| عنوان: | فتاویٰ و رسائل رضویہ کی خصوصیات (قسط: پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا مفتی محمد کمال الدین مصباحی اشرفی |
| پیش کش: | عائشہ صدیقہ بنت مجیب احمد |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
رسائل رضویہ کی چار اہم خصوصیات
امام احمد رضا قدس سرہ کا یہ معمول تھا کہ اگر کسی سوال کا جواب زیادہ تفصیل سے دینا ہوتا ہے تو اس کو مستقل رسالے کی شکل دے دیتے تھے اور باقاعدہ اس کا نام رکھتے تھے۔ اور یہ نام اس قدر موزوں، مناسب اور واقع کے مطابق ہوتا کہ پڑھنے والا امام احمد رضا قدس سرہ کی فقہی دسترس اور سائل پر حیران رہ جاتا ہے۔ ہر نام میں مندرجہ ذیل چار خصوصیات پائی جاتی ہیں:
(1)۔ ہر نام عربی میں ہوتا ہے خواہ وہ رسالہ کسی بھی زبان میں ہو۔
(2)۔ ہر نام دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں حصوں کا آخری حرف ایک ہی ہوتا ہے یعنی سجع کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔
(3)۔ ہر نام اسم با مسمیٰ ہوتا ہے یعنی نام ہی سے پتا چل جاتا ہے کہ اس رسالے کا موضوع کیا ہے۔
(4)۔ ہر نام تاریخی ہوتا ہے یعنی ابجد کے حساب سے اگر اس کے حروف کے اعداد نکالے جائیں تو ان کا مجموعہ اس سن پر دلالت کرتا ہے جس سن میں وہ رسالہ تحریر کیا گیا ہے۔
یہاں پر بطورِ نمونہ جلدِ اول سے صرف تین رسالوں کے نام ہدیۂ ناظرین ہیں جن سے ہمارے دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے:
(1)۔ اگر امام اعظم ابو حنیفہ اور صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد) و متاخرین فقہا کا کسی مسئلے میں اختلاف ہو جائے تو اس صورت میں کس کے قول پر فتویٰ ہوگا؟ امام اعظم کے قول پر یا صاحبین کے قول پر؟ یا دیگر فقہائے احناف کے قول پر؟ یا بعض معمولات میں امام اعظم ابو حنیفہ کے قول پر اور بعض میں صاحبین و امام ابو یوسف و امام محمد کے قول پر اور بعض میں دیگر فقہائے احناف کے قول پر؟ اس مسئلے کی توضیح کے لیے امام احمد رضا قدس سرہ نے جو رسالہ تحریر فرمایا اس کے نام سے اس بات کی تحقیق واضح ہو جاتی ہے کہ وہ یہ ہے:
أَجْلَى الْإِعْلَامِ أَنَّ الْفَتْوَى مُطْلَقًا عَلَى قَوْلِ الْإِمَامِ
واضح اعلان کہ فتویٰ بہر صورت امام ابو حنیفہ کے قول پر ہے۔
(2)۔ کون سی نیند ناقضِ وضو ہے اور کون سی نہیں، اس کی تفصیلات سے امتِ مسلمہ کو آگاہ کرنے کے لیے آپ نے ایک رسالہ تحریر فرمایا اور اس کا نام یہ رکھا:
نَبَّهَ الْقَوْمَ أَنَّ الْوُضُوءَ مِنْ أَيِّ النَّوْمِ
(3)۔ حالتِ جنابت میں قراءت جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کن صورتوں میں؟ ان مسائل سے متعلق آپ نے ایک رسالہ قلم بند کیا اور اس کا نام یہ رکھا:
ارْتِفَاعُ الْحُجُبِ عَنْ وُجُوهِ قِرَاءَةِ الْجُنُبِ
پردوں کا اٹھ جانا ان تمام صورتوں میں جو جنبی کی قراءت سے متعلق ہیں۔
تینوں رسالوں کے نام مندرجہ بالا چاروں خصوصیات کے جامع ہیں۔ یہاں پر ہم صرف رسالہ “نَبَّهَ الْقَوْمَ أَنَّ الْوُضُوءَ مِنْ أَيِّ النَّوْمِ” کے اعداد کا استخراج کر کے اس کی کچھ جھلکیاں ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں۔ باقی رسالوں کا قیاس اسی پر کر لیں۔
نَبَّهَ الْقَوْمَ: (ن: 50) (ب: 2) (ہ: 5) (ا: 1) (ل: 30) (ق: 100) (و: 6) (م: 40) = 234
أَنَّ الْوُضُوءَ مِنْ أَيِّ النَّوْمِ: (ا: 1) (ن: 50) (ا: 1) (ل: 30) (و: 6) (ض: 800) (و: 6) (م: 40) (ن: 50) (ا: 1) (ی: 10) (ا: 1) (ل: 30) (ن: 50) (و: 6) (م: 40) = 1091
