| عنوان: | غذائی اشیا میں مضرِ صحت دواؤں اور کیمیکل کا استعمال |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد عرفان عالم مصباحی |
| پیش کش: | محمد کوثر العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
بسم الله الرحمن الرحيم
نحمده ونصلي على رسوله الكريم
مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے ۲۳ ویں فقہی سیمینار کے لیے جن چار موضوعات کا انتخاب ہوا تھا ان میں ایک موضوع ہے ”غذائی اشیا میں مضر صحت دواؤں اور کیمیکل کا استعمال“۔
سوال نامہ رفیقِ گرامی حضرت مولانا محمد ناصر حسین مصباحی، استاذِ جامعہ اشرفیہ نے ترتیب دیا، جس میں انہوں نے نہایت معلومات افزا تفصیل کے بعد چھ اہم سوالات قائم کیے جسے ملک و بیرونِ ملک تحقیق و افتا کا کام انجام دینے والے علماے کرام اور مفتیانِ عظام کی بارگاہ میں پیش کیا گیا۔ جواب میں مجلسِ شرعی کو وقیع اور گراں قدر مقالات موصول ہوئے۔
پہلا سوال اور اس کے جوابات
سوال: فارموں میں مرغیوں کو محدود و محصور رکھ کر دواؤں کے ذریعے غیر فطری طریقے سے ان کا حجم بڑھا کر بیچنا شرعاً کیسا ہے؟
اس سوال کے جواب میں علماے کرام کی تین رائیں سامنے آئیں:
- پہلی رائے: اس طور پر ان کا حجم بڑھانا جائز ہے۔ یہ رائے پانچ علماے کرام کی ہے۔ ان میں دو حضرات نے اصلاً ناجائز کہا پھر عمومِ بلویٰ اور حرج و مشقت کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے۔ چناں چہ مولانا عابد رضا مصباحی لکھتے ہیں: ”فارموں میں مرغیوں کو محصور و مقید رکھ کر دواؤں کے ذریعہ بہت کم وقت میں تیار کرنا ناجائز ہے مگر دورِ حاضر میں اس سے بچنا لگ بھگ ناممکن ہے۔ اگر ان سے بچنے کا حکم ہو تو لوگ مشقت میں مبتلا ہو جائیں گے؛ اس لیے عمومِ بلویٰ کی وجہ سے اس کی اجازت ہوگی۔“ مولانا محمد سلیمان مصباحی، سلطان پور، پونہ رقمطراز ہیں: ”ایسی غذاؤں کا استعمال جس میں مضرِّ صحت کیمیکل کی آمیزش ہو شرعاً ناجائز ہے، لیکن عصرِ حاضر میں تقریباً تمام غذائی اجناس میں پیداوار بڑھانے کے لیے ضرر رساں کیمیکل کا استعمال عام ہو چکا ہے اور ان سے اجتناب نہایت دشوار ہے، اس لیے اب ان کے جواز کا حکم ہونا چاہیے۔“ مولانا رضا الحق اشرفی دواؤں کے ذریعہ حجم بڑھانے کو غیر فطری نہ مانتے ہوئے لکھتے ہیں: ”فارمی مرغیوں کو ان کی مخصوص خوراک دینا اور لیور اور قوتِ ہضم وغیرہ کے لیے دوا دینا تاکہ مطلوبہ وزن اور حجم حاصل ہو یہ غیر فطری طریقہ نہیں، لہٰذا فارمی مرغیوں کو ان کی نشو و نما کے لیے ان کی مخصوص غذا اور دوا دینا ناجائز و حرام نہیں۔“ مولانا قاضی فضلِ رسول مصباحی، مہرانچ کا اندازِ بیان بھی اسی نظریے کی عکاسی کر رہا ہے، جب کہ مولانا عبد الرحیم اکبری نے دوا یا غذا کے ذریعہ غیر فطری طور پر حجم بڑا کرنے میں کوئی شرعی قباحت نہ مانتے ہوئے غلاظت وغیرہ کھانے والے جانوروں کے گوشت کا حکم بیان کیا اور اسی تعلق سے جزئیات پیش کیے ہیں۔
- دوسری رائے: یہ ہے کہ ایسا کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ یہ چار علماے کرام کی رائے ہے۔ ان حضرات نے انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہونے کی وجہ سے عدمِ جواز کا قول کیا ہے۔
