Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

جان و مال کا بیمہ اور ان کی شرعی حیثیت (قسط: سوم)

جان و مال کا بیمہ اور ان کی شرعی حیثیت (قسط: سوم)
عنوان: جان و مال کا بیمہ اور ان کی شرعی حیثیت (قسط: سوم)
تحریر: مفتی محمد نظام الدین رضوی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

بھارتیہ جیون بیما نگم کی کتاب “ایجنٹ کے ٹول” میں خاص طور پر “زندگی بیمہ” کے متعلق جو تفصیلات درج ہیں ان کے ضروری اقتباسات ہم یہاں نقل کرتے ہیں: (ہندی سے ترجمہ) [کامرس، ص: 75 تا 64، ترقی اردو بیورو]

زندگی بیمہ کمپنی

اس کمپنی کی بنیاد پارلیمنٹ کی ایک دفعہ کے ذریعہ رکھی گئی ہے جسے صدرِ جمہوریہ ہند نے 18 جون 1956ء کو اپنی منظوری دی، یہ دفعہ یکم جولائی 1956ء سے نافذ کی گئی، اور کمپنی نے یکم ستمبر 1956ء سے کام کرنا شروع کیا، اسی دن سے کمپنی کو “زندگی بیمہ” کے کاروبار میں اختیار حاصل ہوا ہے۔

اس کمپنی کے پندرہ (15) ممبر ہیں، اس کا صدر دفتر بمبئی میں ہے اور پانچ دفترِ ذیلی ہیں جو بمبئی، کلکتہ، دہلی، کانپور اور مدراس میں ہیں، اس وقت ملک بھر میں تینتالیس دفاتر ہیں اور اس کے ماتحت کام کرنے والے بہت سے دفاتر ہیں جن کی تعداد نو سو ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے باہر لندن، فجی اور ماریشس میں بھی تین برانچیں ہیں۔

بیمہ داروں کے ذریعہ پالیسی کی مد میں کمپنی کو دیا گیا روپیہ بونس کے ساتھ مکمل محفوظ رہتا ہے کیونکہ اس کی حفاظت کی گارنٹی حکومتِ ہند دیتی ہے۔ کمپنی کے لیے یہ ضروری ہے کہ کم سے کم دو سال میں ایک بار اپنی کاروباری اقتصادی حالت کی جانچ اور ذمہ داریوں کا تجزیہ بیمہ آفیسر کے ذریعہ کرائے اور ان کے ذریعہ تیار کی گئی رپورٹ حکومتِ ہند کو دے۔

اپنی جانچ پڑتال کے بعد روشنی میں آنے والی بچت رقم میں سے پچانوے (95٪) فیصد، یا حکومت کی منظوری کے مطابق اس سے بھی زیادہ رقم کمپنی کے بیمہ داروں میں یا تو بانٹ دی جائے گی یا ان کے لیے محفوظ کر دی جائے گی۔ بقیہ رقم میں سے “زندگی بیمہ قانون” کی دفعہ نمبر (9) کے اندر آنے والی کمپنی کے اختیار کے متعلق اخراجات کی مدوں کو پورا کرنے کے بعد جو رقم بچے گی وہ یا تو حکومت کو دیدی جائے گی، یا حکومت کے ذریعہ جاری کیے گئے منصوبے (اسکیم) کے لیے اسی کے ذریعہ بنائے گئے طریقہ سے استعمال میں لائی جائے گی۔ بیمہ داروں کے لیے مختص کی گئی رقم کا بٹوارہ ان کے درمیان کیسے کیا جائے، اس بات کا فیصلہ تجزیہ کرنے والے حکام یا آفیسروں کے ذریعہ کیا جائے گا۔

زندگی بیمہ کیا ہے؟

زندگی بیمہ ایک اقرار یا معاہدہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خاص حادثہ کے ہونے پر بیمہ دار کو یا اس کے وارث کو کوئی طے شدہ رقم دیدی جائے گی۔ جیسے ایک خاندان میں ایک آدمی کام کرتا ہے، اچانک حادثہ ہو جانے پر پریشانی ہو جاتی ہے، زندگی بیمہ اس پریشانی کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔

پالیسی کی ساکھ اور اس پر قرض دینے کی آسانی

کچھ وقت تک پالیسی چلانے کے بعد اگر بیمہ دار اسے آئندہ نہ جاری رکھ سکے تو وہ اس کی نقد قیمت فوراً حاصل کر سکتا ہے، اس کے علاوہ وہ اپنی پالیسی کی ضمانت پر فوراً قرض لے کر تھوڑے وقت کی اقتصادی دشواری کو ختم کر سکتا ہے، بازار میں کاروبار کے واسطے قرض کے لیے بھی زندگی بیمہ پالیسی کو کبھی کبھی ضمانت کی شکل میں منظور کر لیا جاتا ہے۔

انکم ٹیکس سے چھوٹ

انکم ٹیکس قانون کے تحت زندگی بیمہ کے لیے دی گئی قسط پر انکم ٹیکس میں خاصی دلچسپ چھوٹ دینے کا انتظام ہے۔ انکم ٹیکس کی اس چھوٹ پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوگا کہ بیمہ دار سے ہر قسط کچھ کم رقم کی لی جا رہی ہے۔