مجموعی اعداد: 1091 + 234 = 1325
اس رسالے کے مجموعی اعداد 1325 ہوئے اور یہی سنِ تاریخ اور سنِ تالیف ہے۔ یہ فتاویٰ رضویہ کے اندر ایسی خوبی ہے جس کی نظیر دیگر فتاوے اور فقہ کی کتابوں میں نہیں ملتی۔
متعارض اقوال میں تطبیق یا ترجیح
مختلف اقوال میں صحیح تطبیق اور ان سب کا ایسا معنیٰ بیان کر دینا جس سے سرے سے اختلاف ہی رفع ہو جائے اور سب معنیٰ مناسب صورتوں کے موافق ہو جائیں تو یہی اہم اور مشکل ترین امر ہے۔ بڑے بڑے اصحابِ علم و فضل اور میدانِ تحقیق کے شہسوار بھی اس وصف سے تہی دامن اور خالی نظر آتے ہیں لیکن اس تعلق سے جب آپ فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو یہ بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ امام احمد رضا قدس سرہ نے فکرِ عمیق کے ساتھ اپنی تحقیقِ انیق کے ذریعے کثیر متعارض دلائل میں ایسی تطبیق پیش کی ہے کہ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد قاری کو بلا تامل یہ کہنا پڑے گا کہ اس سلسلے میں فتاویٰ رضویہ دیگر کتبِ فتاویٰ میں ایک امتیازی شان رکھتی ہے۔ اس کی متعدد نظیریں فتاویٰ رضویہ کی مختلف جلدوں میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ یہاں پر فتاویٰ رضویہ جلدِ اول سے اسراف فی الوضو کے تعلق سے اور جلدِ ثانی سے جمع بین الصلاتین کے تعلق سے چند اقتباسات ہدیۂ ناظرین ہیں۔
اسراف فی الوضو کے اقوال میں تطبیق
بلا ضرورت وضو میں پانی خرچ کرنے کے بارے میں فقہائے متقدمین کی عبارتوں میں شدید اختلاف و اضطراب ہے۔ چنانچہ علامہ حلبی رحمۃ اللہ علیہ نے غنیہ اور علامہ طحطاوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح درمختار میں بلا ضرورت پانی صرف کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ علامہ علاء الدین حصکفی نے درمختار شرح تنویر الابصار میں مکروہِ تحریمی اور علامہ ابنِ نجیم نے بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں مکروہِ تنزیہی قرار دیا ہے اور محقق علامہ کمال الدین رحمۃ اللہ علیہ نے فتح القدیر میں خلافِ اولیٰ ہونے پر جزم کیا ہے۔ غرض کہ اس سلسلے میں فقہائے متقدمین کے مابین چار اقوال ہیں: حرام، مکروہِ تحریمی، مکروہِ تنزیہی اور خلافِ اولیٰ جس کی پوری تفصیل مذکورہ کتب میں دیکھی جا سکتی ہے اور امام احمد رضا قدس سرہ نے بھی فتاویٰ رضویہ کی جلدِ اول میں ص 126 سے لے کر ص 206 تک پورے بسط و تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
فقہائے اربعہ کے یہ چاروں اقوال بظاہر متضاد نظر آتے ہیں لہٰذا امام احمد رضا قدس سرہ نے ان چاروں اقوال کے درمیان تطبیق پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ ان میں کوئی تعارض نہیں۔ لہٰذا آپ نے اپنے فتاویٰ میں ان کی جو تطبیق پیش کی ہے وہ یہ ہے:
(1)۔ حرام: بے حاجت زیادت اگر بہ اعتقادِ سنیت ہو تو مطلقاً ناجائز و گناہ ہے اگرچہ دریا میں ہو۔
(2)۔ مکروہِ تحریمی: اور بلا اعتقادِ سنیت و بلا ضرورت وضو میں پانی اس طرح خرچ کرے کہ وہ پانی ضائع ہو جائے تو یہ بھی مطلقاً ممنوع و مکروہِ تحریمی ہے۔
(3)۔ مکروہِ تنزیہی: نہ سنیت کا عقیدہ ہو اور نہ پانی ضائع کرنے کا ارادہ لیکن عادتاً بلا ضرورت پانی خرچ کرتے ہوں۔
(4)۔ خلافِ اولیٰ: اعتقادِ سنیت ہو نہ اضاعتِ ماء اور نہ بلا ضرورت خرچ کرنے کی عادت ہو لیکن نادراً بلا ضرورت پانی خرچ کریں تو خلافِ ادب ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 1، ص: 207، مطبوعہ رضا اکیڈمی، ممبئی]