- تیسری رائے: اس رائے کے حاملین چار علماے کرام نے جواز یا عدمِ جواز کے لیے الگ الگ شرائط رکھی ہیں: مولانا رفیق عالم رضوی، بریلی شریف لکھتے ہیں: ”فارموں میں مرغیوں کو اس طرح رکھنا کہ ان کے دانہ پانی کا خیال رکھے اور انھیں تکلیف و اذیت سے بچائے تو جائز ہے، ورنہ ناجائز ہے۔“ مولانا شبیر احمد مصباحی، مہرانچ فرماتے ہیں: ”میری ناقص سمجھ میں فارموں میں مرغیوں کو محدود و محصور رکھ کر پاک غذا یا دوا سے ان کا حجم بڑھانا شرعاً جائز ہونا چاہیے۔“ مولانا معین الدین اشرفی مصباحی، فیض آباد اور مولانا ممتاز عالم مصباحی، گھوسی نے دوا یا غذا کے لیے پاکی کے ساتھ مضر نہ ہونے کی بھی قید لگائی ہے۔
دوسرا سوال اور اس کے جوابات
سوال: ماکول اللحم مرغیوں کو ناپاک اشیا کھلانے کا کیا حکم ہے؟
اس سوال کے جواب میں دو طرح کے نظریات سامنے آئے:
- پہلا نظریہ: مرغیوں کو ناپاک اشیا کھلانا جائز ہے۔ اس نظریہ کے حاملین چار علماے کرام میں سے ایک مولانا شہاب الدین اشرفی، کچھوچھہ شریف لکھتے ہیں: ”جب تیار کردہ خوراک مرغیوں کے لیے منفعت بخش ہے تو اس کے حرام و ناپاک ہونے کے سبب مرغیوں کے کھلانے کے عدم جواز کا قول نہیں کیا جاسکتا۔“ اور مولانا قاضی فضل رسول مصباحی، مہرانچ لکھتے ہیں: ”مرغیوں کی خوراک کا پاک ہونا کوئی ضروری امر نہیں، نہ وہ کھانے پینے میں انسانوں کی طرح مکلف ہیں، نیز کھانے پینے کی چیزوں میں پاکی اور ناپاکی ہر صنفِ مخلوق کی الگ الگ ہے۔ لہذا ان ناپاک اشیا کا مرغیوں کو کھلانا شرعاً ممنوع نہ ہوگا۔“
- دوسرا نظریہ: مرغیوں کو ناپاک اشیا کھلانا جائز نہیں۔ یہ نظریہ بقیہ نو مقالہ نگار علماے کرام کا ہے۔ ان حضرات نے عدم جواز پر درج ذیل جزئیات سے استدلال کیا ہے:
بہارِ شریعت حصہ ہفدہم، اشربہ کے بیان میں ہے: ”اس (شراب) سے کسی قسم کا انتفاع جائز نہیں نہ دوا کے طور پر استعمال کر سکتا ہے نہ جانور کو پلا سکتا ہے۔“
فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ”إذا تنجس الخبز والطعام لا يجوز أن يطعم الصغير أو المعتوه أو الحيوان المأكول اللحم۔ (ج:۵، ص:۳۴۴)“
البحر الرائق میں ہے: ”وسئل عن سن الآدمي إذا طحن في الحنطة فالمنصوص عليه أن لا يؤكل وهل تدفن الحنطة، أو تأكلها البهائم قال: لا تأكلها البهائم وسئل عن الفأرة تأكل الحنطة هل يجوز أكلها قال: نعم لأجل الضرورة۔ (ج:۸، ص:۲۱۰، فصل في الأكل والشرب)“
تیسرا سوال اور اس کے جوابات
سوال: اناج، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے مضر صحت کیمیکل یا دوا کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
اس سوال کے جواب میں مفتیانِ کرام کی دو رائیں سامنے آئیں:
- پہلی رائے: مضر صحت دوا یا کیمیکل کا استعمال جائز ہے۔ یہ رائے دو حضرات کی ہے۔ مولانا سلیمان مصباحی، سلطان پور لکھتے ہیں: ”موجودہ حالات کے پیش نظر ایسی دوا یا کیمیکل کا استعمال جائز ہونا چاہیے۔“ جب کہ مولانا شبیر احمد مصباحی، مہرانچ لکھتے ہیں: ”مضر صحت چیز کو چھوڑنے کے لیے صحیح اندیشہ اور گمان غالب کی شرط ہے اور اناج وغیرہ میں استعمال ہونے والی دوائیں اگرچہ مضر صحت ہیں مگر غالب گمان کے درجے میں نہیں ہیں، کیوں کہ انسان کا ہر فرد مذکورہ اناج وغیرہ استعمال کرتا ہے، مگر ان میں سے اکثر میں ان کا ضرر دکھائی نہیں دیتا، لہذا ان اناج وغیرہ کو استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔“
- دوسری رائے: ان دو حضرات کے علاوہ بقیہ گیارہ حضرات ایسی دوا یا کیمیکل کے استعمال کو ناجائز بتاتے ہیں۔ ان حضرات کی دلیل ایسی دوا یا کیمیکل کا مضر صحت ہونا ہے۔
چوتھا سوال اور اس کے جوابات
سوال: مضر صحت سنتھیٹک یا پیٹرو کیمیکل کلر (رنگ) کے ذریعے سبزیوں اور پھلوں کو پرکشش اور ہراتازہ بنا کر بیچنا کیسا ہے؟
