Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام میں عورتوں کے حقوق و مسائل (قسط: اول)

اسلام میں عورتوں کے حقوق و مسائل (قسط: اول)
عنوان: اسلام میں عورتوں کے حقوق و مسائل (قسط: اول)
تحریر: محمد ابرار مصباحی
پیش کش: فاطمہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے عورت کی تمام ضروریات کا کفیل مرد کو بنایا ہے اور عورت کو اس ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ مزید یہ کہ عورت کے لیے روزگار اور معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی گئی جبکہ وہ حدودِ شرع کا پاس و لحاظ رکھے، عورت پیسہ کما سکتی ہے لیکن اس صورت میں بھی کفالت کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہی ہوگی اور وہ اپنی کمائی خصوصی حق کے طور پر محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اگر وہ گھریلو ضروریات کے لیے خرچ کرنا چاہے تو اس کا یہ عمل احسان ہوگا، کیونکہ یہ اس کے فرائض میں شامل نہیں ہے۔

تاریخِ انسانی کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جو عورت عالمِ گیتی پر جانوروں بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ بے وقعت و مظلوم تھی، اسلام نے اسے ذلت و پستی کے تحت الثریٰ سے اٹھا کر عظمت و بلندی کے بامِ ثریا پر رونق افروز کر دیا، اور اسے ایسے ایسے حقوق عطا کیے جن کا تصور بھی بعثتِ نبوی سے قبل معدوم تھا۔ اگر عقل و خرد کو تعصب سے صاف کر کے دل و دماغ سے اسلامی تعلیمات کا منصفانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات آفتابِ نیم روز کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ عورت چونکہ تمدنِ انسانی کا محور و مرکز ہے، گلشنِ ارضی کی زینت ہے، اس لیے اسلام نے باوقار طریقے سے اسے ان تمام معاشرتی حقوق سے نوازا جن کی وہ مستحق تھی۔ چنانچہ اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ قرار دیا، دیگر اقوام کے برعکس اسے ذاتی جائیداد و مال رکھنے کا حق عطا کیا، اور اسے بیوی، بیٹی، بہن اور ماں کی شکل میں وراثت کا حصہ دار بنایا، اس کے تمام جائز قانونی حقوق کی نشان دہی کر کے اسے معاشرے کی قابلِ احترام ہستی قرار دیا۔ اسلامی تعلیمات میں بچی کی ولادت باعثِ رحمت ہے، اس کی تربیت کا ایک خاص نظام اور نصاب ہے جو آنے والے وقت میں عفت و عصمت کے ساتھ نکاح جیسی تقریب کے حوالے سے اس پر ایک دوسرے خاندان کی تشکیل کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ ماں کی حیثیت سے وہ ایک صحت مند اور حیا دار نسل کو اسلامی معاشرے کے سپرد کرتی ہے۔

اسلام نے عورت کو ایسا مقام و مرتبہ دیا ہے اور اس کے لیے حقوق و رعایات کا ایسا سامان فراہم کیا ہے جس کی مثال تاریخ کے اوراق بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بالخصوص وراثت کے احکام میں تو مردوں کے حصے کا تعین کرنے کے لیے عورت کے حصے کو بنیاد بنایا گیا۔ مرد کو اس کی کفالت کا ذمہ دار بنا کر کسبِ معاش کی مشقت سے اسے محفوظ رکھا۔ اگر وہ بیٹی ہے تو والدین اس کی نگہداشت کریں گے، اگر بیوی ہے تو اس کی کفالت شوہر کے ذمہ ہوگی، اگر ماں ہے تو اولاد اس کے لیے سامانِ راحت فراہم کرے گی اور اگر بہن ہے تو بھائی اس کے معاون و مددگار ہوں گے۔ یوں عورت زندگی کے کسی گوشے میں اور عمر کے کسی حصے میں معاشی یا معاشرتی پریشانی کا شکار نہیں ہوتی۔ اگر حقیقی اسلام کو سمجھا جائے اور شریعت کے ضوابط کو پیشِ نظر رکھا جائے تو معاشرتی زندگی میں اسلام نے جو حقوق عورت کو عطا کیے ہیں اور اسے جو تحفظ فراہم کیا ہے وہ کسی دوسری تہذیب میں ممکن نہیں۔ مرد کے حقِ طلاق کے ساتھ عورت کو خلع کا حق عطا کرنا عدل کی بہترین صورت ہے۔ شادی کے موقع پر عورت کے مہر کی ادائیگی حسنِ سلوک کا بہترین عمل ہے۔ شادی پر ولیمے کی تقریب کا انعقاد اس کے استقبال کا بہترین ذریعہ ہے۔ پھر قرآنِ مجید نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دے کر ان کی ازدواجی زندگی کا تعین کر دیا ہے۔

هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ [سورۃ البقرہ: 187]

ترجمہ: وہ تمھاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔

عورت قبلِ بعثت

بعثتِ نبوی سے قبل عورت سماجی عزت و احترام سے بالکل محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابلِ نفرت تصور کیا جاتا تھا۔ بیٹی کی ولادت کو باعثِ ننگ و عار سمجھا جاتا تھا۔ عورتوں کے تعلق سے اہلِ عرب کے اس بدترین رویے کو بیان کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِالْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ [سورۃ النحل: 58]

ترجمہ: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے۔

بچیاں پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دی جاتی تھیں، ان کی کفالت و پرورش باعثِ عار سمجھی جاتی تھی۔ حالانکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ طبقۂ نسواں کے بغیر بنی نوع انسان کی بقا ہی نہیں ہے۔ مگر انہیں اس بات کی بالکل پرواہ نہیں تھی۔ اس جرمِ عظیم کا ارتکاب کرتے وقت نہ تو انہیں شرم دامن گیر ہوتی اور نہ انہیں ترس آتا۔ بلکہ یہ کام وہ فخریہ انداز میں کیا کرتے تھے۔ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسمِ قبیح کا تذکرہ قرآنِ کریم میں اس طرح ہے:

