| عنوان: | شرک کی مذمت احادیث کی روشنی میں |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
اسلام کی بنیاد توحید پر قائم ہے، سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام کی شریعتوں میں بعض چیزیں ایسی گزری ہیں کہ جن میں سے ایک چیز ایک شریعت میں جائز ہوتی جبکہ وہی چیز دوسری شریعت میں منع و حرام ہوا کرتی تھی لیکن شرک ایک ایسا گھناؤنا فعل ہے کہ جو کسی ایک شریعت میں بھی ایک لمحے کے کروڑویں حصے کے لیے بھی جائز قرار نہیں دیا گیا۔ جائز قرار بھی کیسے دیا جا سکتا تھا کہ شرک تو اکبر الکبائر (کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ) ہے۔ اور توحید کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ ہر قسم کی عبادت، استعانت، خوف، امید، محبت اور اطاعت میں صرف اللہ تعالیٰ کو واحد مانے۔ اس کے برعکس شرک ایسا عظیم جرم ہے جو انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتا ہے، اعمال کو ضائع کر دیتا ہے اور اگر توبہ کے بغیر موت آئے تو ہمیشہ کے لیے جہنم کا سبب بن جاتا ہے۔
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر شرک کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے، اور احادیث مبارکہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔
شرک ایمان کی ضد ہے۔ جیسے اندھیرا اجالا، رات دن ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ایسے ہی شرک اور ایمان اسلام کی چھتری کے نیچے ہرگز ہرگز جمع نہیں ہو سکتے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام شرک کی مذمت بیان کرتے آئے، اولیا و صالحین نے بھی اس کی ہولناکی کو بیان فرمایا جیسا کہ حضرت حکیم لقمان رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے بیٹے کو یوں نصیحت فرمائی چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
ترجمہ کنزالایمان: اے میرے بیٹے اللہ کا کسی کو شریک نہ کرنا۔ بےشک شرک بڑا ظلم ہے۔ [پ: 21، سورۃ لقمان: 13]
شرک ایسی بیماری ہے کہ جو بندے پر جنت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کروا دیتی ہے اور دوزخ کو دائمی ٹھکانا بنا دیتی ہے جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ
ترجمہ کنزالایمان: بے شک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ [پ: 6، سورۃ المائدہ: 72]
زیر نظر مضمون میں احادیث نبویہ کی روشنی میں شرک کی حقیقت، اس کی اقسام، اس کی سنگینی اور اس سے بچنے کے اسباب کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔
شرک کا لغوی مفہوم
عربی زبان میں شرک کا مادہ (ش ر ك) ہے، جس کے معنی ہیں: کسی کو کسی کا شریک اور برابر ٹھہرانا۔
شرک کا اصطلاحی مفہوم
شرک کی تعریف: لغت کی مشہور کتاب لسان العرب میں ہے:
وَأَشْرَكَ بِاللَّهِ: جَعَلَ لَهُ شَرِيكًا فِي مُلْكِهِ، تَعَالَى اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ..، وَالشِّرْكُ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ شَرِيكًا فِي رُبُوبِيَّتِهِ، تَعَالَى اللَّهُ عَنِ الشُّرَكَاءِ وَالْأَنْدَادِ..، لِأَنَّ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَلَا نِدَّ لَهُ وَلَا نَدِيدَ.
یعنی جب اشرک باللہ (اس نے اللہ پاک سے شرک کیا) کہا جائے تو اس کا معنی ہوتا ہے: اس نے کسی اور کو اللہ پاک کے ملک میں شریک بنا دیا حالانکہ اللہ کریم اس سے بلند و برتر ہے۔ شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ پاک کے رب ہونے میں کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اللہ کریم کی ذات شریکوں اور ہمسروں سے پاک ہے کیونکہ اللہ پاک واحد ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ اس کی کوئی نظیر ہے اور نہ ہی کوئی مثل۔ [لسان العرب، ج: 1، ص: 2023]
دینی مدارس میں سبقاً پڑھائی جانے والی عقائد کی مشہور کتاب “شرح عقائد نسفیہ” میں حضرت علامہ سعدالدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
اَلْإِشْرَاكُ هُوَ إِثْبَاتُ الشَّرِيكِ فِي الْأُلُوهِيَّةِ، بِمَعْنَى وُجُوبِ الْوُجُودِ كَمَا لِلْمَجُوسِ، أَوْ بِمَعْنَى اسْتِحْقَاقِ الْعِبَادَةِ كَمَا لِعَبَدَةِ الْأَصْنَامِ.
یعنی مجوسیوں (آگ کی عبادت کرنے والوں) کی طرح کسی کو واجب الوجود جان کر الوہیت میں شریک کرنا یا بت پرستوں کی طرح کسی کو عبادت کا حقدار سمجھنا شرک کرنا کہلاتا ہے۔ [شرح عقائد نسفیہ، ص: 203]
حضرت امام سعدالدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ شرک کے لیے تین صورتوں میں سے کسی ایک کا پایا جانا ضروری ہے:
-
غیر خدا کو واجب الوجود ماننا (یعنی جس کا ہونا ضروری اور نہ ہونا محال ہو) اگرچہ عبادت کے لائق نہ سمجھے یہ شرک ہے۔
-
غیر خدا کو عبادت کا مستحق سمجھنا اگرچہ واجب الوجود ہونے کا عقیدہ نہ رکھے۔
-
غیر خدا کو واجب الوجود بھی مانے اور اسے عبادت کا مستحق بھی سمجھے۔
ان تین صورتوں میں سے کوئی ایک بھی پائی گئی تو شرک پایا جائے گا، اگر ان میں سے کوئی ایک صورت بھی نہ پائی جائے تو ایسی صورت شرک کے علاوہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں شرک سے مراد یہ ہے: اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، حقوق یا عبادات میں کسی کو شریک ٹھہرانا۔
اَلشِّرْكُ هُوَ إِثْبَاتُ شَرِيكٍ لِلَّهِ تَعَالَى فِي أُلُوهِيَّتِهِ.
شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں کسی کو شریک مانا جائے۔
شرک کی اقسام
علمائے کرام نے شرک کی متعدد اقسام بیان فرمائی ہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں:
-
شرک اکبر: وہ شرک جو انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے، جیسے کسی غیر اللہ کو سجدہ کرنا یا اللہ کے سوا کسی کو عبادت کے لائق سمجھنا۔
-
شرک اصغر: وہ اعمال جو شرک اکبر تک نہیں پہنچتے مگر شرک سے مشابہ ہوتے ہیں، مثلاً ریاکاری (دکھاوے کے لیے عبادت کرنا)۔
-
شرک خفی: وہ شرک جو دل میں پوشیدہ ہو، جیسے لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے عبادت کرنا۔
احادیث مبارکہ کی روشنی میں شرک کی مذمت
پہلی حدیث
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یوں نصیحت فرمائی:
لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ.
یعنی اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ ٹھہرا اگرچہ تجھے قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جائے۔ [مسند امام احمد، رقم الحدیث: 22136، ج: 8، ص: 249]
دوسری حدیث
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ.
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ [صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4477]
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ تمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک ہے، کیونکہ یہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی توحید پر حملہ ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمام کبیرہ گناہوں پر مقدم فرمایا۔
تیسری حدیث
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ.
ترجمہ: جو شخص اس حال میں اللہ سے ملے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جو شرک کی حالت میں مرے گا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ [صحیح مسلم، رقم الحدیث: 93، ص: 271]
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ نجات کی اصل بنیاد خالص توحید ہے، جبکہ شرک انسان کو ہمیشہ کی تباہی میں مبتلا کر دیتا ہے اگر وہ توبہ کیے بغیر مر جائے۔
چوتھی حدیث
حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ.
صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلرِّيَاءُ.
مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرک اصغر ہے۔ صحابہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریاکاری۔ [مسند احمد، رقم الحدیث: 23630]
پانچویں حدیث
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا، ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا، لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً.
ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر گناہوں کے ساتھ میرے پاس آئے، پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں بھی تجھے اتنی ہی مغفرت عطا کروں گا۔ [جامع الترمذی، رقم الحدیث: 3540]
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ توحید ایسی عظیم نعمت ہے کہ اس کی برکت سے بندہ اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت کا مستحق بن جاتا ہے، بشرطیکہ وہ شرک سے محفوظ رہے۔
چھٹی حدیث
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ.
صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ سات ہلاک کرنے والے گناہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلشِّرْكُ بِاللَّهِ.
ترجمہ: سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ [صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2766، صحیح مسلم، رقم الحدیث: 89، ص: 263]
اس حدیث پاک میں شرک کو ان گناہوں میں سب سے پہلے ذکر کیا گیا جو انسان کو دنیا و آخرت میں تباہ کر دیتے ہیں۔
شرک کے نقصانات
شرک انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے چند بڑے نقصانات درج ذیل ہیں:
-
تمام نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔
-
اللہ تعالیٰ کی مغفرت سے محرومی ہوتی ہے اگر توبہ نہ کرے۔
-
جنت حرام ہو جاتی ہے۔
-
ہمیشہ کی جہنم کا سبب بنتا ہے۔
-
دل سے ایمان کی روشنی ختم ہو جاتی ہے۔
-
انسان اللہ کی مدد اور نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔
-
معاشرے میں گمراہی اور باطل عقائد پھیلتے ہیں۔
شرک سے بچنے کے اسباب
-
قرآن مجید کا باقاعدہ مطالعہ کرنا۔
-
عقائد اہل سنت کا علم حاصل کرنا۔
-
احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرنا۔
-
علمائے اہل سنت کی صحبت اختیار کرنا۔
-
ہر قسم کے شرکیہ اعمال سے اجتناب کرنا۔
-
ہر کام میں اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنا۔
-
اخلاص کے ساتھ عبادت کرنا۔
عصر حاضر میں شرکیہ امور سے اجتناب
آج کے دور میں مسلمان کو ہر اس عمل سے بچنا چاہیے جو شرک یا شرک سے مشابہ ہو، مثلاً:
-
غیر اللہ کو خدا کے برابر سمجھنا۔
-
کسی مخلوق کو مستقل نفع و نقصان کا مالک سمجھنا۔
-
عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص نہ رکھنا۔
-
ریاکاری اور دکھاوے کے لیے عبادت کرنا۔
البتہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے کرام اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں، ان کی تعظیم، محبت اور ان کے وسیلے سے دعا کرنا (توسل) عبادت نہیں، اس لیے اسے شرک قرار دینا درست نہیں۔ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کی جاتی ہے، جبکہ انبیاء و اولیاء کا احترام اور ان سے مشروع طریقے سے توسل اہل سنت کے نزدیک جائز ہے۔
لب لباب
اسلام کا بنیادی عقیدہ توحید ہے، اور شرک اس کی ضد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری حیات مبارکہ میں امت کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عقائد کو قرآن و سنت کے مطابق درست رکھے، شرک کی تمام اقسام سے بچے، اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اپنی زندگی کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق گزارے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ، کامل توحید، اخلاص عمل اور ہر قسم کے شرک جلی و خفی سے محفوظ فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
