Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

الکحل (شرعی حکم)

الکحل
عنوان: الکحل
تحریر: حضرت مولانا مفتی مجیب الاسلام صاحب نسیم اعظمی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

الکحل (شرعی حکم اور اطباء و دواؤں میں استعمال)

اس میں شک نہیں کہ خمر (شراب) بالمعنی الحقیقی بنفسہ قطعی حرام ہے، جس کی حلت کا قائل کافر ہے۔ مگر خمر کا مفہوم متعین کرنا ضروری ہے۔ ائمہ کرام کے نزدیک انگور سے تیار شدہ شراب بالمعنی الحقیقی خمر ہے، جبکہ دیگر اشیاء (کھجور، جو وغیرہ) سے تیار کردہ مشروبات میں فقہی تفصیلات ہیں۔ آج کل ادویات اور دیگر کیمیائی مرکبات میں استعمال ہونے والی "الکحل" یا "اسپرٹ" کا مسئلہ بھی انہی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

امامِ اہلسنت کا نقطہ نظر اور اصولی بحث

امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے فتاویٰ رضویہ میں اسپرٹ کو شراب کے حکم میں فرمایا ہے، مگر ساتھ ہی فقہی اصولوں کی روشنی میں عملی صورتِ حال کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔ اس سلسلے میں چند اہم نکات یہ ہیں:

  • عمومِ بلویٰ اور تعامل: امامِ اہلسنت نے جہاں نجاستِ قطعیہ کے معاملے میں بھی "ابتلائے عام" (عام لوگوں کی مجبوری) کی وجہ سے راہِ تخفیف نکالی ہے، وہیں آج کے دور میں انگریزی ادویات کے استعمال میں بھی اسی اصول کا اطلاق ہوتا ہے۔
  • تداوی بالنجس (ناپاک چیز سے علاج): شرعی اصول یہ ہے کہ ناجائز چیز دوا کے لیے استعمال کرنا تب جائز ہے جب اس کے سوا کوئی مباح دوا نہ ملے اور یہ کسی ماہر مسلمان طبیب کے مشورے سے ہو، مگر موجودہ حالات میں اس کی شدید کمی ہے۔
  • الضرورات تبیح المحظورات: آج کل کے طبی نظام، بالخصوص انجیکشنز اور ادویات میں الکحل کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، اور تجربے سے ثابت ہے کہ یہ ادویات وبائی امراض کے دفعیے میں مفید ہیں۔

خلاصہِ کلام

مفتی مجیب الاسلام صاحب کا استدلال یہ ہے کہ آج کے دور میں انگریزی ادویات اور الکحل کا استعمال عمومِ بلویٰ (عام ضرورت) کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ اگر ان ادویات کے استعمال پر عدمِ جواز کا فتویٰ دیا جائے تو پوری امتِ مسلمہ فسق و فجور کے حکم میں آ جائے گی، کیونکہ ہر طبقہ (عوام و خواص یہاں تک کہ علماء بھی) بلا استثناء ان ادویات کا محتاج ہے۔ لہٰذا، ایسے مسائل میں علمائے کرام کو زمانہ کے تغیر کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کی مشکلات پر نگاہِ توجہ فرمانی چاہیے تاکہ انہیں بلاوجہ گناہ گار اور فاسق قرار دینے سے بچایا جا سکے۔

امامِ اہلسنت قدس سرہ نے تحقیقِ حق کا حق ادا فرمایا، مگر زمانہ کے تغیر سے مسائل میں تغیر کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ بعض مسائل میں، جہاں پرانے مسائل مفقود ہوں، علمائے کرام کا یہ حق ہے کہ وہ بدلتے حالات کے پیشِ نظر فتویٰ صادر فرمائیں، کیونکہ "جو اپنے زمانے کے لوگوں کو نہیں پہچانتا، وہ جاہل ہے۔"

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!