جائداد فیس، یا ملکیت ٹیکس

ملکیت ٹیکس چکانے کے لیے زندگی بیمہ سب سے اچھا ذریعہ ہے۔ “زندگی بیمہ” کرالینے کے بعد نقد روپیہ کی کمی نہیں، ملکیت ٹیکس، یا جائداد فیس ادا کرنے کے لیے کم داموں پر جائداد کو بیچنے کی حاجت نہیں پیش آتی، کیونکہ جیسے ہی کسی مالدار آدمی کی موت ہوئی اور جائداد فیس یا ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت ہوئی ویسے ہی بیمہ پالیسی کا روپیہ حاصل ہو جاتا ہے۔

بیمہ کا اقرار کیا ہے؟

بیمہ کا اقرار سچے اعتماد کی بنیاد پر ہے، کہ تمام متعلقہ امور کو صحیح صحیح بتا دیا جائے، یہ قانون ہر قسم کے بیمہ کی بنیاد ہے۔ بیمہ کے سبھی قرارناموں میں یہ ذمہ داری بیمہ دار کی ہے کہ وہ نہ صرف وہ باتیں جو اس کی فہم کے مطابق اہمیت کی ہوں، بلکہ تجویز کے متعلق ساری ہی باتیں کمپنی کے سامنے بیان کر دے، کسی بھی دستاویز میں غلط بیانی، راز چھپا کر، یا دھوکہ بازی کر کے اگر کمپنی سے تجویز کی منظوری لے لی گئی تو ایسے قرار نامے سے پیدا شدہ دعوے خود بخود مسترد ہو جائیں گے، اور کمپنی اس کے لیے ذمہ دار نہیں ہوگی۔

یہ ٹھیک ہے کہ بیمہ قانون 1938ء کی دفعہ 45 کے تحت بیمہ کرانے کی تاریخ سے دو سال گزر جانے کے بعد پالیسی کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا، اور اس بات کی بنیاد پر اس کے دعوے کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ “تجویز فارم” اور دوسرے فارموں میں غلط بیانی کی گئی ہے لیکن اگر کمپنی یہ بات ثابت کر سکے کہ غلط بیانی یا معاملہ کا چھپانا ضروری باتوں سے تعلق رکھتا ہے اور بیمہ کرتے وقت جان بوجھ کر، اور دھوکہ دینے کے ارادے سے یہ کام کیا گیا تو یہ شرط کی یہ دفعہ نافذ نہیں ہوگی اور دعویٰ دو سال پورا ہونے کے بعد بھی مسترد ہو جائے گا۔

بیمہ کا مقصد

  1. خاندان کے لیے اقتصادی حفاظت کا انتظام۔

  2. بڑھاپے کے لیے رقم کا انتظام۔

  3. مالیت کا ٹیکس دینے کے لیے روپے کا انتظام۔ کسی خاص بیمے کی تجویز میں بیمہ کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے۔

  4. (الف) تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے لیے گئے قرض کے لیے ضمانت کا کام کرنا۔ (ب) سماج کی فلاح و بہبود کے ادارے جیسے اسپتال، اسکول وغیرہ کے لیے رقم کا انتظام۔

  5. اگر بیمہ کا مقصد یہ ہو کہ اس کی بنیاد پر کاروبار کے لیے قرض لیا جا سکے تو ایسی تجویز کی منظوری یا نامنظوری بیمہ دار کے کردار و مالی حالت پر منحصر ہے، کسی بیمہ دار کی تجویز منظور ہو سکتی ہے، اور دوسرے کی نہیں۔ اس طرح کی تجویز پیش کرنے والوں کی طرف سے کمپنی کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس کے پاس بیمہ کی قسط، قرض کی قسط اور اس پر عائد ہونے والے سود کی قسط ادا کرنے کے لیے کافی مالی و اقتصادی ذرائع ہیں، اس کے علاوہ کمپنی کے پاس بخود تجویز پیش کرنے والے کو یہ خبر بھی بھیجنی ہوگی کہ کتنی رقم کا قرض لیا گیا ہے اور کتنی رقم لینے کی خواہش ہے، قرض لینے والی پارٹی کیا بیمہ کی قسط خود دے گی، یا کیا قرض کی ضمانت صرف بیمہ پالیسی ہے؟

  6. انکم ٹیکس کی چھوٹ کے متعلق بھی بیمہ پالیسیاں لی جاتی ہیں، اگر بیمہ صرف انکم ٹیکس کی چھوٹ کے لیے لیا جائے تو یہ چھوٹ خالص بندوبستی بیمہ پالیسی، یا لمبے عرصے کے لیے ادا شدہ قسط پر بھی ملتی ہے جس میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ [ایجنٹ کے ٹول، ص: 3 تا 9، تلخیص]

ٹیکس قانون اور زندگی بیمہ

ٹیکس کو کئی قسطوں میں بانٹا جا سکتا ہے، سب سے زیادہ مشہور دو قسمیں ہیں۔ ڈائرکٹ، یا ظاہری ٹیکس اور ان ڈائرکٹ یا باطن ٹیکس۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!