انسانی زندگی جینے کا اصل طریقہ اور انسانیت کا پیغام

انسانی زندگی جینے کا اصل طریقہ اور انسانیت کا پیغام
عنوان: انسانی زندگی جینے کا اصل طریقہ اور انسانیت کا پیغام
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ایک عام جاندار اور انسان میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، لیکن انسان کہلانے اور حقیقی معنوں میں انسانیت کے مرتبے پر فائز ہونے کے لیے پانچ بنیادی اصولوں اور جذبوں کا ہونا لازمی ہے۔ اگر یہ پانچ چیزیں کسی شخص کے اندر موجود ہوں تو سمجھیں کہ اس کی زندگی مکمل ہے، اور اگر ان میں سے ایک بھی چیز نہ ہو تو زندگی ادھوری، بے مقصد اور بے رنگ ہو جاتی ہے۔

آئیے ان پانچ ستونوں پر غور وفکر کرتے ہیں:

  • ۱۔ علم کا ہونا (رہنمائی کا چراغ): علم صرف ڈگریوں یا کتابی باتوں کا نام نہیں، بلکہ علم وہ روشنی ہے جو انسان کو صحیح اور غلط، اچھے اور برے کی پہچان سکھاتی ہے۔ میرے بھائیو! علم اس لیے ضروری ہے کیونکہ علم کے بغیر انسان اندھیرے میں بھٹکنے والے مسافر کی طرح ہے۔ اگر ہمیں کسی چیز کا علم ہی نہیں ہوگا، تو ہم اس کی حقیقت کو کیسے پہچانیں گے؟ کائنات کو سمجھنے، خدا کو جاننے اور خود اپنی ذات کو پہچاننے کے لیے علم پہلا زینہ ہے۔
  • ۲۔ ادب کا ہونا (انسانیت کی زینت): کہتے ہیں کہ "باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب"۔ ادب وہ صفت ہے جو انسان کو معاشرے میں دوسرے انسانوں کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ اگر انسان کے پاس علم ہو لیکن ادب نہ ہو، تو وہ علم کسی کام کا نہیں۔ ادب نہ ہو تو انسان اخلاقی طور پر ایک جانور کی طرح ہو جاتا ہے جس طرح جانور کو تمیز نہیں ہوتی کہ اسے کہاں بیٹھنا ہے، کہاں بولنا ہے، کس سے کیسا برتاؤ کرنا ہے، وہ جہاں چاہتا ہے گندگی پھیلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے کاٹ لیتا ہے۔ ادب ہی انسان کو تہذیب یافتہ بناتا ہے۔
  • ۳۔ عمل کا ہونا (علم کا نچوڑ): صرف جان لینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ جو جانا ہے اس پر عمل کرنا اصل کامیابی ہے۔ عمل انسان کو برائیوں کی دلدل سے نکال کر اچھائی کے راستے پر مضبوطی سے جم جانے میں مدد کرتا ہے۔ اگر ہمارے پاس بہت علم ہو لیکن ہم اس پر عمل نہ کریں، تو وہ علم ایک بے پھل دار درخت کی طرح ہے جس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
  • ۴۔ رحم کا ہونا (دل کی نرمی): رحم دلی وہ جذبہ ہے جو انسان کو حیوانیت اور درندگی سے بچاتا ہے۔ اگر انسان کے دل سے رحم اور مروت ختم ہو جائے، تو وہ سفاک بن جاتا ہے۔ ذرا سوچیے، اگر دل میں رحم نہ ہو تو انسان غصے اور لالچ میں آ کر اپنے سگے ماں باپ تک کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا ان کا قتل بھی کر سکتا ہے۔ رحم ہی انسان کو ایک دوسرے کا ہمدرد بناتا ہے۔
  • ۵۔ احساس کا ہونا (ضمیر کی آواز): احساس انسان کے اندر کا وہ چھپا ہوا آئینہ ہے جو اسے ہمیشہ بیدار رکھتا ہے۔ احساس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ "جو درد مجھے ہوتا ہے، وہی درد دوسرے کو بھی ہوتا ہے"۔ یہ جذبہ انسان کو روکتا ہے کہ اگر آج میں کسی کے ساتھ غلط کروں گا، تو کل مکافاتِ عمل کے تحت میرے ساتھ بھی غلط ہو سکتا ہے۔ احساس ہی دراصل ضمیر کی زندہ آواز ہے۔

