمہ کے کئی ایجنٹوں کے ذریعہ معلوم ہوئی، اور وہ یہ ہے۔
زندگی بیمہ کی ایک لازمی مگر خطرناک شرط
بیمہ دار کے لیے تین سال کی تمام قسطیں حسبِ قرار داد بیمہ کمپنی میں جمع کرنی ضروری ہیں، اگر کسی وجہ سے کچھ قسطیں جمع ہونے سے رہ گئیں تو اسے نہ جمع ہونے کی پہلی میعاد سے مزید پانچ سال کی مہلت بیمہ دار کو دی جاتی ہے کہ وہ چاہے تو اس مدت میں کبھی بھی بقیہ قسطیں یک مشت مع سود جمع کر کے اپنی پالیسی جاری کر لے، لیکن اگر یہ توسیعی میعاد بھی گزر گئی اور بیمہ دار باقی ماندہ قسطیں جمع کرنے سے قاصر رہا تو اس کا کھاتا بند کر کے اس کی تمام جمع شدہ رقم ضبط کر لی جاتی ہے، یا بیمہ کمپنی کی اصطلاح میں وہ رقم “لیپس” (Lapse) یعنی سوخت ہو جاتی ہے جو خود بیمہ کمپنی کی ملک ہو جاتی ہے۔ ہاں اگر تین سال کی تمام قسطیں مدتِ مقررہ، یا موسّعہ میں جمع کر دی گئیں تو بیمہ کی مدت پوری ہو جانے پر اسے وہ تمام رقم مع بونس واپس مل جائے گی۔ البتہ ایک ایجنٹ نے یہ بھی بتایا کہ تینوں سال کی قسطیں ایک ساتھ بھی جمع کی جا سکتی ہیں، کمپنی اسے جمع کر کے رسید دے گی مگر اس پر کوئی بونس نہ ملے گا، اور رسید بھی کچی یعنی ٹکٹ لگی ہوئی نہ ہوگی، رسید کی بنیاد پر جمع شدہ زائد رقم کبھی کبھی واپس لی جا سکتی ہے۔
بیمہ شرعی نقطۂ نظر سے
“بیمۂ زندگی” اور “بیمۂ اموال” کا جو تعارف گزشتہ اوراق میں پیش کیا گیا ہے اس کے پیشِ نظر بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ معاملات دنیوی منافع کے ساتھ ساتھ غرر، جہالت، قمار، اور ربا جیسے مفاسد پر مشتمل ہیں، جو شرعی نقطۂ نظر سے جائز نہیں قرار دیے جا سکتے، لیکن ہمیں یہ نکتۂ لطیف یہاں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے یہ معاملات ایسی حکومت کے زیرِ انتظام کمپنیوں سے تعلق رکھتے ہیں جن پر بلا شبہ یہاں کے غیر مسلموں کا تغلب و تسلط ہے، بفرضِ دیگر حقیقت میں یہ حکومت عملی حیثیت سے انہی غیر مسلموں کی ہے اور کم از کم آج کے حالات میں تو کسی کو بھی اس حقیقت سے انکار نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہاں کے غیر مسلموں سے تمام عقودِ فاسدہ بشمول ربا و قمار جائز ہیں کیونکہ فقہ حنفی کی شرائط کے مطابق وہ عقود محض ظاہری شکل و شباہت کے لحاظ سے فاسد ہیں، یا ربا، اور قمار ہیں ورنہ حقیقت میں یہ کچھ بھی نہیں۔ اس کی کامل تحقیق فتاویٰ رضویہ جلد سابع، کتاب الربو میں ہے جو آپ سے مخفی نہیں۔ اس لیے آپ سے درج ذیل سوالوں کے جواب مطلوب ہیں۔
سوالات
-
بیمۂ اموال، اور بیمۂ زندگی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یعنی وہ قرض ہیں، یا امانت ہیں، یا کفالت و ضمانت، یا کچھ اور؟ نیز قرض کی تقدیر پر یہ “ربا” اور بہر حال “قمار” ہیں، یا نہیں؟
-
اگر یہ بیمے، ربا ہیں تو یہاں کی کمپنیوں سے (جو حکومت کی ہوں، یا خالص غیر مسلموں کی) ایسا عقد یا معاہدہ جائز ہے، یا نہیں؟ اور قمار ہونے کی صورت میں کسی ایسی شرط کے ساتھ جس کے ہوتے ہوئے نفع کا حصول مظنون بظنِ غالب ہو، ان بیموں کی اجازت دی جا سکتی ہے، یا نہیں؟ جواب اثبات میں ہو تو شرط کی بھی صراحت فرمائیں۔
-
کیا ان عقود کو ضمان خطر طریق، ضمان درک، یا حضرت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ شکوک کی جائز شکل سے ملحق کیا جا سکتا ہے، یا نہیں؟ (ضمان و سوکرہ کے مسائل منسلک جزئیات میں مصرح ہیں)
-
بیموں کے عدم جواز کی تقدیر پر انکم ٹیکس اور اس کے علاوہ دوسرے ٹیکسوں سے بچنے کے لیے بیمہ کی اجازت ہوگی، یا نہیں؟ جبکہ ٹیکسوں کے لزوم کی صورت میں جتنے مال کا استحصال متیقن یا مظنون بظنِ غالب ہے، اتنے یا اس سے کم مال کا ضیاع قمار کی تقدیر پر محض موہوم و متردد ہے؟
-
بعض صورتوں میں قانونی حیثیت سے بیمہ کرانا لازمی ہوتا ہے تو ان کے بارے میں حکمِ شرع کیا ہوگا؟
-
بہر حال ان عقود کے عدم جواز کی تقدیر پر: (الف) کیا یہ جائز ہوگا کہ ان کے ذریعہ حاصل ہونے والی اضافی رقم یا بونس کو فرقہ وارانہ فسادات میں ناحق ضائع ہونے والے جان و مال کا عوض قرار دے کر وصول کر لیں، اور اپنے مصرف میں خرچ کریں؟ (ب) یا بہر حال (خواہ عوض مانیں، یا نہ مانیں) اسے لینا اور اپنے دینی و دنیوی امور میں استعمال کرنا جائز ہوگا، کیونکہ وہ مال فی الواقع مالِ مباح ہے جو بلا عذر و فریب وصول ہو رہا ہے؟
اب آئندہ اوراق میں فقہ حنفی کے چند جزئیات بھی ملاحظہ فرما لیں ممکن ہے کہ ان سے مسائل کے حل میں کچھ مدد ملے۔
آپ کا خیر اندیش، محمد نظام الدین الرضوی، خادم دارالعلوم اشرفیہ مصباح العلوم مبارکپور۔
شب 20 رجب 1413ھ (ایک بجے شب)