اس سوال کے جواب میں تمام مقالہ نگار متفقہ طور پر عدم جواز کا قول کرتے ہیں کہ اس میں دھوکا اور ضرر ہے جس کی اجازت شریعت نہیں دیتی۔
پانچواں سوال اور اس کے جوابات
سوال: نقصان دہ کیمیکل کا استعمال کر کے جانوروں سے دودھ حاصل کرنے کا شرعی کیا حکم ہے؟
اس سوال کے جواب میں بھی تمام مندوبین بہ یک زبان عدم جواز کا قول کرتے ہیں کہ ایسا دودھ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، ساتھ ہی جانور کی صحت کے لیے بھی ضرر رساں ہے۔
چھٹا سوال اور اس کے جوابات
سوال: اس طرح تیار شدہ چیزیں کھانے کا کیا حکم ہے؟
اس سوال کے جواب میں مندوبین کرام نے کئی رائیں قائم کیں جو تال کے اعتبار سے دو میں سمٹ آئی ہیں:
- پہلی رائے: ایسی چیزیں کھانا جائز ہے (یا مکروہ/مشروط ہے)۔ یہ رائے ۹؍حضرات کی ہے:
مولانا قاضی فضل رسول مصباحی، مہرانچ فرماتے ہیں: ”جب تک کسی چیز میں مضر صحت کیمیکل وغیرہ کا ملنا یقینی طور پر معلوم نہ ہو تو استعمال جائز ہے پھر بھی تحری سے کام لے...“
مولانا رفیق عالم رضوی، بریلی شریف لکھتے ہیں: ”جن کے کھانے سے ضرر و نقصان کا ظن غالب ہو اس کا کھانا جائز نہیں۔“
مولانا قاضی فضلِ رسول، مہراج گنج لکھتے ہیں: ”اس طرح تیار شدہ کھانے سے مہلک مرض ہونے کا ظن غالب ہو تو کھانا حرام ہو گا اور ظن غالب نہ ہو تو بھی کراہت سے خالی نہیں۔“
مولانا رضاء الحق اشرفی مصباحی لکھتے ہیں: ”مضرِ کیمیکل والے سامان جن کے بارے میں یقین سے معلوم ہو کہ ان میں مضر اشیا کی آمیزش ہے ان کا کھانا جائز نہیں...“
مولانا منظور احمد خاں عزیزی لکھتے ہیں: ”جس چیز سے ضررِ عظیم پہنچنے کا خدشہ ہو... ان کا استعمال مکروہ ہو گا۔“
مولانا معین الدین اشرفی مصباحی رقم طراز ہیں: ”...اگر وہ نقصان دہ مضرِ صحت ہے تو ان کا کھانا ناجائز ہے۔“
مولانا آلِ مصطفیٰ مصباحی لکھتے ہیں: ”اگر ان میں زہریلے مادے کا موجود ہونا بطریقِ شرعی ثابت ہو تو ان کا استعمال حسبِ مقدار و مضرت مکروہ سے حرام تک ہو گا۔۔۔“
مفتی عبد الرحیم اکبری فرماتے ہیں: ”ایسے خطرناک کیمیکلز یا دیگر ادویات سے تیار شدہ اشیا میں ظنِ غالب ہو تو اس کا کھانا شرعاً جائز نہیں ہے، اگر محض گمان ہو تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔“
مولانا ممتاز عالم مصباحی کی رائے یہ ہے: ”اگر ان چیزوں کے کھانے سے موذی مرض یا جان کو خطرہ لاحق ہو تو ان چیزوں کو کھانا جائز نہیں ہے...“ - دوسری رائے: ایسی چیزیں کھانا جائز ہے۔ یہ موقف بقیہ چار علمائے کرام کا ہے:
مولانا عابد رضا مصباحی فرماتے ہیں: ”کیمیکلز یا دواؤں کے ذریعہ حاصل شدہ غذاؤں کا استعمال جائز ہے... عمومِ بلویٰ کی وجہ سے اس کی اجازت ہو گی۔“
مولانا محمد سلیمان مصباحی لکھتے ہیں: ”ایسی چیزوں کے کھانے کا جواز شرعاً ہونا چاہیے، البته اگر آدمی اس سے اجتناب کر سکے تو بچنا اولیٰ وانسب ہے۔“
مولانا شہاب الدین اشرفی لکھتے ہیں: ”...بیماری لاحق ہونے کا غالب گمان نہیں ہے۔ پس ان کے استعمال کو حرام قرار نہیں دیا جائے گا۔“
مولانا شبیر احمد مصباحی لکھتے ہیں کہ: ”بچنے کی بہتری کے ساتھ یہاں بھی استعمال کی اجازت ہونی چاہیے۔“
تنقیح طلب امور
- مرغیوں کو محدود و محصور رکھ کر دواؤں کے ذریعہ غیر فطری طریقے سے ان کا حجم بڑا کرنا مطلقاً جائز ہے یا نا جائز یا اس کے جواز کے لیے کچھ قیدیں ہیں؟
- مرغیوں کو ناپاک اشیا کھلانے کا کیا حکم ہے؟
- اناج، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے مضرِ صحت کیمیکل یا دوا کے استعمال کا کیا حکم ہے؟
- اس طرح تیار شدہ چیزیں کھانے کا کیا حکم ہے؟