موجودہ دور کا المیہ: نفرتوں کا بازار

میرے بھائیو! ہم سب سب سے پہلے ایک انسان ہیں، لیکن آج کا سب سے بڑا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کچھ انسان ہی انسانوں کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں۔ کسی کو دھرم (مذہب) کے نام پر مارا جا رہا ہے، تو کسی کو ذات پات اور برادری کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔

اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے: دنیا کا ایسا کون سا دھرم ہے جو بے گناہوں کے قتل کی اجازت دیتا ہے؟ دنیا کی کون سی مقدس کتاب ہے جو یہ سکھاتی ہے مذہب یا ذات کے نام پر کسی دوسرے انسان کا گلا کاٹ دو؟

دنیا کا کوئی بھی دھرم—نفرت نہیں سیکھتا خاص طور پر اسلام تو کسی بھی حالت میں نفرت نہیں سکھاتا اور دیگر مذاہب بھی نفرت نہیں سکھاتے جیسے ہندومت ہو، سکھ مت ہو یا عیسائیت—نفرت نہیں سکھاتا اور تمام مذاہب کی بنیاد خاص طور پر اسلام کی بنیاد امن، محبت اور انسانیت پر ہے۔ لیکن افسوس! آج کچھ مفاد پرست اور نفرتی لوگ اپنے ذاتی فائدے کے لیے بے قصور انسانوں کو دھرم کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں اور بھائی کو بھائی سے جدا کر رہے ہیں۔ ایسے نفرتی لوگ، جو اکثر جہالت اور کم عقلی کا شکار ہوتے ہیں، ہمارے پیارے ملک ہندوستان کے امن کو گہن لگا رہے ہیں۔

تاریخ کا سبق اور ہمارا شاندار ماضی

ذرا اپنے ماضی اور تاریخ کے صفحات کو پلٹ کر دیکھیے۔ جب اس ملک پر انگریزوں نے قبضہ کیا تھا، تو انہوں نے ہمیں بانٹنے کی بہت کوشش کی، لیکن جب ہم سب اپنی مذہبی شناختوں سے اوپر اٹھ کر صرف "ہندوستانی" بنے، تو ہماری اس طاقت کے آگے انگریزوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور انہیں یہاں سے بھاگنا پڑا۔

جب ہم ایک تھے، تو دنیا کی کسی طاقت میں یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ ہندوستان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔ یہ وہی ملک ہے جسے دنیا "سونے کی چڑیا" کہتی تھی اور یہاں کے امن و اتحاد کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ لیکن آج نفرت کی سیاست نے ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ ہم آپس میں ہی لڑ رہے ہیں، اور دنیا ہمیں حسرت اور افسوس کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔

آج دنیا کے دوسرے ممالک سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم ہندوستانی ابھی تک "ہندو-مسلم" کے جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس لڑائی سے کسی غریب کا بھلا نہیں ہو رہا، کسی کو روزگار نہیں مل رہا، بلکہ صرف اور صرف انسانیت کا نقصان ہو رہا ہے۔

انسانیت کا اصل پیغام اور ہمارا عہد

میرے بھائیو! اب بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں۔ اگر آج بھی ہم سب ایک ہو جائیں، آپس کے اختلافات کو بھلا کر متحد ہو جائیں، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جدا نہیں کر سکتی۔

انسانیت کیا ہے؟ انسانیت یہ نہیں کہ ہم کسی کی جان لیں۔ انسانیت یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ سامنے والا انسان کسی بھی دھرم یا ذات کا ہو، اگر وہ مصیبت میں ہے، تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی مدد کے لیے ہاتھ آگے بڑھائیں۔ اگر ہم مصیبت میں ہوں تو وہ ہماری مدد کرے۔

ہمارے ہندوستان کی سب سے بڑی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ یہاں گلدستے کی طرح ہر دھرم اور ثقافت کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ اس خوبصورتی کو چند مطلبی لوگ ختم کرنا چاہتے ہیں جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر آتے ہیں، مگر یاد رکھیے—نفرت پھیلانے والے اور دہشت گرد کا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔ جو دلوں کو توڑے وہ مذہبی ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ مذہب کا کام دلوں کو جوڑنا ہے، توڑنا نہیں۔

آئیے عہد کریں کہ ہم نفرت کا جواب محبت سے دیں گے، علم اور ادب کو اپنا ہتھیار بنائیں گے، اور اس ملک کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنائیں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!