اس کے بعد امام احمد رضا قدس سرہ اللہ رب العزت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: “یہ ہے بحمدہٖ تعالیٰ فقہِ جامع، و فکرِ نافع، اور درکِ مانع، و نورِ بارع، و کمالِ توفیق، و جمالِ تطبیق، حسنِ تحقیق، و عطرِ دقیق و باللہ التوفیق والحمد للہ رب العالمین”۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 1، ص: 208، مطبوعہ رضا اکیڈمی]
جدید مسائل اور غیر منصوص احکام کا استنباط
احکام کا استنباط اگرچہ مجتہد کی ذمہ داری ہے لیکن نو پید اور جدید مسائل اور معاملات کے تعلق سے فقہائے کرام کا ہمیشہ سے یہ معمول چلا آ رہا ہے کہ انہوں نے کتاب و سنت اور فقہائے احناف کے طے کردہ اصول و ضوابط اور قاعدۂ کلیہ کی روشنی میں مسائلِ جدیدہ کا حل اور ان کے احکام کا استنباط اور استخراج کیا ہے۔ لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں کہ حدیث و فقہ کی چند کتابوں کا مطالعہ کرنے والے ہر عالمِ دین کو ان نو پید مسائل کے احکام تک رسائی ہو جائے اور وہ اس کی تہہ تک پہنچ کر اس کے حکمِ شرعی کی تلاش و تتبع کر لے بلکہ اس کا حق صرف اسی کو پہنچتا ہے جو اس منصبِ جلیل کے لیے ضروری شرائط اور علوم و فنون کا جامع ہو۔
امام احمد رضا قدس سرہ کو بلا شبہ جملہ علوم و فنون میں مہارتِ تامہ حاصل تھی اور علمِ فقہ میں تو آپ یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ نورِ فقاہت اور استنباط و استخراج کے ملکۂ راسخہ سے آپ سرفراز تھے۔ ایک فقیہ کے لیے جتنے علوم و فنون کی ضرورت ہوتی ہے ان میں نہ صرف یہ کہ آپ واقفیت رکھتے تھے بلکہ کامل دسترس اور گہری نظر رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی خداداد صلاحیت اور بے مثال ذہانت و فطانت سے ایسے جدید اور نئے مسائل جن کے احکام سابقہ کتب میں مذکور نہیں ہوئے تھے اپنی حیرت انگیز علمی تحقیق اور قوتِ اجتہادی سے ان کے احکام کا استخراج کیا اور امتِ مسلمہ کو ان کے حکمِ شرعی سے آگاہ کیا۔ اس کی بے شمار مثالیں فتاویٰ رضویہ کی مختلف جلدوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہاں صرف چند شواہد ہدیۂ ناظرین ہیں:
خط، جنتری و تار وغیرہ کا حکمِ شرعی
پہلے زمانے میں تار، ٹیلیفون، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور جنتری وغیرہ کا وجود نہیں تھا اور نہ ہی مراسلات کے یہ نئے طور و طریقے تھے۔ خطوط کی آمد و رفت بھی بہت کم تھی جس کی وجہ سے ایک جگہ کی رویتِ ہلال کی خبر دوسری جگہ بہت دیر سے پہنچتی تھی۔ لیکن جوں جوں رفتہ رفتہ زمانہ ترقی کرتا گیا اور سائنس کا فروغ و ارتقا ہوا تو یہ تمام چیزیں معرضِ وجود میں آئیں اور ان آلات کے ذریعے نشر و اشاعت کا کام بہت تیز تر ہونے لگا۔ چند گھنٹوں اور منٹوں میں ایک جگہ کی خبر پوری دنیا میں پھیلنے لگی اور لوگوں نے بھی اپنے روز مرہ کے معاملات میں مذکورہ آلات کے ذریعے نشر کی جانے والی خبروں کو معتبر ماننا شروع کر دیا پھر یہ سلسلہ آگے بڑھا اور عبادات کو معاملات پر قیاس کر کے عبادات کے باب میں بھی قومِ مسلم ان خبروں کا اعتبار کرنے لگی۔