وَإِذَا الْمَوْءُۥدَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ [سورۃ التکویر: 8]

ترجمہ: اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے کہ کس خطا پر ماری گئی۔

قرآنِ کریم کی ان آیات سے واضح ہے کہ بعثتِ نبوی سے قبل عورت کا وجود ناپسندیدہ تھا۔ ہر قسم کی بڑائی اور فضیلت صرف مردوں کے لیے سمجھی جاتی تھی، عورتوں کا اس میں کوئی حصہ نہ تھا حتیٰ کہ عام معاملاتِ زندگی میں بھی اچھی چیزیں مرد خود استعمال کرتے اور معمولی چیزیں عورتوں کو دیتے۔ اہلِ عرب کے اس طرزِ عمل کو قرآنِ کریم میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ [سورۃ الانعام: 139]

ترجمہ: اور بولے جو ان مویشی کے پیٹ میں ہے وہ نرا ہمارے مردوں کا ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر مرا ہوا نکلے تو وہ سب اس میں شریک ہیں قریب ہے کہ اللہ انہیں ان کی باتوں کا بدلہ دے گا بے شک وہ علم و حکمت والا ہے۔

قبلِ بعثت عورت کی حقِ ملکیت سے محرومی

زمانۂ جاہلیت میں عورتوں کو کسی چیز کے مالک بننے کا حق حاصل نہیں تھا، نہ انہیں وراثت ملتی تھی، صرف مردوں کو وارث بننے کا حق حاصل تھا۔ اس پر ان کی دلیل یہ تھی کہ وہ ہتھیار اٹھاتے ہیں اور قبیلوں کا دفاع کرتے ہیں۔ اس معاشرے میں عورت کو محض میراث سے محروم کرنے پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ وہ عورت کو بھی وراثت میں سامان کی طرح بانٹ دیا کرتے تھے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جب آدمی مر جاتا تو اس کے ورثاء اس کی بیوی کے حق دار ہوتے، اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا یا جس سے چاہتے اس سے اس کی شادی کرا دیتے اور اگر نہیں چاہتے تو نہ کراتے اس طرح عورت کے سسرالی اس کے میکے والوں سے زیادہ اس پر حق رکھتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن، باب لا یحل لکم]

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا ؕ وَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا [سورۃ النساء: 19]

ترجمہ: اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی، اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیائی کا کام کریں اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے۔

یہودیوں کے یہاں بیوہ عورت کا مالک اس کے دیور کو قرار دیا جاتا تھا، وہ جس طرح چاہتا اس کے ساتھ معاملہ کرتا۔ عورت کسی معاملہ میں مداخلت کا حق نہ رکھتی تھی۔ عیسوی مذہب میں اگرچہ یہ قانون نہ تھا، لیکن اس کے علاوہ بیوہ کے تحفظ کے لیے بھی کوئی قانون موجود نہ تھا۔

ہندوستان کی تاریخ بھی عورتوں کے تعلق سے ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہے۔ وہ ہندوستان جہاں زمانہ قدیم سے ایک طرف تو عورت کی پوجا ہوتی چلی آ رہی ہے تو دوسری طرف یہ کڑوی حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ یہاں ستی جیسی قبیح رسم رائج تھی۔ شوہر کی موت کے بعد عورت کو اس کی چتا کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا، یا اگر کسی طرح بچ بھی جاتی تو ساری زندگی سوگ میں بسر کرتی، نہ خوشی کی محفل میں اس کو شریک ہونے کی اجازت تھی اور نہ ہی کسی تہوار وغیرہ پر خوشی منانے کا حق رکھتی تھی۔ حتیٰ کہ اسے دوسری شادی کرنے کی بھی اجازت نہ تھی، جس کے نتیجہ میں وہ گھٹ گھٹ کر اپنی زندگی کے باقی ماندہ ایام بسر کرنے پر مجبور تھی۔

ان احوال کو سامنے رکھ کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آج سے چودہ صدی پیشتر اسلام نے جو مقام و مرتبہ عورتوں کو دیا اس کا عشرِ عشیر بھی دنیا کے کسی حصہ میں انہیں میسر نہ تھا۔

اسلام میں عورت کی حیثیت

اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔ اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کر دیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں، اور اسے ایسے ایسے حقوق عطا کیے جن کی بنا پر وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق کے معاملہ میں عورت کو مرد کے ساتھ ایک ہی درجہ میں رکھا، اس طرح انسانیت کی تکوین میں عورت مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَآءً [سورۃ النساء: 1]

ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک استحقاقِ اجر کے معاملہ میں دونوں برابر ہیں۔ مرد و عورت میں سے جو بھی کوئی عمل کرے اسے پورا اور برابر اجر ملے گا۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّىْ لَاۤ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى بَعْضُكُمْ مِّنْ بَعْضٍ [سورۃ آل عمران: 195]

ترجمہ: تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتا مرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو۔

اسلام نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے سے نجات بخشی۔ یہ وہ رسمِ قبیح تھی جو احترامِ انسانیت کے منافی تو تھی ہی مزید یہ کہ یہ انسانی وجود کے خاتمہ کا سبب تھی۔ اسلام نے بچیوں کی پرورش کو کارِ ثواب قرار دے کر طبقۂ نسواں کا تحفظ فرمایا اور نسلِ انسانی کو بقا بخشی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!