امام احمد رضا قدس سرہ نے عوام کے اس وہم کو دور کرنے کے لیے اور شریعت کے صحیح موقف کے تعین کے لیے متعدد رسالے تصنیف فرمائے جو کہ فتاویٰ رضویہ میں کثیر صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ نے احادیثِ کریمہ اور ارشاداتِ فقہاء سے نہایت واضح طریقے پر یہ ثابت کیا کہ ثبوتِ ہلال کے باب میں خط، ٹیلیفون، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اس سے ہم مل دیگر جدید ذرائع ابلاغ کے توسط سے جو خبریں حاصل ہوتی ہیں وہ شرعاً معتبر نہیں۔ بلکہ چاند کی رویت پر عمل کرنا اُسی وقت واجب ہے جب کہ وہ بہ طریقِ شرعی ثابت ہو۔ پھر آپ نے ثبوتِ ہلال کا صحیح طریقہ بتایا اور یہ تنبیہ کی کہ ان کے علاوہ خطوط اور اخبار و تار و جنتری وغیرہ کے ذریعے یا یوں ہی قیاس و قرائن اور اختراعی قاعدوں سے چاند کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔
بندوق کے ذریعے شکار کا حکم
حلال جانوروں کا گوشت کھانا اسی وقت جائز ہے جب کہ وہ صحیح شرعی طریقے سے ذبح کیے گئے ہوں۔ جو جانور ہمارے قابو میں ہیں ان کو ذبح کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے لیکن جو جانور ہمارے قبضے سے باہر ہیں ان کو ذبح کرنے کا طریقہ پہلے سے کچھ الگ تھلگ ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کہیں دوری سے جانور پر تیر یا نیزے سے حملہ کیا جاتا ہے اور وہ ہمارے خوف سے کہیں دوسری جگہ بے جان ہو کر زمین پر گر پڑتا ہے۔ لہٰذا اگر تمام جانوروں کے لیے ذبح کا مخصوص طریقہ جو مسلمانوں میں رائج ہے وہی شرط قرار دیا جائے تو شکار سے بہت کم جانور ہماری غذا کے لیے میسر ہوں گے۔ اس لیے فقہائے کرام نے ذبح کی دو قسمیں کی ہیں: (1)۔ ذبحِ اختیاری (2)۔ ذبحِ اضطراری۔
(1)۔ ذبحِ اختیاری: یہ ہے کہ جانور کی گردن کا اتنا حصہ کسی دھار دار چیز سے کاٹا جائے کہ اس کی درج ذیل چار رگیں کٹ جائیں:
(1)۔ وہ رگ جس سے کھانا اندر جاتا ہے۔ (2)۔ وہ رگ جس سے سانس کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ (3۔4)۔ وہ رگیں جن سے خون کا جریان رہتا ہے۔ اور اگر یہ چار رگیں نہ کٹیں تو کم از کم پہلے کی دونوں اور خون کی دو رگوں میں سے کوئی ایک ضرور کٹے۔
(2)۔ ذبحِ اضطراری: یہ ہے کہ کسی دھار دار آلے کو بسم اللہ پڑھ کر جانور پر پھینکا جائے جو اس کے جسم سے کسی حصے کو کاٹ دے۔ لہٰذا صورتِ ثانی میں اگر کسی جانور کو بسم اللہ پڑھ کر تیر مارا گیا اور تیر جانور کو زخمی کر گیا، پھر وہ جانور بھاگا اور شکاری اس کے قریب پہنچا اور مرا ہوا پایا تو اس جانور کا کھانا حلال ہے کیونکہ ذبحِ اختیاری پر جب قدرت نہیں تھی تو اس کا قائم مقام ذبحِ اضطراری پا لیا گیا لہٰذا اس کا کھانا حلال ہے۔
یہ حکم تو تھا تیر اور نیزے کے ذریعے زخمی شدہ جانور کے بارے میں لیکن بندوق کے ذریعے شکار شدہ جانور کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟ کہ اگر بسم اللہ پڑھ کر فائرنگ کی جائے اور گولی لگنے سے جانور گر جائے تو اس کا کھانا حلال ہوگا یا حرام؟ اس سلسلے میں قرآن مجید، احادیثِ کریمہ، ائمہ مجتہدین کے ارشادات اور فقہائے کرام کے اقوال میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے، کیونکہ اس زمانے میں بندوق کی ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ بندوق کی ایجاد تو 1526ء میں بابر کے زمانے میں ہوئی اور سب سے پہلے بندوق کا استعمال بابر بادشاہ ہی نے کیا جیسا کہ تاریخِ ہند کے مطالعے سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔
ایسے سنگین ماحول میں امام احمد رضا قدس سرہ نے اس جدید مسئلے کا حکم استخراج کیا اور یہ ثابت کیا کہ بندوق کی گولی سے مارا ہوا شکار مطلقاً حرام ہے۔ اس کو تیر اور نیزے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا بلکہ دونوں کا حکم الگ الگ ہے۔ اس سلسلے میں امام احمد رضا قدس سرہ سے استفتاء اور آپ کا مدلل و مفصل جواب ہدیۂ ناظرین ہے۔
